نہرو وزیراعظم نہ ہوتا تو کشمیر کا ایک حصہ بھی پاکستان کے پاس نہ ہوتا، مودی

نئی دہلی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ کانگریس کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہندوستان تقسیم ہوا ، اگر جواہر لال نہرو کی بجائے سردار ولبھ بھائی پٹیل بھارت کے پہلے وزیراعظم ہوتے تو پورے کشمیر پر ہمارا قبضہ ہوتا اور ایک حصہ بھی پاکستان کے پاس نہ ہوتا۔
پارلیمنٹ میں بجٹ اجلاس سے خطاب میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب کانگریس کے بوئے ہوئے زہریلے بیج کی وجہ سے ملک کو نقصان نہ پہنچا ہو، اگر جواہر لال نہرو کی بجائے سردار ولبھ بھائی پٹیل بھارت کے پہلے وزیراعظم ہوتے تو پورے کشمیر پر ہمارا قبضہ ہوتا اور ایک حصہ بھی پاکستان کے پاس نہ ہوتا۔
نریندر مودی نے کہا کہ بھارت کی آزادی کے بعد سے کانگریس نے غلط پالیسیاں اختیار کیں اور وہ عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دینے کی بجائے ایک ہی خاندان کے گن گاتی رہتی ہے اور اپنی ساری توانائی گاندھی خاندان کی خدمت کے لیے وقف کردی ہے، انتخابی وجوہات اور معمولی فائدے کے لیے کانگریس نے خودغرضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 70 سال پہلے ملک تقسیم کردیا۔مودی نے کہا کہ آج بھی بھارت میں 20 کروڑ افراد کو بجلی میسر نہیں اور انہیں بجلی فراہم کرنے سے ہم کوسوں دور ہیں، بھارت کو نہرو کی وجہ سے جمہوریت نہیں ملی جس کا کانگریس راگ الاپتی رہتی ہے بلکہ ہندوستان میں کئی صدیوں سے جمہوریت تھی،جبکہ کانگریسی وزیراعظم راجیو گاندھی نے حیدرآباد ائرپورٹ پر اپنے دلت وزیراعلیٰ کی توہین بھی کی تھی۔