موسمیاتی تبدیلی کا بوجھ برابری کی بنیاد پر نہیں منصفانہ تقسیم ہونا چاہئے: وزیراعظم

موسمیاتی تبدیلی کا بوجھ برابری کی بنیاد پر نہیں منصفانہ تقسیم ہونا چاہئے: وزیراعظم

قاہرہ: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا بوجھ برابری کی بنیاد پر نہیں منصفانہ طور پر تقسیم ہونا چاہئے، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے اقدامات نہ کئے گئے تو دنیا میں 2050ءتک 216 ملین افراد بے گھر ہو جائیں گے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سب سے زیادہ کمزور طبقے پر پڑتے ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق مصر میں ’موسمیاتی تبدیلی اور کمزور کمیونٹیز کے استحکام کے موضوع پر گول میز کانفرنس‘ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ یہ موسمیاتی انصاف کا معاملہ ہے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سب سے زیادہ کمزور طبقے پر پڑتے ہیں، پاکستان میں حالیہ سیلاب سے 33 ملین افراد متاثر ہوئے، 4410 ملین ایکڑ زرعی زمین کو نقصان پہنچا ہے، تقریباً 40 لاکھ بچوں کو صحت کی خدمات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ 

وزیراعظم نے کہا کہ ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی اس دہائی کا اہم بحران ہے اور ہم اس کے خلاف اپنی اجتماعی لڑائی کے تاریخی لمحے میں ہیں، ہمارے پاس خاص طور پر ایسے ممالک اور معاشرے جو انتہائی خطرے سے دوچار ہیں، کیلئے کوئی دوسرا کرہ ءارض نہیں ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ اب یہ ایک مسلمہ سائنسی حقیقت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ ہماری منصوبہ بندی سے کہیں زیادہ تیزی سے ہو رہی ہے۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ترقی پذیر یا کم ترقی یافتہ ممالک اور معاشرے جو فرنٹ لائن پر ہیں، کو مدد کی ضرورت ہے، بہت سے ممالک بالخصوص افریقی ممالک جنہیں تباہ کن خشک سالی کا سامنا رہا ہے، کمزور اقوام کے گروپ میں آتے ہیں، پھر بھی ہماری طرح کم اخراج والے ممالک زندگی اور معاش کے حوالے سے بدلتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ میرا اپنا ملک بھی اس صورتحال سے گزر رہا ہے اور اس وقت بھی اسی طرح کی کیفیت کا ہمیں سامنا ہے، پاکستان میں تباہ کن سیلاب نے تیزی سے ہمارے ذہنوں کو اس بات پر مرکوز کر دیا ہے کہ اس طرح کی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سب سے زیادہ کمزور طبقے پر پڑتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور تنازعات خواتین اور بچوں کے ساتھ ساتھ غریب ترین افراد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ 33 ملین افراد میں سے نصف سے زائد تعداد خواتین اور بچوں کی ہے جن میں سے 6 لاکھ 50 ہزار حاملہ خواتین کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، ہمارے کسان اور مال مویشی پالنے والوں کا آن کی آنکھوں کے سامنے ان کا معاش تباہ ہو گیا۔ 

وزیراعظم نے کہا کہ انسانیت موسمیاتی تبدیلی کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے، قابل قبول موسمیاتی تبدیلی کی حد پہلے ہی عبور ہو چکی ہے، پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ یقینا پاکستان میں نہیں رہے گا اور اس کا ثبوت نائجیریا اور جنوبی سوڈان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حالیہ اثرات سے ظاہر ہوتا ہے، عالمگیر سطح پر موسمیاتی تبدیلی کیلئے بلاشبہ اجتماعی نقطہ نظر کی ضرورت ہو گی تاکہ سب سے زیادہ کمزور طبقہ کی مدد کی جا سکے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ پسماندہ، معذور، غریب اور سماجی طور پر کمزور افراد کی زندگیوں پر موسمیاتی تبدیلی کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، ہمارے پاس پہلے سے ہی دنیا کے سب سے موثر سماجی تحفظ کے پروگراموں میں سے ایک کا بنیادی ڈھانچہ موجود ہے جس کا نام بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) ہے، اس پروگرام کو متاثرہ آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے فوری طور پر استعمال کیا گیا، اس پروگرام کو مختلف عطیہ دہندگان کے ذریعے سپورٹ کیا جا سکتا ہے اور اسی طرح کے سماجی تحفظ کے پروگرام کو دوسرے ممالک بھی کمزور طبقات کی سماجی تحفظ کے لئے اپنا سکتے ہیں۔ 

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا موافقت کا پروگرام ’لیونگ انڈس انیشی ایٹو‘ انتہائی اہمیت رکھتا ہے، یہ اقدام25 علاقوں میں شروع ہو گا تاکہ کمیونٹیز کو سیلاب کے انتظام اور دریا کو آلودہ ہونے سے بچایا جا سکے، کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، ہم ایک ملک ہونے کے ساتھ ساتھ کمیونٹیز کا ایک ایسا کمزور گروپ ہیں جسے تحفظ کی ضرورت ہے، آفات کے بعد کی ضروریات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بحالی اور تعمیر نو کیلئے ہمارا سفر قرضوں، توانائی کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں، موافقت کے فنڈز تک حقیقی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے رک جائے گا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے وسائل کو فوری طور پر کھوئے ہوئے ذریعہ معاش اور آمدن، موسمیاتی خطروں کا مقابلہ کرنے والے انفراسٹرکچر کی تیاری، موسم کے باعث ہونے والے خطرات کی تشخیص اور خطرات سے متعلق وارننگ سسٹمز لگانے کیلئے خرچ کرنے کی ضرورت ہے، کلائمیٹ فنانسنگ بحالی کیلئے لازم جزو ہے جس سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ کوئی پیچھے نہ رہ پائے، یہ فنانسنگ پاکستان کے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے سفر اور این ڈی سیز پر عمل درآمد کیلئے ایک اہم عنصر ہو گی، کوپ 27 موافقت فنڈ سے فائدہ اٹھانے کا ایک اہم موقع ہے، اس وقت ترقی پذیر ممالک میں صلاحیتوں کے حوالے سے خسارے کو پورا کرنے کیلئے آسان، طویل المدتی موسمیاتی فنانسنگ کی ضرورت ہے۔ 

وزیراعظم نے کہا کہ یہ ایک مشکل کام ہے اور تنہاءیہ کام انجام نہیں دیا جا سکتا، کوپ 27 انسانیت کے حوالے سے ایک اہم موقع پر ہو رہی ہے، ہمیں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مسئلہ فوری حل کرنے کی ضرورت ہے، موسمیاتی تبدیلی کا بوجھ برابری کی بنیاد پر نہیں منصفانہ طور پر تقسیم ہونا چاہئے، یہ موسمیاتی انصاف کا معاملہ ہے، ہمیں چاہئے کہ اس موقع کو بروئے کار لاتے ہوئے دنیا کی سب سے کمزور اقوام کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔

مصنف کے بارے میں