فوج کے خلاف بات ، سوڈو دانشوری ؟

فوج کے خلاف بات ، سوڈو دانشوری ؟

 اگلے دن لاہور کے سینئر اخبار نویس ایک کھانے پہ اکٹھے تھے ، موضوع زیر بحث تھا کہ ہمارے کچھ لوگ سیاسی معاملات میں اپنے ہی ملکی اداروں کو کیوں مورد الزام ٹھہر ا تے ہیں ، ہر کام کا الزام ان پر ہی کیوں لگا دیا جاتا ہے ، مجھے حیرت ہوئی کہ اخبار نویسوں کی غالب اکثریت اداروں کے ساتھ محبت کرتی ہے مگر ان اداروں کا دفاع کرنا پڑے تو سوچ میں پڑ جاتی ہے ؟ ان اداروں کے ساتھ ،ایسا شائد ہمارا دشمن بھی نہ کر سکتا ہو جو ہم خود کر رہے ہیں،اگر عدلیہ کا ا یک فیصلہ ہمارے حق میں آئے تو انصاف اور اگر ہماری توقعات کے برعکس ہو تو یہ انصاف کا قتل قرار دے دیا جاتا ہے۔ان دنوں ہمارے کچھ دانشور ملکی سلامتی کے ادارے پاک فوج کو رجیم چینج کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں مگر انہیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ اس ملک میں جمہوریت بھی کسی چڑیا کا نام ہے جس میں بندوں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں جاتامگر ہماری بد قسمتی ہے کہ یہاں اداروں کے خلاف بات کرنے کو فیشن بنا لیا گیا ہے،ایک سوچ یہ بھی پیدا ہو گئی ہے کہ ہمیں حکومت میں لائیں بھی ،ہمارا دفاع بھی کریں ہمیں تحفظ بھی دیں۔دوسری طرف اداروں پر الزامات لگانے والے بھی ہمارے اپنے ہیں ،انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہر کام ایک ہی ادارے نے نہیں کرنا ،کچھ کام سٹیک ہولڈرز کا بھی ہوتا ہے۔بہرحال یہ ایک لمبی بحث ہے مگر کیا ہی اچھا ہو سیاسی جماعتوں کے اکابرین اور دانشور اس پر مل جل کر کوئی راستہ نکالیں تاکہ کسی کو کسی ادارے پر تنقید کا موقع ہی نہ ملے،ہمارے ملکی حالات یہ ہو گئے ہیں کہ ایک جماعت کا سربراہ کسی ادارے کے سربراہ کو کسی کام کا ذمہ دارٹھہرائے تو اس جماعت کے تمام لوگ بنا سوچے سمجھے اپنا دماغ لگائے بغیر کاپی پیسٹ کی سوڈو دانشوری شروع کر دیتے ہیں جو اچھا ٹرینڈ نہیں ہے۔

مجھے یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ ہمارے ریاستی ادارے کیسے ہر جماعت اور گروہ کی توقعات کے مطابق کام کر سکتے ہیں؟ ان کا کام ملکی اور نظریاتی سرحدوں کا دفاع ہے مگر ہم سب اس بات پہ اصرار کر رہے ہیں کہ وہ ادارے وہ کام کریں جو ہم چاہتے ہیں۔ مملکت خداداد میں واحد ریاستی ادارہ افواج پاکستان ہے جس کے افسر اور جوان ہمہ وقت وطن عزیز کی سربلندی،دفاع اور استحکام کیلئے اپنی جان ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں، اس کے افسر اور جوان شمولیت کے وقت عہد کرتے ہیں کہ وطن عزیز کو جب کبھی ہماری جان کی ضرورت پڑی ہم کسی بخل کا مظاہرہ نہیں کریں گے اور وقت نے ان کے عہد کو سچا ثابت کیا،فوجی افسروں جوانوں نے ہر نازک موقع پر اپنی جان جان آفرین کے سپرد کرنا اعزاز جانا،ملکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے اگلے مورچوں پر چوکس اور چوکنا افواج پاکستان کے افسر اور جوان ہوں تو ہی قوم کا بچہ بچہ چین کی نیند سوتا ہے،اندرون ملک جب کسی شورش نے سر ابھارا،دہشت گردی نے قدم جمائے یا عسکریت پسندی کو ہوا دی گئی،علیحدگی پسند منظم ہوئے یا ملک دشمنوں کے ایجنٹوں نے امن و امان تباہ کرنے کی کوشش کی ، افواج پاکستان کے افسر اور جوان ان کے آڑے آئے۔

 افواج پاکستان ہی وہ ادارہ ہے جس میں افسروں اور جوانوں کے احتساب کا ازخود میکنزم،کڑا اور مؤ ثر نظام رائج ہے،چھوٹی موٹی غلطیوں پر کورٹ مارشل کے علاوہ سنگین جرائم پر سزاؤں کیلئے بھی عدالتی نظام مؤثر ہے، جس میں سفارش کے کلچر کا کوئی حصہ نہیں،کسی نا گہانی صورتحال زمینی یا آسمانی آفت میں جب سول ادارے بے بس ہو جاتے ہیں توفوج ہی حرکت میں آتی ہے اور اس کے جوان دور دراز اور کٹھن راستوں والے علاقوں میں متاثرین کی مدد کو پہنچتے ہیں،متا ثرین کی صرف راشن سے امداد ہی نہیں کی جاتی بلکہ ان کو طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ،زلزلہ سیلاب کسی بڑے حادثہ یا نا گہانی صورتحال میں فوج سب سے بڑا حفاظتی اور بحالی کا ادارہ بن کرسامنے آتا ہے۔

