الوداع اے رمضان المبار ک الوداع !

الوداع اے رمضان المبار ک الوداع !

اللہ کریم کا احسان عظیم کہ اس پاک ذات نے توفیق عطا فرمائی اور رمضان المبار ک کے تیس روزے رکھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ 8عشروں کے لگ بھگ حیات مستعار میں کم و بیش 65/66ایسے رمضان المبار ک گزرے ہوں گے جن میں روزے رکھنے نصیب ہوئے ۔ ان میں کم از کم تین بار اپریل ، مئی  کے اسی طرح کے گندم کی فصل کاٹنے اور گاہنے کے گرم دنوں کے روزے بھی رکھے ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے اسی طرح کے گندم کاٹنے اور گاہنے کے ماہ اپریل کے گرم دن تھے جب میں نے پہلی بار روزے رکھنے کا آغاز کیا اس وقت میری عمر 13/14برس ہو گی اور ملحقہ قصبے کے ہائی سکول میں غالباً 9ویں جماعت کا طالب علم تھا۔ کہا جا سکتا ہے کہ اس کے بعد آنے والے ہر رمضان المبار ک میں باوجود بہت ساری لغزشوں، خطائوں، کمزوریوں ، عبادات میں کوتاہییوں اور رمضان المبار کے تقاضوں کو پورے کرنے میں غفلتوں اور لا پرواہیوں کے پورے روزے رکھے ہوں گے اور ان کو توڑنے یا چھوڑنے کی شاد و نادر ہی نوبت آئی ہو گی۔ ان میں کم گرمی اور کم سردی کے معتدل موسموں کے روزے رکھنے نصیب ہوئے ہیں، انتہائی گرمی کے طویل دنوں کے سخت پیاس سے بے حال کرنے کے روزے رکھنے کی بھی توفیق حاصل رہی ہے۔ اس دوران کم و بیش تین بار اپریل مئی کے انہی دنوں کے روزے بھی رکھے ہیں۔ قمری سال (ہجری سال)چونکہ عیسوی سال (انگریزی سال ) کے 365دنوں کے مقابلے میں 354دنوں کا ہوتا ہے اس لئے گیارہ دنوں کے اس فرق کی بنا پر ہر قمری مہینہ پچھلے سال کے مقابلے میں اگلے سال 11دن پہلے شروع ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اس سال رمضان المبارک 3اپریل کو شروع ہوا تھا تو آئندہ سال رمضان المبارک 12دن قبل مارچ کی 22یا 23تاریخ کو شروع ہو گا۔ دنوں کے اس فرق کی بنا پر 32, 33سالوں کے بعد رمضان المبار ک کے روزے عین انہی دنوں میں دوبارہ آجاتے ہیں جہاں وہ 32, 33سال قبل گزرے تھے۔ اس کی وضاحت یوں بھی کی سکتی ہے کہ 2022ء  اپریل میں اس سال رمضا ن المبارک کا مہینہ گزرا ہے تو اب تقریباً 2054؁ء میں انہی اپریل کے دنوں میں رمضان المبارک کے روزے دوبارہ آئیں گے۔ یہ وضاحت کچھ طویل ہو گئی ہے مجھے کہنا یہ تھا کہ اپنی حیات مستعار میں اپریل کے ان دنوں میں 3بار رمضان المبارک کے روزے رکھنے نصیب ہو چکے ہیں۔ پہلی بار 13/14برس کی عمر میں 1957-58میں ، دوسری بار 32سال بعد 1989-90میں  اور اب تیسری بار 2022میں ۔ اللہ جانتا ہے کہ اگلا رمضان یا اور کتنے رمضان نصیب ہو تے ہیں یا نہیں، اس وقت اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ "الوداع اے رمضان المبار ک الوداع "۔ 

