حمزہ شہباز شریف کا روشن گھر پروگرام 17 جولائی تک معطل

حمزہ شہباز شریف کا روشن گھر پروگرام 17 جولائی تک معطل

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے وزیراعلیٰ حمزہ شہباز شریف کے روشن گھر پروگرام کو 17 جولائی تک معطل کر دیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سے متعلق کیس کی سماعت کی جس دوران حمزہ شہبا زکے وکیل نے پیش ہوکر اپنا جواب جمع کرایا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے وکیل کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں موقف اختیار کیا گیا کہ گوجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (گیپکو) میں کوئی الیکشن نہیں ہو رہا اور حمزہ شہباز کا اعلان کردہ روشن گھر پروگرام صرف ان حلقوں کیلئے نہیں جہاں ضمنی الیکشن ہے۔

جواب میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کے پروگرام سے پنجاب کے 90 لاکھ صارفین کو فائدہ پہنچے گا جبکہ اس پروگرام کا منصوبہ اب نہیں بنایا گیا بلکہ یہ پروگرام منظور شدہ بجٹ میں شامل ہے اور اس پروگرام کے 100 ارب روپے کی منظوری بھی بجٹ میں شامل ہے۔

جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ ہمارا مقصد اس وقت ووٹرز کو اپنی جانب کرنا نہیں بلکہ انہیں ریلیف فراہم کرنا ہے، اگر 15 جولائی کو پیٹرول کی قیمت کم کرتے ہیں تو کیا یہ بھی سیاسی ہو گا ؟ ایسا نہیں ہے۔ 

چیف الیکشن کمشنر نے حمزہ شہباز کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ نے یہ پروگرام بجٹ میں رکھا تو پھر اس کیلئے علیحدہ پریس کانفرنس کیوں کی؟ الیکشن کمیشن نے برابری کے مواقع دینے ہیں، بجٹ میں یہ پروگرام مختص ہونے پر اتنا ردعمل نہیں آیا ، جتنا پریس کانفرنس میں آیا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ پروگرام بجٹ میں شامل تھا اور اس کیلئے رقم مختص تھی تو اعلان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، الیکشن کمیشن نے کسی بھی ترقیاتی سکیم کے اعلان کی ممانعت کر رکھی ہے، اعلان کردہ روشن پروگرام نے براہ راست ضمنی الیکشن کو متاثر کیا ہے، اگر یہ پروگرام بجٹ میں مختص ہے تو اسے ضمنی الیکشن کے بعد جاری کیا جائے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ صوبائی حکومت کو واضح کریں کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اور کوئی نئے ترقیاتی منصوبے کا اعلان نہیں کیا جا سکتا۔ الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ پنجاب کا روشن گھر پروگرام 17 جولائی تک معطل کرتے ہوئے کہا کہ ضمنی الیکشن کے بعد بے شک پروگرام شروع کرلیا جائے۔

مصنف کے بارے میں