 مگر دکھ کی بات ہے کہ معمولی سے غیر پسندیدہ سیاسی فیصلہ پر سیاسی جماعتوں کے کارکن تیر تفنگ لے کر فوج کو ہدف تنقید بنانے لگتے ہیں حالانکہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق ہے نہ سیاسی فیصلوں میں کوئی کردار، ہاں اس ملک میں زرعی صنعتی انقلاب کی بنیاد ایوب خان نے رکھی،انفراسٹرکچر آبی وسائل کے بہتر استعمال کیلئے نہری نظام،توانائی کیلئے ہائیڈل پاور کے منصوبے بھی اسی دور میں لگے،عوامی خوشحالی کے دور کاآغاز بھی اسی دور میں ہوا،مگر جب ایوب خان کے ساتھ فوج بھی ہدف تنقید بنی تو ایوب اقتدار چھوڑ کر گوشہ نشین ہو گئے،یحییٰ خان نے اقتدار سنبھالا تو ان سے کچھ غلطیاں ہوئیں انہوں نے کچھ خواہشات کو پالا اور ان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے غلط فیصلے کئے،نتیجے میں سیاسی افراتفری نے جنم لیا نگر اس کے باوجود نوے ہزار فوجی افسر اور جوان مشرقی پاکستان میں ملکی دفاع کیلئے جان کی بازی لگا رہے تھے۔ضیاء￿  ضیاء الحق نے بھٹو کو پھانسی دی مگر اس غلطی کا ذمہ دار فوج کا ادارہ نہیں فرد واحد تھا جسے دست قدرت نے پکڑ میں لے لیا ، کوئی اقتدار میں آتا تو فوج مورد الزام کوئی جاتا تو فوج پر دشنام ،ملک میں الیکشن ہوتے ہیں اور حالیہ دنوں میں قوم نے دیکھ لیا الیکشن کمیشن کس قدر با اختیار ہے،الیکشن کے نتائج کو تسلیم کرنا جمہوریت کا حسن ہے عوام نے جس کو مینڈیٹ دیا اس کو حکومت کا حق دینا چاہئے مسائل پارلیمنٹ میں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

 ایک فیصلہ پارلیمنٹ میں ہوا احتجاج کسی سیاسی جماعت نے کیا دھرنا کسی نے دیا لانگ مارچ کسی اور نے کیا یا کسی نے عدالت سے رجوع کیا اور عدالت نے شواہد کے مطابق آئین کے مطابق فیصلہ سنا دیا تو اس میں فوج کہاں سے آگئی؟کوئی شور مچاتا ہے’’مجھے کیوں نکالا‘‘کوئی کہتا ہے ’’لڑائی عمران خان سے نہیں اسے لانے والوں سے ہے‘‘کوئی’’نیوٹرلز‘‘کے نام سے طعن و تشنیع کرتا ہے،ایک طرفہ تماشا ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

سوشل میڈیا پر تو ادھم مچا ہوا ہے،خدا کے بندو ہم سب پاکستانی ہیں اور فوج پاکستان کا معتبر معزز ادارہ ہے جس کے افسر اور جوان ہماری آزادی کی حفاظت کیلئے دن رات اپنی جانیں پیش کر رہے ہیں،آج بھی قبائلی علاقوں میں جو شورش بپاہے اس کو ختم کرنے کیلئے فوج کے افسر اور جوان ہی کام کر رہے ہیں،ان شہادتوں اور قربانیوں کا یہ صلہ کوئی زندہ قوم نہیں دے سکتی،با شعور قوم ان شہداء کی احسان مند ہوتی ہے مگر ہم نے ہر دور میں فوج کوسیاست میں گھسیٹ کر متنازع بنانے کی کوشش کی،جو اقتدار میں آجاتا ہے وہ فوج کے گن گانے لگ جاتا اور اقتدار سے نکلتے ہی تنقید شروع کر دیتا ہے ،خدارا سیاسی معاملات کو سیاسی فورمز ،پارلیمانی مسائل کو پارلیمان اور عدالتی نظام کو عدالتوں میں حل ہونے دیں ایک دوسرے کے معاملات اور اختیارات کو گڈ مڈ نہ کریں ورنہ نقصان ہو گا اور بہت ہو گا سیاستدان تو سقوط ڈھاکہ کی طرح چپ تان کر سیاست میں مگن ہو جائیں گے چرکے اور کچوکے سہے گی وطن کی سرزمین اور قوم کے وہ افراد جن کا جینا مرنا پاکستان میں ہے ،فوج کسی فرد واحد کا نہیں ایک ادارے کا نام ہے وہ بھی قومی سلامتی کا ادارہ جو اس ملک کی محافظ، شان اورآن ہے اسے سیاست میں گھسیٹ کرمتنازع نہ بنائیں۔

مصنف کے بارے میں