سونو نگم نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے عمل کو خبروں کی زینت بنے رہنے کا طریقہ سمجھ لیا

سونو نگم نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے عمل کو خبروں کی زینت بنے رہنے کا طریقہ سمجھ لیا ہے

سونو نگم نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے عمل کو خبروں کی زینت بنے رہنے کا طریقہ سمجھ لیا

ممبئی: گلوکار سونو نگم نے مسلمانوں کے جذباتسے کھیلنے  کے عمل کو خبروں کی زینت سمجھ لیا ہے اور اسی لئے وہ ایک کے بعد ایک گھٹیا  بیاندیتے رہے ہیں، پہلے گلوکارنے اذان سے متعلق ٹویٹس کر کے اپنے لئے مسائل پیدا کئے تو اب انہوں نے فتوے پرشدید تحفظات کا اظہارکیا ہے۔


 سونونگم بھارت کے مشہوررئیلٹی شو ’عوام کی عدالت‘ میں شریک تھے جہاں ان کا کہنا تھا کہ تمام لوگوں کو گرفتار کرنا چاہیے جو مختلف قسم کے فتوے دیتے ہیں۔ گلوکارنےمزید  کہا کہ وہ ’گاؤرکشن‘ کے بھی خلاف ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

سونونگمکا کہنا تھا کہ  ہم ایک جمہوری ملک میں رہتے ہیںہمارے پاس فتوے کو دینے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔، کسی کو بھی کسی کے مذہب سے کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ کسی کے لیے بھی اس طرح کا فتوی جاری نہیں کیا جاسکتا کہ اسے گنجا یا قتل کردیا جائے، میرے خلاف بھی قتل کرنے کا فتوی جاری کیا گیا تھا اورایک مولوی نے تومجھے گنجا کرنے پرانعام بھی رکھا تھا۔