مریم نواز پاکستان مسلم لیگ( ن)کا مستقبل ہیں، خواجہ آصف

اسلام آباد: وزیرخارجہ خواجہ محمدآصف نے کہا کہ وہ شخصیت جو ایم این اے بن سکتی نہ پارٹی صدر پھر بھی اسی کا طوطی بول رہا ہے۔مریم نواز پاکستان مسلم لیگ( ن)کا مستقبل ہیں۔چیئرمین سینیٹ کے لیے ہمارے پاس اتحادیوں کو ساتھ ملانے کے بعد 49 ووٹ ہیں۔ 4کم ووٹ پورے کرنے کے بعد ہی چیئرمین سینیٹ کی نامزدگی کا فیصلہ ہوگا۔
نجی ٹی وی کو انٹرویومیںخواجہ محمدآصف نے کہا کہ ماضی میں امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات رہے ہیں۔ آج کل دونوں جانب سے تعلقات اچھے نہیں۔پاک امریکہ تعلقات میں اعتماد کی کمی ہے۔ 80کی دہائی کی افغان جنگ پاکستان کے بغیر جیتی نہیں جاسکتی۔ جغرافیائی لحاظ سے امریکہ آج بھی پاکستان کو استعمال کررہا ہے۔ امریکہ نے پاکستان کو مطلوب افراد کی فہرست دی۔ پاکستان نے 27مطلوب افراد امریکہ کے حوالے کئے۔ ماضی میں ہم نے کئی غلطیاں کیں ہیں۔ ہم نے اپنی غلطیوں کا خمیازہ بھگتااور قیمت ادا کی۔
افغانستان کے خلاف کارروائی میں پاکستان امریکہ کا ساتھ دیتا رہا۔ افغانستان میں امن کیلئے پاکستان ہر ممکن تعاون کیلئے تیا رہے۔ بے پناہ قربانیوں کے بعد ہم نے دہشتگردی کی آگ کو ٹھنڈا کیا۔ چاہتے ہیں گرے لسٹ میں زیادہ عرصے تک نہ رہیں۔ پیپلزپارٹی حکومت میں ہم دونوں لسٹوں میں رہے ہیں۔ پاکستان کے روس کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔ ایل این جی پر روس کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔ ایل این جی معاہدے سے ملکی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ 2018کے الیکشن سے اچھی توقعات وابستہ ہیں۔ سواسال میں مسلم لیگ ن کے ووٹ بنک میں 70ہزار ووٹ کا اضافہ ہوا ہے۔ اسی پیمانے کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہم نے کیا پایا ہے اور پی ٹی آئی نے کیا کھویا ہے۔ لودھراں میں پی ٹی آئی کا ستون منہدم ہوگیا اور ن لیگ کے ووٹ بنک میں 27ہزار کا اضافہ ہوا ہے۔ ن لیگ کی کامیابی کا اندازہ لودھراں الیکشن سے لگایا جاسکتا ہے یہ 2018کے الیکشن کیلئے بہت بڑا اشارہ ہے۔ اسی طرح چکوال اور سرگودھا کے ضمنی الیکشنوں سے بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ووٹروں کا جھکاﺅن لیگ کی طرف ہے اور یہ گزشتہ چار سال کی نوازشریف کی حکمرانی میں ہونے والی کامیابیوں کا ثمرہے اور ان کامیابیوں میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ ہمارے اراکین نے آزاد حیثیت سے سینیٹ الیکشن میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔ حیرت کی بات ہے کہ ایک شخص نہ ایم این اے بن سکتا ہے اور نہ پارٹی کا صدر پھر بھی اس کا طوطی بول رہا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ن لیگ چھوڑنے والے دوسری جماعت میں نہیں جا رہے بلکہ آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں ن لیگ کا ہر کارکن نواز شریف کا وفادار ہے۔مریم نواز مسلم لیگ ن کا مستقبل ہیں وہ موجودہ دور کی سیاست کر رہی ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ہم یہ پارٹی اچھے ہاتھوں میں چھوڑ کر جائیں گے۔میاں نواز شریف اس ملک کے تین بار وزیر اعظم بنے ہم نے عدلیہ بحال کروائی اس ملک کو ترقی سے روشناس کرایا۔ پارٹی صدر شہباز شریف کی بے شمار خدمات ہیں پنجاب جتنی ترقی کسی صوبے نے نہیں کی۔
چیئرمین سینیٹ کے لیے ہمارے پاس 34ووٹ ہیں اگر تمام اتحادیوں کو ساتھ ملایا جائے تو 49بنتے ہیں اس کے باوجود بھی 4ووٹ کم ہیں ووٹ پورے کرنے کے بعد ہی چیئرمین سینیٹ کا فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست ممکنات کا کھیل ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سیاست میں تناﺅ کو کم کیا جائے جو پچھلے تین چار سال میں پیدا ہوا ہے کوئی ایسا راستہ نکلنا چاہیے جس میں 100-200-500فیصد صرف اور صرف آئین کی حکمرانی ہو۔ کسی ادارے کی طرف سے آئین کے تقدس اور حرمت پر کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہیے۔ کوئی شخص آئین سے بالاتر نہیں ہے۔ آئین اگر اس ملک میں آئین کی حکمرانی قائم نہ ہوئی تو ملک کے لیے مناسب نہیں ہمارا دشمن مسلسل جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے ہم پر خطر دور میں رہ رہے ہیں۔