یورپی ممالک خود جو چاہے کریں ہم ٹیکس لگائیں تو غلط، ٹرمپ

یورپی ممالک خود جو چاہے کریں ہم ٹیکس لگائیں تو غلط، ٹرمپ

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات چیت میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کی جانب سے ایٹمی مذاکرات پر آمادگی بہت خوش آئند ہے۔ شمالی کوریا مثبت اقدام کر رہا ہے اور ابھی ہمیں اس حوالے سے دیکھنا ہو گا تاہم امریکا کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف عالمی ممالک بلکہ شمالی کوریا اور خطے کے لیے بھی ایک زبردست بات ہو گی تاہم ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہوتا کیا ہے؟۔

 انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اس حوالے سے اقدامات کرے گا تاکہ یہ صورت حال خراب نہ ہو۔ انہیں یقین ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے اخلاص کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے اور امید ہے کہ ایسا ہی ہو اور اس کی وجہ پابندیاں اور وہ اقدامات ہیں جو امریکا نے اٹھائے ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت کو سعودی فضائی حدود استعمال کر کے اسرائیل جانے کی اجازت مل گئی

ادھر سویڈن کے وزیر اعظم اسٹیفن لوفن سے ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا کہ 2016 کے انتخابات میں روس اور دیگر ممالک نے مداخلت کی تھی تاہم اس سال کے آخر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں مداخلت کی کوشش کی گئی تو اس کا جواب دیا جائے گا مگر روسی مداخلت امریکی ووٹنگ پر اثر انداز نہیں ہوئی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یورپی ممالک خود جو چاہے کریں ہم ٹیکس لگائیں تو غلط کہا جاتا ہے اگر یورپ باز نہ آیا تو ان کی گاڑیوں پر بھی ٹیکس لگا دیں گے۔

 

یہ بھی پڑھیں: ’ایودھیا تنازع حل نہیں ہوا تو پھر انڈیا میں شام جیسے حالات ہو جائيں گے‘

یاد رہے رواں ہفتے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے جنوبی کوریا سے آئے وفد سے کہا ہے کہ وہ دوبارہ اتحاد کر کے نئی تاریخ رقم کرنا چاہتے ہیں۔ کم جونگ ان نے وفد سے مزید کہا کہ وہ باہمی تعلقات میں بھرپور اضافہ اور مضبوطی دیکھنا چاہتے ہیں۔ شمالی کوریا کے رہنما نے جنوبی کوریا کے وفد کے اعزاز میں عشایئہ بھی دیا تھا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں