ہو گیجونیئرایشین یوتھ اینڈ جونیئر ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ ٹوکیو میں منگل شروع ہوگی ،قومی ٹیم شرکت کے لئے روانہ صبح جاپان روانہ

اسلام آباد: پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کے نائب صدر محمد راشد ملک نے کہا ہے کہ قومی ٹیم ایشین یوتھ اینڈ جونیئر ویٹ لیفٹنگ چیمپئن شپ میں قوم کو مایوس نہیں کرے گی اوریہ چیمپئن شپ منگل سے جاپان کے شہر ٹوکیو میں شروع ہوگی، گذشتہ روز اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی جونیئر ٹیم ایشین یوتھ اینڈ جونیئر ویٹ لیفٹنگ چیمپئن شپ میں شرکت کے لئےمنگل کی صبح جاپان روانہ ہوگی، یہ چیمپئن شپ 8 نومبر سے 15 نومبر تک جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں کھیلی جائے گی۔

قومی جونیئرٹیم کے کھلاڑیوں نے تربیتی کیمپ میں بھر پور محنت کر رکھی ہے اور چیمپئن شپ میں شاندارکارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قوم مایوس نہیں کرے گی، انہوں نے کہا کہ ایشین یوتھ اینڈ جونیئر ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں تین کھلاڑی پاکستان کی نمائندگی کریں گے جن میں طلحہ طالب 62 کلوگرام، فرحان احمد 72 کلوگرام اور محمد نوح دستگیر بٹ پلس 105کلوگرام ویٹ کیٹگریز میں شامل ہیں، ملک راشد نے کہا کہ ان تینوں کھلاڑیوں نے گذشتہ ماہ 26 سے 31 اکتوبر تک ملائیشیا ء میں کھیلی گئی کامن ویلتھ چیمپئن شپ کے ایونٹس میں میڈلز حاصل کر رکھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کامن ویلتھ گیمز میں طلحہ طالب نے 62 کلوگرام میں یوتھ میں سونے اورجونیئر میں چاندی کا تمغہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بہترین ویٹ لفٹر کی ٹرافی بھی حاصل کی یہ ملک تاریخ میں پہلی بار حاصل کی گئی ہے، فرحان احمد نے 72 کلوگرام نے یوتھ میں کانسی کا اور محمد نوح دستگیر بٹ نے پلس 105کلوگرام میں جونیئر میں چاند ی اور سنیئر میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا، اس لئے توقع ہے کہ تینوں کھلاڑی اس ایونٹ میں بھی میڈلز کے ساتھ وطن واپس لوٹیں گے، ٹیم کے ہمراہ پاکستان ویٹ لفٹگ فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل محمد امین بٹ اور عرفان بٹ بالترتیب بطور ٹیم منیجر اور کوچ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ چیمپئن شپ میں میزبان چاپان، کوریا، پاکستان، ایران، ازبکستان قزاخستان اور چین سمیت 18 ملکوں کے ویٹ لفٹر حصہ لیں گے اورایشین یوتھ اینڈ جونیئر ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ 15 نومبر تک جاری رہے گی اور قومی ٹیم کے کھلاڑی 16 نومبر کو واپس وطن پہنچیں گے، ایک سوال کے جواب میں راشد ملک نے کہا کہ پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن میاں محمداسلم کی سرپرستی میں گراس روٹ لیول پر بھی مقابلے کرواتی ہے جس میں سکولوں اور کالجز کے کھلاڑی شرکت کرتے ہیں اور اچھی کارکردگی دکھانے والوں کو تربیتی کیمپ میں شامل کرکے ان جدید اور اعلیٰ تربیت دی جاتی ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا کوئی نہ کوئی کھلاڑی ہر انٹرنیشنل سطح پر ٹورنامنٹس میں میڈل حاصل کرتا ہے اور حکومت کو دیگر کھیلوں کی طرح اس کھیل کے فروغ کے لئے بھی زیادہ سے زیادہ اقدامات کرنے چاہئے۔