اپریل 2022میں گزرنے والے سن ہجری 1443ء کے اس رمضان المبارک کا ذکر کرتے ہوئے خیال تھا کہ اس رمضان المبارک میں ہماری قومی تاریخ کو جن خوشگوار ، نا خوشگوار، پریشان کن ، صبر آزما، آئین شکن اور کسی حد تک تاریخ ساز حالات و واقعات پیش آئے ہیں جنہوں نے اس رمضان المبارک کو یاد گار بنا دیا ہے کا ذکر کیا جائے۔ لیکن یہ حالات و واقعات صراحت کے ساتھ سامنے آچکے ہیں کہ ان کو دہرانا شاید زیادہ مناسب نہ ہو۔ واپس کچھ ذاتی حالات و واقعات کے تذکرے کی طرف آتے ہیں۔ میں ذکر کرنا چاہوں گا کہ 30رمضان المبار ک کا دن کیسے گزرا ، بلا شبہ یہ اس رمضان المبار ک کا میرے لئے ایک انتہائی مشکل ترین روزے کا دن تھا جس نے سخت بے حال کیا۔ لیکن شکر الحمد للہ گزر ہی گیا۔ 

جیسے شروع میں ذکر آیا کہ اپریل مئی کے دن ہمارے ہاں گندم کی کٹائی اور اس کے گاہنے کے انتہائی مشکل اور مصروف ترین دن ہوتے ہیںَ ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ گندم کی فصل کے اس اختتامی مرحلے کی جلد از جلد تکمیل کر کے سرخرو ہو جائے۔ لیکن ایسا کرنا کچھ آسان نہیں ہوتا۔ گندم کی کٹائی کے لئے افرادی قوت (مزدور وغیرہ ) آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے ہیں۔ اور اگر کٹا ئی ہو جائے تو دور دراز کے کھیتوں میں کٹی ہوئی فصل کو ایک جگہ اکٹھا کرنا اگلا مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد ٹریکٹر تھریشر کی دستیابی اور تھریشر کے ذریعے گندم کے گاہنے کے لئے 5/6جوان افراد کا کام کے لئے موجود ہونا ایک اور انتہائی مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ یہی مسائل اور مشکلات ہیں کہ ہم بھائیوں نے اپنی مزروعہ زمین کا بڑا حصہ پچھلے سال سے ٹھیکے پر دے دیا ہے۔ تاہم اپنی ضرورت کا اناج حاصل کرنے کے لئے ایک آدھ کھیت اپنے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ حسب سابق اس سال بھی اپنے کھیت میں میں نے گندم ، DAPاور یوریا کھادوں کا استعمال کر کے کاشت کروائی ، ایک آدھ پانی بھی بر وقت دے دیا ، جڑی بوٹیاں تلف کرنے کے لئے سپرے بھی کروایا۔ مارچ کے شروع تک فصل بہت جاندار دکھائی دے رہی تھی ، پھر ہمارے نامہ اعمال کی سزا کہ وسط مارچ کے بعد موسم اچانک کافی گرم ہو گیا ، بار ش بھی نہ ہوئی اور گندم کے خوشے اور سٹے اس گرمی کو برداشت نہ کر پائے اور کمزور رہ گئے۔ ہمارے ہاں گندم کی فصل کے ساتھ اس طرح کی صورتحال پیش آنے کو ہوا کا مارنا کہتے ہیں۔ گویا ہماری گندم کی فصل کو بری طرح ہوا مار گئی ۔ 

