عمران خان سے عمران ریاض تک

عمران خان سے عمران ریاض تک

لیجیے صاحب بالآخر عمران ریاض خان کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان کے خلاف پنجاب میں متعدد پرچے درج کیے گئے تھے۔ گزشتہ شب وہ اسلام آباد جا رہے ہیں کہ عین اسلام آباد کی حدود سے باہر انہیں گرفتار کر لیا گیا اور وہاں سے  اٹک لے جایا گیا۔ تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ انہیں مقامی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے جہاں سے ان کا ریمانڈ لیا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف ان کی گرفتاری کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دے رہی ہے۔ عمران ریاض خان کی گرفتاری قابل مذمت ہے کہ اس کے استدلال کا جواب دینے کے بجائے اس کو خاموش کرانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر اسے ہیرو کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ بیچارہ اپنے جذباتی پن اور اپنی آڈینس کا اسیر ہو کر اس حال تک پہنچا ہے۔ ویسے وہ اس حکومت کے خلاف نہیں بول رہا تھا وہ تو ان کے خلاف علم بغاوت بلند کر رہا تھا جنہوں نے اس کی تراش خراش کی تھی اور اسے ایک عام رپورٹر سے سوشل میڈیا کا سٹار بنایا تھا۔ ویسے بھی جذباتی نوجوان زیادہ آسانی کے ساتھ ان قوتوں کے لیے کارآمد بن جاتے ہیں جو انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ سو انہوں نے اسے وہ تمام مواد مہیا کیا جس کی روشنی میں وہ یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار ہو گیا کہ جو کچھ عالی جناب فرما رہے ہیں وہ درست ہے۔ جو ان کی مخالف کر رہا ہے وہ ملک کا دشمن اور اسلام دشمن ہے۔ ففتھ جنریشن وار کے نام پر جو سوشل میڈیائی سپاہی تیار کیے گئے تھے عمران ریاض ان میں سے ایک ہے۔ جن لوگوں نے ان کی ذہن سازی کی تھی وہ تو دوسری جانب چلے گئے اور یہ اپنی آڈینس کے اسیر ہو کر اسی بیانیے کے ساتھ جڑ گئے جہاں سے ویوز آ رہے تھے اور جہاں سے وہ کمائی کررہے تھے اور یہ کمائی اتنی تھی کہ انہوں نے نجی سیکیورٹی کا خود بندوبست کر رکھا تھا اور درجن سے زائد اسلحہ کے لائسنس انہیں دیے گئے تھے۔ بلٹ پروف گاڑی سے نوازا گیا تھا اور پیسہ اتنا  کہ موصوف خود فرماتے کہ بڑے سے بڑا گھر وہ دو مہینے کی کمائی سے خرید سکتے ہیں۔پاکستان کی تاریخ کا شاید یہ بھی ریکارڈ ہو کہ کسی حکومت نے ایک صحافی کو اتنے زیادہ اسلحہ کے لائسنس جاری کیے ہوں۔ سوشل میڈیا پر ایک شہید کی بیوہ نے شکوہ کیا کہ ان کا میاں اور سسر شہید ہوئے مگر حکومت نے انہیں بلٹ پروف گاڑی نہیں دی مگر عمران ریاض کو یہ کیونکر دی گئی۔ یہ نشہ اتنا طاقتور ہے کہ آپ کو مجبور کیے رکھتا ہے کہ آپ نہ چاہتے ہوئے بھی اسی ڈھب پر چلتے رہیں۔ جیسے میں تو کمبل کو چھوڑ رہا ہوں کمبل مجھے نہیں چھوڑ رہا۔

تحریک انصاف کے سربراہ ان کی گرفتاری پر تنقید کر رہے ہیں خود ان کا دور بھی صحافت کے لیے انتہائی برا تھا۔ اس میں صحافیوں کو پابند سلاسل کیا گیا، میڈیا کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ہمیشہ صحافت کو اپنا دشمن سمجھا اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام تر وسائل سوشل میڈیا پر جھونک دے گئے۔ سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنا عام میڈیا کو کنٹرول کرنے سے آسان تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ سوشل میڈیا پر جاہلوں کی ایک فوج تیار کی گئی جو ان کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار تھے۔  آج بھی سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس بنا کر لوگوں کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔ ابصار عالم کا کیا قصور تھا کہ اس پر اسلام آباد کے ایک پارک میں حملہ کرایا گیا۔ اسد طور کے گھر پر چڑھائی کرنے والے کون تھے؟ طلعت حسین اور حامد میر  پر میڈیا کے دروازے کس نے بند کیے۔ مطیع اللہ 

