ہم لاشیں بھی اٹھائیں اور معافیاں بھی مانگیں یہ نہیں ہو سکتا,عبدالقادربلوچ

ہ ہم لاشیں بھی اٹھائیں اور معافیاں بھی مانگیں یہ نہیں ہو سکتا

 ہم لاشیں بھی اٹھائیں اور معافیاں بھی مانگیں یہ نہیں ہو سکتا,عبدالقادربلوچ

اسلام آباد : وزیر سیفران عبدالقادربلوچ کا کہنا ہے کہ بھارتی ایجنسیاں کالعدم جماعت الاحرار کو سپورٹ کر رہی ہیں، سلامتی کیلئے سرحد بند کرسکتے ہیں مگر اعلان جنگ نہیں، ان کا کہنا تھا کہ افغانستان بھارتی ایماء پرتعلقات بنائے گا تو یہ منظور نہیں،یہ نہیں ہوسکتا کہ لاشیں بھی اٹھائیں اور منتیں بھی کریں، دفاعی لحاظ سے مضبوط ہیں،منتیں نہہں کرسکتے۔


منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شاہدہ رحمانی کی طرف سے پیش کردہ تحریک پر بحث سمیٹتے ہوئےوفاقی وزیرریاستیں وسرحدی امور جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ ہم لاشیں بھی اٹھائیں اور معافیاں بھی مانگیں یہ نہیں ہو سکتا‘ افغانستان بھارت کی ڈکٹیشن پر ہم سے تعلقات چاہتا ہے جو ہمیں منظور نہیں ‘ توقع ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں جلد بہتری آجائے گی‘ سرتاج عزیز موثر انداز میں مشیر خارجہ کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں‘ خارجہ پالیسی کے حوالے سے ارکان قومی اسمبلی اپنی اپنی تجاویز دیں‘ ان کی روشنی میں خارجہ پالیسی پر نظرثانی کی جائے گی۔

عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ ارکان نے صرف خارجہ پالیسی پر بحث بھارت اور افغانستان تک محدود رکھی ہے، عالم اسلام اور دیگر اقوام عالم کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کسی قسم کی تنقید سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ ملک کی خارجہ پالیسی ناکامی کا شکار ہے۔ بدقسمتی سے افغانستان کے ساتھ کبھی تعلقات اچھے نہیں رہے،افغانستان نے پاکستان کی اقوام متحدہ کی رکنیت کی مخالفت کی، دو جنگوں میں افغانستان نے بھارت کی حمایت کی، ہماری حکومت نے برسر اقتدار آکر افغان صدر کو جی ایچ کیو میں بریفنگ دی، ہم اب بھی 30 لاکھ افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کر رہے ہیں۔ پاک افغان بارڈر خاص وجوہات کی بناءپر بند کیا گیا ہے۔ وہ کارروائیاں کرتے رہیں اور ہم بارڈر بھی بند نہ کریں۔ افغانستان کی طرف سے پاکستان میں کارروائیوں کے حوالے سے احرار کی سپورٹ کی انٹیلی جنس اطلاعات ہیں۔ ہم افغانستان پر حملہ یا اندر جاکر فوجی کارروائی نہیں کر سکتے۔ صرف بارڈر بند کرکے اپنا تحفظ کر سکتے ہیں، گرفتار دہشتگردوں سے افغانستان میں ان کے ٹھکانوں کی بھی نشاندہی ہوئی ہے۔