کیا نیب ختم ہوجانا چاہیے؟

کیا نیب ختم ہوجانا چاہیے؟

یہ بات شاہد خاقان عباسی نے کی جو نیب کورٹ سے سترہویں پیشی بھگت کے نکلے اوراس سے پہلے خواجہ سعد رفیق نے،جو اپنے بھائی کے ساتھ نیب کی ایسی حراست بھگت چکے ہیں جسے سپریم کورٹ نے اس ادارے کی ٹکا کے بے عزتی کرتے ہوئے ختم کیا تھا، ریلوے افسران کے بارے کہا جنہیں شیخ رشید کے دور میں جیلوں میں بھیج دیا گیا مگر نکلا کچھ بھی نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس ادارے نے اپنی دہشت گردی سے پی ٹی آئی کے دور میں بیوروکریسی کو جائز اور ضروری کاموں سے بھی روکے رکھا یہاں تک کہ عمران خان کو لاہو ر آ کے افسران کو تحفظ کی پرسنل گارنٹی دینی پڑی۔ یہ وہ ادارہ ہے جو عمران خان کے دور میں نواز لیگ کے لئے ننگی تلوار بنا ہوا تھا۔ اس کے چئیرمین کی جہاں بے شرمی والی ذاتی ویڈیوز آ رہی تھیں وہاں اس کی پروفیشنل معاملات میں بے شرمی کا یہ عالم تھا کہ اس نے جیل میں بند سابق وزیراعظم کی بیٹی کو ان سے ملاقات کرتے ہوئے ایک ایسے الزام میں گرفتار کر لیا اور پھانسی کی چکی میں بند رکھا جس کا مقدمہ بھی آج تک درج نہیں ہوا۔ اگر ہم کسی مہذب ملک میں ہوتے تو اس ادارے کاسربراہ نہ صرف مستعفی ہوتا بلکہ شائد اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے خود کشی کر چکا ہوتا مگر یہ ادارہ بھی موجود ہے اور وہ لوگ بھی جو انتہائی بے شرمی کے ساتھ آج بھی نوے روزکے ریمانڈ کا بھی دفاع کرتے ہیں اوراحتساب عدالت کے پاس ضمانت نہ ہونے کے اختیار کا بھی۔

ساری کتابی باتیں اور اچھی باتیں واقعی اچھی نہیں ہوتیں اور اس کا اطلاق نیب پر سوفیصد ہوتا ہے مگر میرا سوال ان دونوں تجربہ کار سیاسی رہنماوں سے ہے کہ اگر نیب ختم بھی ہوجائے گا تو کیا سیاسی انتقام اور ریاستی اختیارات کا غلط استعمال رک جائے گا۔ میں تو ایسا ہرگز نہیں سمجھتا۔ ویسے ہمیں اپنی تاریخ تھوڑ ی سی درست کرلینی چاہئے اور جان لینا چاہئے کہ نیب پرویز مشرف کی ایجاد و اختراع ہرگز نہیں تھا بلکہ سب سے پہلے احتساب کا آرڈیننس پیپلزپارٹی سے بغاوت کرنے والے صدر فاروق احمد لغاری نے جاری کیا تھا اور اس وقت جاری کیا تھا جب اس نے بے وفائی کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو کی حکومت توڑی تھی۔ یہ کام 1996 میں ہوا تھا اور فروری 1997 میں دو تہائی اکثریت کے قریب اقتدار والے وزیراعظم نواز شریف نے اس آرڈیننس کو ایکٹ میں بدل دیا تھا۔ فاروق احمد خان لغاری نے پیپلزپارٹی کی گردن دبانے کے لئے اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سے جو شکنجہ بنایا تھا وہ کام کرتا رہا۔ نواز شریف نے اپنے پیارے سیف الرحمان کو پہلے احتساب سیل اور پھر احتساب بیورو کا سربراہ بنایا۔ اس احتساب بیورو نے جسٹس قیوم کے ذریعے بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کو ایس جی ایس اورکوٹیکنا کے ریفرنسز میں سزائیں دلوائیں اور پھر جسٹس قیوم کی آڈیو لیک نے سارا پول کھول دیا۔ اسی سیف الرحمان نے نواز شریف کی لڑائی اس وقت کے سب سے بڑے اخبار سے کروائی، اس کے اشتہارات ہی نہیں بلکہ کاغذ کا کوٹہ تک بند کردیا اور سولہ صفحات کے اخبار کو چار صفحات پر لے آیا۔ یہ واقعی ایک شرمناک دور تھا۔

