غالب اب تک غالب ہے

غالب اب تک غالب ہے

وفا کیسی،کہاں کا عشق، جب سر پھوڑنا ٹھہرا

تو پھر اے سنگدل، تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو

مرزا اسد اللہ خان غالب بقول جناب عبدالخالق انجم کے اگر کوئی دعویدار کہ مرزا صاحب کی شاعری اور فکر کو 10 فیصد بھی سمجھ پایا ہے تو بڑی بات ہے۔ ورنہ خود فریبی کا شکار ہے۔ سیاسی، مسلکی، سماجی، معاشرتی اعتبار سے اگر کوئی کسی کا نیابت دار ہے اس کے حلقہ ارادت میں شامل ہے مگر وہ صاحب مسند نیابت داری کو اپنا حق سمجھتا ہے تو پھر غالبؒ کا مذکورہ بالا شعر اس کی حمیت و غیرت اور خمیر کو جگانے کے لیے کافی بشرطیکہ موجود ہو ، سویا ہو ، اگر سرے سے موجود ہی نہیں تو پھر بقول ڈاکٹر علی شریعتیؒ کے اگر کوئی گہری نیند میں ہو تو اس کو ہلا جلا کر اٹھایا جا سکتا ہے لیکن آسمان ٹوٹ پڑے ، زلزلہ آ جائے تو یہ عام نہیں ابدی نیند ہے۔ اگر یہ حالت شعوری طور پر معاشرت میں بسنے والوں کی اکثریت میں ہو جائے تو پھر کیا کہا جا سکتا ہے؟ حضرت علیؓ کا قول ہے ’’لوگوں سے ناامیدی آزادی ہے‘‘۔ ذرا غور فرمائیں اور جس کی دستک آپ کسی کام کی غرض سے بار بار دیتے ہیں اس سے نا امیدی اس سے گلہ شکوہ کیے بغیر نا امیدی پر یقین کر لیں تو اگلے لمحے ہی آپ کو جو آزادی نصیب ہو گی اس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ سیاق و سباق سے ہٹ کر کوئی تجزیہ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کوئی رائے قائم ہو سکتی ہے۔ ہماری معاشرت میں لوگ ایک دوسرے کے کام آتے ہیں جبکہ یورپ اور ترقی یافتہ یا کوئی نظام رکھنے والے ملک میں معاملہ اس کے برعکس ہے وہاں کا سسٹم اور نظام آپ کے کام آتے ہیں لہٰذا ہم اپنی اس برباد شدہ معاشرت کی بات کرتے ہیں ، اگر کوئی کام آپ کسی سے کہتے ہیں ایک دفعہ، دوسری مرتبہ ، تیسری بار ہو سکتا ہے اس کو یاد نہ رہا ہو اس نے کہا ہو جس سے کام ہے وہ فارغ نہ ہو ، ہو سکتا ہے اب ان کے تعلقات ویسے نہ رہے ہوں لیکن اگر آپ تواتر سے دستک دیئے جائیں ایک کیفیت ایسی آئے گی جو آپ کو شرک میں داخل کر دے گی کہ میرا کام اس کے سوا کسی نے کرنا ہی نہیں لہٰذا تیسری دستک کے بعد لوٹ آنا چاہیے۔ ہم ہیں کہ روایتی طور پر کسی کے ووٹر بن چکے ہیں، سماجی طور کسی کے نیابت دار بن چکے ہیں لہٰذا یہ قومی آزادی اس وقت تک آزادی نہیں جب تک شعوری آزادی نصیب نہ ہو اور یہ آزادی ہمارے اختیار میں ہے یاد رکھیں مقلد سب سے پہلے اپنی جہالت اور شعوری غلامی کا اعلان کرتا ہے (سوائے دین کے معاملے میں)۔وطن عزیز میں کوئی مربوط نظام رائج ہو جائے، لوگوں کو آزادی نصیب ہو جائے، آئین کی حکمرانی کے لیے عوام نے اپنی جوانیاں اور زندگیاں قربان کر ڈالیں۔ جنہوں نے ظالم کو جوائن کر لیا وہ حاکموں کی صف میں دیکھے گئے جنہوں نے جبر کے خلاف بغاوت کی وہ وحید قریشی (ضیا دور میں اپنے آپ کو آگ لگا کر جان دے دی)۔ بابااضحی مرزا تصدق بیگ، یہ صرف گوجرانوالہ کے چند نام ہیں جبکہ پورا سندھ، پنجاب موجودہ کے پی کے بھرا پڑا ہے۔ ایک سے بڑھ کر 