جان کو آپ کے دور حکومت میں اغوا کیا گیا۔ عمران شفقت، اظہار الحق واحد اور رضوان رضی کو ایف آئی اے نے گرفتار کیا۔ یہ لوگ بھی اس وجہ سے گرفتار ہوئے کہ انہوں نے ان قوتوں پر انگلی اٹھائی جو مملکت کا نظام چلا رہی تھی۔ عمران ریاض بھی اسی قوت کو ٹارگٹ کر رہا ہے۔ اسے گرفتاری کا پہلے سے علم تھا اس لیے گرفتاری سے پہلے ہی اپنا ویڈیو پیغام ریکارڈ کرا دیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ ان کی گرفتاری کے پانچ گھنٹے کے بعد ایک ایسی ویڈیو جاری ہو گی جس میں بہت کچھ ہو گا مگر ابھی تک وہ ویڈیو جاری نہیں ہوئی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی اسلام آباد کو طلب کیا تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کو یہ بتا دیا گیا کہ یہ گرفتاری توہین عدالت اس لیے نہیں ہے کہ انہیں پنجاب سے گرفتار کیا گیا جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران ریاض کے وکلا سے کہا ہے کہ وہ لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کریں۔ ویسے جو نظام اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہے کہ عدالت رات کو بارہ بجے بھی آپ کو ریلیف دینے کے لیے تیار ہے تو یہ سہولت دوسرے صوبوں کی کورٹس میں کیوں نہیں ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ اظہار الحق کو تین مہینے کے بعد کتنی مشکل سے ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔ نظام انصاف عام آدمی کے لیے  انصاف کے دروازے اتنی تیزی سے کیوں نہیں کھولتا۔ تیز ترین انصاف تک رسائی صرف ایک مخصوص طبقے کو کیوں دی گئی ہے۔ بزرگ صحافی امجد عثمانی نے عامل صحافی کی تعریف بھیجی ہے وہ فرماتے ہیں کہ پہلے ورکنگ جرنلسٹ کا مطلب کارکن صحافی تھا اب کسی پارٹی کے کارکن کو ورکنگ جرنلسٹ کہتے ہیں۔ امجد عثمانی صاحب اب عامل صحافی نہیں کامل صحافی پیدا ہورہے ہیں۔ 

جنرل باجوہ اور فوج کے ترجمان بار بار ایک ہی بات کر رہے ہیں کہ وہ سیاست سے دور ہیں۔ تازہ ترین اطلاع میں بھی یہ بتایا گیا ہے کہ سپہ سالار نے اپنی چین آف کمان  سے کہا ہے کہ وہ سیاست میں دخل اندازی نہ کرنے کو یقینی بنائیں اور کسی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما کے ساتھ رابطے نہ رکھیں۔ خدا کرے کہ ایسا ہو جائے تو جنرل باجوہ کا نام تاریخ میں رقم ہو جائے کہ انہوں نے فوج کو سیاست سے باہر نکال کر اسے صرف پیشہ ورانہ امور تک محدود کر دیا۔ اگر یہ ہو گیا تو معاشرے میں فوج کی عزت و توقیر میں اضافہ ہو گا اور جو کام تمام سیاست دان مل کر نہیں کر سکے وہ جنرل باجوہ نے کر جائیں گے۔ ان احکامات کو اب عملی شکل میں بھی نظر آنا چاہیے۔ 

ہمارا ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ فوج نے سیاست کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ اپنی پسند کی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں کو اقتدار دلانے کے لیے سیاسی اتحاد بنائے گئے اور اس مقصد کے لیے بے پناہ وسائل کا استعمال ہوا۔

سچ پوچھیں تو میں آج ان آڈیوز اور ویڈیوز کی خفیہ ریکارڈنگ پر لکھنا چاہ رہا تھا کہ بیچ میں عمران ریاض آ گیا۔ ایک آڈیو جو ریلیز ہونے جا رہی ہے جس میں مبینہ طور وزیراعظم عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکرٹری کے درمیان ہونے والی گفتگو کو ٹیپ کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بشری بی بی کی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ہیڈ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ ریلیز ہوئی تھی۔ اب بتایا یہ جا رہا ہے کہ سابق وزیراعظم کی گفتگو ریلیز ہونے جا رہی ہے جس پر تحریک انصاف کی شیریں مزاری کا ردعمل سامنے آیا کہ ایجنسیوں کا یہ عمل آئین اور قانون کے خلاف ہے۔ میں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس کی شدید مذمت کی ہے کہ کسی ایجنسی کو اپنے وزیراعظم کی گفتگو ٹیپ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے بلکہ کسی بھی شہری کی گفتگو کو ٹیپ کر کے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا قابل مذمت اور بلیک میلنگ کے مترادف ہے۔ وزیراعظم، وہ عمران خان ہوں، نوازشریف یا کوئی اور، ان کی محفوظ ٹیلی فون لائن کو کون سے ادارے ٹیپ کر رہے ہیں؟ کیا یہ ادارے آئین اور قانون سے بالاتر ہیں۔ اگر یہ ٹیلی فون کی ریکارڈنگ ریلیز ہوتی ہے تو کوئی بھی غیر ملکی سربراہ آپ کے صدر یا وزیراعظم سے فون پر بات کرنے سے پہلے سو بار سوچے گا۔ خدا کے لیے ملک کا مذاق مت اڑائیں۔ اس ملک کو لوگوں کے رہنے کے قابل رہنے دیں۔

عمران ریاض کی طرح عمران خان نے بھی ایک دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو وہ بھی ایک ویڈیو جاری کریں گے جو انہوں نے ریکارڈ کرا رکھی ہے کہ ان کی حکومت کو گرانے کے لیے کس نے کیا کردار ادا کیا اور اس طرح وہ اصل میں فوج کو دھمکی دے رہے ہیں لیکن انہیں ایک ویڈیو یہ بھی ریلیز کرنی چاہیے کہ انہیں اقتدار میں لانے کے لیے کس نے کیا کچھ کیا تھا۔ ویسے سارا ملک جانتا ہے کہ جو لے کر آئے تھے انہوں نے اپنا دست شفقت اٹھا لیا۔ جب سر پر سائیں نہ ہو تو گلی کا لونڈا بھی آنکھیں دکھانا شروع ہو جاتا ہے۔ عمران خان صاحب اگر اب فوج اس سیاسی کھیل سے باہر ہو کر اپنے پیشہ ورانہ امور کی طرف ہی رہنا چاہتی ہے تو اس میں سب سیاست دان ان کی مدد کریں اور ان کے احسان مند ہوں کہ ان کے حصے کا کام بھی فوج کرنے جا رہی ہے۔

مصنف کے بارے میں