پھر مہاشرمناک دور آیا۔احتساب بیورو کو قومی احتساب بیورو پرویز مشرف نے بنایا اوراس کی سربراہی حاضر سروس جرنیل کے حوالے کر دی۔اس بیورو نے نون لیگ میں سے قاف لیگ نکالی اور پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین میں سے سے پیپلزپارٹی پٹریاٹ، راو سکندر والی۔ میثاق جمہوریت میں فیصلہ کیاگیاکہ نیب ختم کر دیا جائے گا مگر نہ یہ کام آصف زرداری نے کیا اور نہ ہی نواز شریف نے۔ ان دونوں پارٹیوں نے باری باری میثا ق جمہوریت کے کاغذ میں پکوڑے کھائے اور تیل ہاتھوں پر مل لیا۔ بی بی نے مشرف سے این آر او لے کے اورنوازشریف نے یوسف رضا گیلانی سے وہی کر کے جو بعد میں خود ان کے ساتھ ہوبہو ہوا۔ اس ادارے کامشرف دور کے بعد سب سے گندا کردار عمران خان کے دور میں رہا۔ اس نے سیاسی مخالفین کی ماوں، بہنوں اور بیٹیوں کی بھی شرم نہ کی اور اب پی ڈی ایم کی حکومت نے اس کے دانت بہت حد تک نکال دئیے ہیں اور اسے بڑے جرائم اور کرپشن تک محدود کر دیا ہے۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ عام کرپشن کے لئے پولیس، اینٹی کرپشن اور ایف آئی اے کے ادارے موجود ہیں اور میں خدا کو حاظر ناظر جانتے ہوئے حکمرانوں سے پوچھوں کہ یہ ادارے واقعی کسی بڑی کرپشن کی بیخ کنی کر سکتے ہیں تو مجھے یقین ہے کہ وہ کہیں گے کہ نہیں، بالکل نہیں۔

کہا جاتا ہے کہ نیب نے ہاوسنگ سوسائیٹیوں کی کرپشن اور لوٹ مار پر بہت کام کیا مگر میں نے تو ایک ہی کیس دیکھا اور وہ’ایڈن‘ کا تھا۔ تکلف برطرف، متاثرین کا الزام یہ ہے کہ اس میں بھی سابق چئیرمین اربوں روپوں کی دیہاڑی لگا کے نکلتا بنا جیسے اس سے پہلے ایک چیف جسٹس جس نے ایڈن کے ملزموں کو پکڑ

کے انصاف دینا تھا، اس نے ان ارب پتی ملزموں کو بیٹی کو رشتہ دے دیا۔ میں تو نیب ختم کرنے کا مطالبہ کرنے والوں سے کہوں گا کہ اصل مسئلہ نہ نیب ہے، نہ پولیس ہے، نہ اینٹی کرپشن اور نہ ایف آئی اے۔اصل مسئلہ بددیانتی اور بدنیتی ہے۔ ہم بنیادی طور پر ایک متعصب، کرپٹ اور بے شرم قوم ہیں اور جب تک ہم اپنا تعصب، بدعنوانی اور بے شرمی ختم نہیں گے ہر اختیار کا غلط استعمال ہوتا رہے گا۔ اب آپ خود ہی دیکھ لیجئے کہ ایک طرف فوج جیسا باوقار ادارہ گذشتہ برس فروری میں فیصلہ کرتا ہے کہ وہ سیاست میں غیر جانبدار رہے گا مگر اس کے بعد اسی کا سربراہ پنجاب میں حکومت سازی کے لئے چودھری پرویز الٰہی کو عمران خان کے ساتھ جانے کا راستہ ہی نہیں بتاتا بلکہ اس کے بعد عدالت کا ایسافیصلہ بھی آجاتا ہے جو آئینی اور سیاسی روایات ہی نہیں بلکہ خود ماضی کے کئی فیصلوں کی نفی ہوتا ہے۔ ایسے میں آپ ایک نیب ختم کر کے گڈ گورننس اور ڈیموکریسی کی کون سی توپ چلا لیں گے۔اسی پولیس نے غداری کے مقدمات درج کئے جو اس کا اختیار ہی نہیں تھا۔ یہی صوبائی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنت اس وقت پچاس پچاس برس پرانے کیسوں میں پی ٹی آئی کے رہنماوں کو راتوں رات کلین چٹیں جاری کر رہی ہے اور دوسری طرف نون لیگیوں پر دن رات نت نئے مقدمات درج کر رہی ہے۔ تو آپ کیا تجویز کریں گے کہ پولیس اوراینٹی کرپشن کو بھی ختم کر دیا جائے؟

خدا کے لئے اپنے تعلیمی نصاب، بچوں کو دی جانے والی تربیت اور اپنے رویوں میں سچائی، ایمانداری اور دیانتداری لائیے۔ آپ نے ایک ایسا معاشرہ بنا رکھا ہے جس میں ٹریفک سگنل توڑ کر جانے والا ہی معزز اور بااختیار ہے جبکہ اشارے کی پابندی کرنے والا احمق، بزدل اور کمزور ہے۔ اس سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے تبدیل نہیں کریں گے تو اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے گندے اور گھٹیا دماغ، ان کو اگر آپ سمندر کنارے لہریں گننے پر بھی لگا دیں گے تو وہاں بھی یہ کرپشن کرلیں گے، اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر لیں گے۔ اس قوم کو شرم، حیا، تہذیب، ایمان اور قانون کے انجکشن لگانے کی ضرورت ہے مگر یہ انجکشن پہلے قوم کے لیڈروں کو لگنے چاہئیں۔