خیر گندم کی فصل جیسے بھی تیار ہو رہی تھی اس کی کٹائی تو بہر کیف ضروری تھی ۔کٹائی کے لئے کوئی معقول بندو بست نہیں ہو رہا تھا ، اللہ بھلا کرے میری چھوٹی بہن کا کہ انہوں نے برادری میں سے 2/3خواتین کو کٹائی پر آمادہ کر لیا۔  29ویں روزے کو ان کا فون آیا کہ کٹائی مکمل ہو چکی ہے۔ اب میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ عید سے قبل گندم گاہ لی جائے تو کتنا اچھا ہو۔ تیسویں روزے کو میں صبح 9/10بجے گائوں پہنچ گیا ، کنویں پر گیا کہ کٹی ہوئی فصل ایک جگہ اکٹھی تھی۔ واپس گھر آیا اور اپنے بھتیجے عمران ملک سے ٹریکٹر ، تھریشر اور مشین پر کام کرنے کے لئے کم از کم 2/3مزدوروں کی دستیابی کے لئے کہا ۔ عمران نے مزدوروں کے لئے ادھر ادھر فون کئے لیکن کام کرنے کے لئے کوئی مزدور دستیاب نہ ہوا ۔ میں چاہتا تھا کہ کام آج ہی ہو جائے تو زیادہ اچھا ہو گا۔ بڑی مشکل سے اپنے عزیزوں میں سے دو کم عمر لڑکے کام میں ہاتھ بٹانے کے لئے تیار ہو گئے ۔ ٹریکٹر تھریشر کا بندو بست کیا اور پھر اللہ نے کرم کیا کہ جس کنبے کو ہم نے اپنی زمین ٹھیکے پر دے رکھی ہے اس کنبے کا ایک نوجوان اپنے ساتھی کے ہمراہ کام کرنے کے لئے مل گیا۔ کام شروع ہوا میں تھریشر کے پرنالے کے ساتھ جہاں سے صاف دانے نیچے گرتے ہیں بیٹھ گیا تاکہ دانوں کو توڑوں میں ساتھ ساتھ بھرتا جائوں ۔باریک بھوسہ مٹی اور گندم کے خوشوں کے ٹوٹے اور ہوا میں اڑتے اجزاء بری طرح میرے چہرے اور ہاتھوں پر پڑ رہے تھے لیکن میں ان سے بے نیاز اپنے کام میں لگا رہا۔ شومیٔ قسمت کہ کوئی آدھا کام ہوا ہوگا کہ ٹریکٹر میں خرابی پیدا ہو گئی۔ اس کے جنریٹر نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ جنریٹر کھولا گیا اور ٹریکٹر کا مالک 5/6کلو میٹر دور لاری اڈے پر ورکشاپ میں اسے ٹھیک کروانے کے لئے لے گیا۔ اس دوران کام رکا رہا ۔ میں قریب ہی بکائین (دھیریک) کے ایک سایہ دار درخت کے نیچے اپنا پرنا بچھا کر ناہموار زمین پر لیٹ گیا۔ جسم کا انگ انگ درد کر رہا تھا اور کچھ کانٹے بھی ادھر ادھر چبھ رہے تھے۔ زبان پیاس کی شدت کی وجہ سے تالو سے لگی ہوئی تھی۔ بڑی مشکل سے ظہر کی نماز ادا کی اسی دوران ڈیڑھ دو گھنٹے گزر گئے۔ عصر کی اذان ہوئی تو ٹریکٹر کا مالک جنریٹر مرمت کروا کے واپس پہنچ گیا اس دوران میرا بھتیجا عمران اور بیٹاحارث ملک بھی آگئے۔ ٹریکٹر سٹار ٹ ہوا اور دوبارہ کام شروع ہو ا۔ افطار سے کوئی آدھا گھنٹہ قبل کام تو پورا ہو گیا لیکن اپنی حالت کچھ ایسی تھی کہ زبان سے بولنے یا جسم کو حرکت دینے کی ذرہ بھی سکت باقی نہیں تھی۔ بڑی مشکل سے گندم کے دانوں والے توڑوں کو ڈوریوں سے بند کیااور عین افطاری کے وقت گھر پہنچے۔ سادہ پانی اور شربت نورس سے بنے مشروب کے کتنے ہی کٹورے پی لئے لیکن زبان کی خشکی اور پیاس ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ کچھ اور کھانے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔ سچی بات ہے جسم جس طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا اس کے اثرات اب تک باقی ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ مجھے روزہ رکھ کر ایک آدھ دن تھوڑا سا کام کرنا پڑا تو میری یہ حالت ہو گئی ، ہمارے وہ بزرگ کتنی ہمت ، صبر اور شکر کے مالک تھے جو گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں روزہ رکھ کر کھیتوں میں کام کرتے تھے ،پھر بھی گھبراتے نہیں تھے بلکہ ان کی زبانوں پر اللہ کریم کا شکر جاری رہتا تھا۔ 

مصنف کے بارے میں