شریف خاندان کے خلاف تینوں ریفرنسز کو یکجا کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ ،کل سنایا جائے گا

شریف خاندان کے خلاف تینوں ریفرنسز کو یکجا کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ ،کل سنایا جائے گا

اسلام آباد :احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف تینوں ریفرنسز کو یکجا کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو کل سنایا جا ئے گا . سابق وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے کہ نیٹو کنٹینرز کیس میں سندھ ہائی کورٹ نے 49 ریفرنسز کو یکجا کرنے کا فیصلہ سنایا . شریف فیملی کے خلاف تینوں ریفرنسز میں الزام واضح نہیں کیا گیا. نیب پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ تینوں ریفرنسز میں ملزمان الگ الگ اور ٹرانزیکشن بھی مختلف ہیں.


اس سے پہلے عدالت کے روبرو شریف فیملی کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے کہ تینوں ریفرنسز میں الزام واضح نہیں کیا گیا.ریفرنسز مختلف جبکہ 9 گواہ بھی مشترک ہیں .نیب آرڈی نینس کی مختلف شقوں کو آپس میں مکس نہیں کیا جا سکتا۔خواجہ حارث نے کہا کہ اس سے پہلے نیٹو کنٹینرز کیس میں سندھ ہائی کورٹ نے49 ریفرنسز کو یکجا کرنے کا فیصلہ سنایا .

اس پر نیب پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ ایک سے زائد ملزمان پر سیکشن سترہ ڈی کا اطلاق نہیں ہوتا ۔ملزمان الگ الگ ہیں اور ٹرانزیکشن بھی مختلف ہیں۔تمام ریفرنسز میں تمام ملزمان کے کردار بھی الگ الگ ہیں۔نام اور ڈیپارٹمنٹ ایک ہونے سے گواہ ایک جیسے نہیں ہو جائیں گے۔

عدالت میں مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر کی جانب سے ایک اور درخواست بھی دائر کی گئی ۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں جعلسازی کے الزام کی فرد جرم شامل نہیں کی جا سکتی۔کیلبری فونٹ سے متعلق جعلسازی کا الزام ثابت ہونے تک فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