اعظم سواتی نے 25 دن پہلے بھی مستعفی ہونے کی پیشکش کی تھی:نعیم الحق

اعظم سواتی نے 25 دن پہلے بھی مستعفی ہونے کی پیشکش کی تھی:نعیم الحق
تصویر بشکریہ ٹوئٹر

اسلام آباد :وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق نے کہا ہے کہ اعظم سواتی نے تو 20,25 دن پہلے بھی مستعفی ہونے کی پیشکش کی تھی جسے پارٹی نے اس وقت قبول نہیں کیا تھا کیونکہ ابھی کوئی جے آئی ٹی بھی نہیں بنی تھی۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اعظم سواتی کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے، فیصلہ آنے تک اعظم سواتی وزارت سے الگ رہیں گے اور اگر فیصلہ ان کے حق میں آیا تو اعظم سواتی دوبارہ وفاقی وزیر ہو ںگے۔

انہوں نے کہا کہ اعظم سواتی کا استعفیٰ نئے پاکستان کی حقیقی مثال ہے جہاں کوئی بھی ایسا شخص عوامی نمائندہ نہیں رہ سکتا جس کے خلاف عدالت میں کوئی کیس دائر ہے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ حکومت عدالت کی جانب سے آنے والے فیصلے پر عملدرآمد کرے گی چاہے وہ ان کے حق میں آئے یا ان کے خلاف۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے جو ایک جے آئی ٹی مقرر کی تھی اس میں آئی جی کے معاملے کے علاوہ جس چیز کو زیادہ اہمیت دی ہے وہ اعظم سواتی کے مالی معاملات ہیں.

اعظم سواتی کا موقف تھا کہ وہ دباﺅ کے باعث اپنی وزارتی ذمہ داریاں ٹھیک طرح سے ادا نہیں کر پا رہے اس لیے وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہونا چاہتے ہیں جس پر وزیراعظم عمران خان نے ان کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