ایک کرانتی کاری ، آزادی کا متوالا اور عوامی حقوق کا دعویدار نظر آئے گا۔ سینٹ جوزف انگلش سکول کے بعد پی بی ماڈل ہائی سکول سے میٹرک کیا تھا۔ صنعتی اور تجارتی حوالے سے معروف خاندان کے بزرگ پیر بخش کے نام پر یہ سکول بنا تھا۔ اس خاندان کی زبردست درخشندہ تاریخ ہے، تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے اعتبار سے بھی میں جناب غلام نبی کھوکھرؒ جو جناب پیر بخش کے پوتے تھے کے بیٹے جناب محمد سلیمان کھوکھر معروف قانون دان، کالم نگار اور ضمیر کے قیدی سیاست دان کی بات کرتا ہوں۔ ایک دن گلزار بھائی، معظم بھائی (گلزار احمد بٹ سپرنٹنڈنٹ جیل، معظم علی بٹ سابق چیئرمین جیل روڈ) اور میں ان کو کچہری میں ملے۔ وہ جوتا پالش کرا رہے تھے۔ کھوکھر صاحب کو ہم نے کھانے کی دعوت دی تو کہنے لگے کہ میں زیر حراست ہوں۔ ہم نے دیکھا تو ساتھ ہی چند ایک پولیس والے تھے۔ کچہری کے سامنے جیل تھی ضیا کا دور تھا، جوتا پالش کر ا کر جیل چلے گئے۔ ان کے والد صاحب سے اگلے روز ملاقات ہوئی ، ہم نے اظہار افسوس کیا وہ کہنے لگے کہ مجھے کھٹکا لگا ہوا تھا کہ اس کی گرفتاری ہو گی ، بہتر 

ہو گیا۔ اب میں اپنے چند کام اس خوف کے بغیر کر لوں گا کہ میرا بیٹا کب جیل جاتا ہے۔ دوسری جانب میں نے ایم آر ڈی کی تحریک میں گرفتاری دینے والوں کی سیالکوٹی دروازے جی ٹی روڈ پر پولیس کے بجائے جنرل ضیا کے گماشتوں کے ہاتھوں درگت بنتے دیکھی اور ستم یہ ہے کہ وہ اقتدار میں رہے اور درگت بنوانے والے بے نام رہے اور یہ ہر دور میں ہوا ، ہر سیاسی جماعت میں ہوا البتہ پیپلز پارٹی کا معاملہ مختلف رہا۔ اس کا ورکر باوقار رہا جبکہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کا تو انویسٹر بھی رسوا ہوا، ورکر کسی بھی جماعت کا ہو، مجھے گلزار بھائی ، اللہ سلامت رکھے، کی سنائی ہوئی کسی شاعر کی شاعری جو مجھے بھی پسند ہے چند اشعار حاضر ہیں۔

بچالو چار تنکے، سنبھالو بال و پر اپنے

کہ زد میں بجلیوں کی ہے گلستاں، ہم نہ کہتے تھے 

زمانہ جس حیات جاوداں پہ جاں دے بیٹھا

حقیقت میں وہ مقام مرگ ہے، ہم نہ کہتے تھے

قفس کی تیلیاں ٹوٹیں نہ زنجیر قفس ٹوٹی

کہ ہے صیاد تم پہ ہے حکمراں اب تک، نہ کہتے تھے

اکثر یاد آتی ہے۔

مجھے یادہے کہ میں نے 1994 میں وکالت صرف اس دکھ سے چھوڑی تھی کہ سیاسی مقدمات تو درکنار عام مقدمات میں بھی عدالتوں میں انصاف نہیں تھا۔ گورے کے 90 سال میں ایک بھی مقدمہ ایسا نہیں جس میں فریقین مقدمہ کے تحفظات ہوں جبکہ ہمارے ہاں معاملہ مختلف ہے۔ کسی ڈان کے ڈیرے پر بھی بے انصافی نہیں ہوئی مگر بوجھل دل کے ساتھ کہتا ہوں کہ دل نہیں مانتا وکالت کروں کیونکہ اب تو شاید کبھی عدالت و وکالت وہ مقام حاصل نہ کر پائے جو اس کا حق اور ماضی ہے ۔ وزیر اعظم کے حالیہ فیصلے جس میں سول بیورو کریسی کو ISI سے تصدیق کے بعد اختیارات یا تعیناتی کی بات کی گئی ہے۔ مشرف دور میں مانیٹرنگ ٹیمیں اور ان کی کارکردگی (دہشت) دیکھ کر میری رائے تھی کہ سول اداروں میں بھی ریکروٹمنٹ بنیادی طور پر آرمی کے تحت ہونی چاہئے۔ اس کے بعد پھر مختلف ذمہ داریاں دی جائیں، تعیناتیاں کر دی جائیں تا کہ بے خوف و خطر کام اور صاف شفاف انداز میں ہو۔ ان حالات میں ہر ادارے کی حالت یہ ہے کہ 

دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا

عشق نبرد پیشہ طلب گار مرد تھا

تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا

اُڑنے سے پیشتر بھی مرا رنگ زرد تھا

جبکہ حکمران طبقوں نے پے در پے حملے کر کے عوام کی حالت ایسی کر دی کہ غالب ہی کا مشورہ کارگر ہے۔

رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو

ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو

بے در و دیوا ر سا اک گھر بنایا چاہئے

کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو

پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیمار دار

اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

مصنف کے بارے میں