سپریم کورٹ میں طلال چودھری توہین عدالت کیس کی سماعت کرنے والا بینچ تحلیل

سپریم کورٹ میں طلال چودھری توہین عدالت کیس کی سماعت کرنے والا بینچ تحلیل

جس ملک کا وزیر داخلہ قاتلانہ حملے میں زخمی ہو اس ملک کا مستقبل کیا ہو گا؟ ...فائل فوٹو

اسلام آباد:سپریم کورٹ میں طلال چودھری توہین عدالت کیس کی سماعت کرنے والا بینچ تحلیل ہو گیا جس کے بعد کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اصغر خان کیس،سابق آرمی چیف جنر(ر)مرزاا سلم بیگ سپریم کورٹ میں پیش ہوگئے

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کیخلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس میں بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل کے ریٹائر ہونے کی بناءپر بینچ کو تحلیل کردیا گیا ہے جبکہ کیس کیلئے نیا بینچ تشکیل دیا جائے گا۔

وزیرمملکت نے کیس کی سماعت کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احسن اقبال پر حملہ افسوسناک ہے،وزیر داخلہ نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بہت کام کیا۔

یہ بھی پڑھیں:نیب کو غیر موثر کرنے کیلئے وزیراعظم سے بات ہوئی تھی، نواز شریف

انہوں نے مزید کہا کہ وزیرداخلہ پر حملے کے بعد پاکستان کا دنیا میں کیا امیج جا رہا ہے؟جس ملک کا وزیر داخلہ قاتلانہ حملے میں زخمی ہو اس ملک کا مستقبل کیا ہو گا؟ سب کو سوچنا چاہیے ہم کس راہ پر چل رہے ہیں،ایسے واقعات سے ملک کا غلط تاثر جاتاہے ، احسن اقبال نے پاکستان کے حوالے سے اپنا کرادر ادا کیا،حملے کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سروسز ہسپتال میں احسن اقبال کا آپریشن مکمل ، طبیعت تسلی بخش قرار

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں امن اور خوشحالی نہ ہو تو دنیا میں غلط امیج اجاگر ہوتا ہے، نواز شریف اس پاکستان کے خلاف ہیں جہاں امن نہ ہو،خوشحالی نہ ہو،ہم پاکستان کو ناکام کرنے کا پلان کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کا مقدمہ درج ،دہشتگردی کی دفعات شامل

انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کے دور اقتدار میں ملک آگے جا رہا تھا سٹاک ایکسچینج عروج پر تھی لیکن ن لیگ کی اکثریت کو توڑتے توڑتے ملک کا کیا حال کر دیا گیا، اپنے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے اور صرف ایک اقامہ پر ملک کے منتخب وزیراعظم اور وزیرخارجہ کو نا اہل کر دیا جاتاہے، ایسے فیصلوں سے ملک ترقی نہیں کرتا۔

یہ بھی پڑھیں:اداکار عمران اشرف رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے

وزیر مملکت نے کہا کہ ملک میں امن کی نہایت نازک صورتحال ہے، ہمیں سیاسی اور مذہبی انتشار سے بچنا ہو گا۔خیال رہے کہ توہین عدالت کیس میں طلال چوہدری پر 15 مارچ کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