نیب ریفرنسز میں توسیع کا واضح مطلب ہے کہ کچھ نہیں نکلا، مریم نواز

نیب ریفرنسز میں توسیع کا واضح مطلب ہے کہ کچھ نہیں نکلا، مریم نواز

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا سپریم کورٹ کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت میں توسیع کا واضح مطلب ہے کہ ’کچھ نہیں نکلا ہے۔ اگر چھوٹا سا بھی ثبوت ہوتا تو یہ فیصلہ دینے میں دو دن نہ لگاتے۔

  پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں احتساب عدالت کو شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کا ٹرائل 6 ماہ میں مکمل کرنا تھا جس کی مدت 13 مارچ کو مکمل ہو رہی تھی جس کے باعث عدالتی وقت میں ٹرائل مکمل کرنا ناممکن ہو گیا تھا تاہم سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز میں 2 ماہ اور اسحاق ڈار کے خلاف 3 ماہ کی توسیع کر دی ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے شاہد مسعود کی معافی اور مقدمہ واپس لینے کی پیشکش مسترد کر دی

واضح رہے سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔

نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن اور حسین نواز ، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا۔

العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: معافی کام نہ آئی، نہال ہاشمی کو پھر توہین عدالت کا نوٹس جاری

نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز اب تک احتساب عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت انہیں مفرور قرار دے کر ان کا کیس الگ کرچکی ہے۔

نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں تین ضمنی ریفرنسز بھی دائر کیے گئے ہیں جن میں ایون فیلڈ پراپرٹیز ضمنی ریفرنس میں نواز شریف کو براہ راست ملزم قرار دیا گیا ہے جبکہ العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ضمنی ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر نامزد ہیں۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں