امکان ہے کہ امریکا کے جانے کے بعد طالبان حکومت پر قبضہ کر لیں، ٹرمپ

امکان ہے کہ امریکا کے جانے کے بعد طالبان حکومت پر قبضہ کر لیں، ٹرمپ
معاہدے کے چند گھنٹوں بعد ہی افغان صدر اشرف غنی معاہدے کی اہم شرط سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے نکلنے کے بعد طالبان وہاں حکومت پر قبضہ کر سکتے ہیں۔ امریکا اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو قطر میں ایک تاریخی معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت افغانستان میں گزشتہ 18 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہو گی اور افغانستان سے امریکی اور غیر ملکی افواج 14 ماہ میں واپس چلی جائیں گی۔


امریکا طالبان معاہدے کے چند گھنٹوں بعد ہی افغان صدر اشرف غنی معاہدے کی اہم شرط سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔

اشرف غنی کا کہنا تھا کہ طالبان قیدیوں کی رہائی افغان حکومت کی صوابدید ہے جب کہ اس کے جواب میں طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم نے جس سے معاہدہ کیا ہے شرائط بھی ان سے ہی منوائیں گے۔

اس معاہدے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان رہنما ملا برادر سے ٹیلی فونک رابطہ بھی کیا تھا اور دونوں کے درمیان طویل گفتگو میں ایک دوسرے کو معاہدے پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں کی جانب سے جب سوال کیا گیا کہ امریکا کے جانے کے بعد کہیں طالبان تو حکومت پر قبضہ نہیں کر لیں گے؟ اس سوال کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ایسا نہیں ہونا چاہیے لیکن امکان ہے کہ ایسا ہو گا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم 20 سال سے افغانستان میں ہیں اور ان کی حفاظت کر رہے ہیں لیکن ہم مزید 20 سال تک وہاں نہیں ہوں گے، بالآخر انھیں اپنی حفاظت خود کرنی ہے۔