وفاقی کابینہ نے شہباز شریف سے استعفیٰ طلب کر لیا

وفاقی کابینہ نے شہباز شریف سے استعفیٰ طلب کر لیا
Image Source : INP

اسلام آباد :وفاقی حکومت نے شہباز شریف سے استعفیٰ طلب کر لیا ،فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کابینہ کا مشترکہ فیصلہ ہے کہ شہباز شریف کو مستعفی ہو جانا چاہیے ،پی اے سی کے دفتر کو سیاسی طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔


فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف بھی ملزم ہیں ان کو پی اے سی کی چیئرمین شپ سے مستعفی ہو جانا چاہیے ،ایک ملزم اسلام آبا د میں آکر بیٹھ جا تا ہے ،دوسری طرف یہ ہی لوگ سعد رفیق اور دیگر کو بھی پی اے سی کا ممبر بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں ،شہباز شریف خود کو اور اربوں کا فراڈ کرنے والوں کو بچانا چاہتے ہیں ،پی اے سی کا دفتر نیب تفتیش بھگتنے والوں کو بچانے کیلئے استعمال ہو رہاہے ،شہباز شریف جیسے لوگ نیب کو مطلوب افراد میں شمار ہو تے ہیں لہذا انہیں مستعفی ہو جانے چاہیں ۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالی تو ابتدائی 6 ماہ میں 1.6فیصد مہنگائی ہوئی،کچھ قیمتوں میں کمی کچھ میں اضافہ ہوا ہے،غریبوں کیلئے سبزی اور دالوں کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی آئی ہے،ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے،شاہد خاقان عباسی کی کرپشن کا ذکر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شاہدخاقان عباسی کی وجہ سے مہنگی ایل این جی حاصل کررہے ہیں،سیمنٹ،ڈیزل،بجلی اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوا ہے.

سردیوں میں گیس کی قلت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ پورے پاکستان میں اس وقت 40 فیصد لوگوں کو گیس میسر ہے،ہم قیمتوں کے حوالے سے مستحکم نظام وضع کررہے ہیں،کوشش تھی 70 فیصد لوگ گیس قیمتوں میں اضافے سے متاثر نہ ہوں،فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اوور سیز پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں،مسلم لیگ ن کے دور میں ایل این جی کا مہنگا معاہدہ کیا گیا جس پر سبسڈی دی گئی.

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس وقت بھی لوگ سرکاری گھر وں پر قبضہ کیے بیٹھے ہیں ،وزیراعظم نے الاٹمنٹ کے مطابق کارروائی کی ہدایت کی ہے،رضاربانی اور مشاہداللہ جیسے لوگ سرکاری گھروں میں رہ رہے ہیں،ہیلتھ انشورنس کا نظام وضع کیاجارہا ہے،اگلے مرحلے میں فنکاروں اور صحافیوں کو بھی ہیلتھ کارڈ جاری کیے جائیں گے،وزیراعظم نے فاٹا میں ترقی کیلئے اقدامات کی ہدایت کی ہے،8یورپی ممالک پاکستان کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کررہے ہیں،کابینہ اجلاس میں علیم خان کے معاملے پر بات چیت نہیں ہوئی،نیب کو مزید طاقتور اور مستحکم کرنے کی ضرورت ہے،عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہے،فوج اور حکومت کے درمیان تاریخ کی بہترین کوآرڈینیشن ہے۔