پرویز مشرف پاکستان آئیں، گرفتار نہیں کیا جائے گا، چیف جسٹس

پرویز مشرف پاکستان آئیں، گرفتار نہیں کیا جائے گا، چیف جسٹس
سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو 13 جون کو لاہور رجسٹری میں طلب کر لیا۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کو 13 جون کو طلب کر لیا۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سابق صدر پرویز مشرف کی تاحیات نااہلی کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔


پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے ان کے مؤکل کے کاغذات نامزدگی مسترد کرکے تاحیات نااہلی کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس نے پرویز مشرف کے وکیل سے کہا کہ آپ کے کیس کو سنیں گ اپنے مؤکل کو کہیں 13 جون کو لاہور آ جائیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے پرویز مشرف کو لاہور رجسٹری طلب کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف میرے سامنے پیش ہوجائیں انہیں گرفتار نہیں کیا جائےگا، ہم حکم دے دیں گے انہیں عدالت پہنچنے تک گرفتار نہ کیا جائے۔ پرویز مشرف کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ مؤکل کے کاغذات نامزدگی کی وصولی کا معاملہ ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم نےسادہ حکم دیا ہے کہ پرویز مشرف لاہور میں تشریف لے آئیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے سابق صدر کے کاغذات نامزدگی کی وصولی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ درخواست کےحتمی فیصلے سے ان کا انتخاب لڑنا مشروط ہوگا۔

جسٹس ثاقب نثار نے سابق صدر کے وکیل سے کہا کہ پرویز مشرف پاکستان آجائیں تو کیس کی تفصیلاً سماعت کی جائے گی۔

واضح رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کےخلاف سنگین غداری کیس بھی زیرسماعت ہے جس میں خصوصی عدالت نے ان کی انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کا حکم دے رکھا ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں