اگر امریکا اور بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو پاکستان کا رد عمل کیا ہو گا

اگر امریکا اور بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو پاکستان کا رد عمل کیا ہو گا

اسلام آباد: افغانستان سے متعلق امریکا کی 'نئی' پالیسی سے متفق نہیں ہے۔ یہ افغانستان کی جنگ اپنی زمین پر نہیں لڑے گا۔ یہ افغانستان میں ہندوستان کے وسیع کردار کی مخالفت کرتا رہے گا۔ اسلام آباد افغان طالبان اور کابل کے درمیان طویل تنازعے کے بجائے تنازعے کا سیاسی حل چاہتا ہے۔


امریکی سیکریٹری دفاع کے حالیہ دورہ ہندوستان نے اِس اسٹریٹجک اتحاد کی تصدیق کرتے ہوئے افغانستان میں ان کے تعاون پر مہر ثبت کردی ہے۔ایک اسلامی ایٹمی قوت امریکا اور زیادہ تر مغربی ممالک کے لیے ہمیشہ سے گلے کی ہڈی کی طرح تھی۔ یہاں تک کہ جب پاکستان امریکا کا قریبی اتحادی تھا، تب بھی امریکا کی پوری کوشش تھی کہ کسی نہ کسی طرح اِس کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کو بتدریج کم کرتے ہوئے ختم ہی کردیا جائے۔ 

باوثوق رپورٹس جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، موجود ہیں کہ امریکا نے کسی تنازعے یا بحران کے دوران پاکستان کے ایٹمی اسلحے پر قبضہ کرنے یا اِسے برباد کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ امریکی تھنک ٹینکس نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے دہشتگردوں کے ہاتھ لگ جانے، یا اِس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز طور پر پاک فوج کے 'انتہاپسند' فوج میں تبدیل ہوجانے کے خیالی پلاو بنا رکھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس طرح کی خوفناک صورتحال پیدا کی جاسکتی ہے تاکہ 'قبضہ کرو اور تباہ کرو' کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔

اگر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک اور جنگ ہوگئی، تو حالات میں مزید خرابی آئے گی۔ کشمیر دونوں ممالک کے بیچ ایک جاری تنازع ہے جو ایٹمی جنگ کو ہوا دے سکتا ہے۔ چوںکہ دونوں ممالک کی فوجی قوت میں عدم توازن موجود ہے، اِس لیے پاک و ہند جنگ کے فوری طور پر ایٹمی جنگ میں تبدیل ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ اِس لیے جنگ کا تو سوچا بھی نہیں جانا چاہیے۔

مگر پھر بھی ہندوستان کے سیاسی اور عسکری قائدین پاکستان کے خلاف 'سرجیکل اسٹرائیکس' اور 'محدود' جنگ کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ اگر ہندوستان نے کبھی پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑنے کا فیصلہ بھی کیا تو اسے پہلے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو ختم کرنے کے لیے حملہ کرنا ہوگا، یا پھر ہندوستان کے لیے یہ کام امریکا سرانجام دے گا؟ پاکستان کو دونوں ہی طرح کی صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

اسلام آباد کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ماضی میں اپنے ایٹمی اثاثوں کی 'سلامتی و تحفظ' کے لیے امریکا سے 'تعاون' کی وجہ سے امریکا کو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں اچھی خاصی انٹیلیجنس حاصل ہے۔ مگر پاکستانی حکام امریکا کی پاکستان کے اثاثوں پر قبضہ کرنے کی صلاحیت کو درست طور پر مسترد کرتے ہیں۔ ہمارے پاس کئی ہتھیار، کئی جگہوں پر پھیلے ہوئے اور اچھی طرح محفوظ ہیں، اِس لیے اِن پر قبضہ، یا اِن پر حملہ کرکے اِنہیں برباد نہیں کیا جاسکتا۔ مگر ایٹمی ہتھیار ڈیلیور کرنے والے سسٹم (میزائل وغیرہ) کو چھپانا یا محفوظ رکھنا مشکل ہوتا ہے۔

کسی بھی تنازعے کی صورت میں ابتدائی حملے کا شکار یہ ڈیلیوری سسٹم ہی بنیادی ہدف ہوں گے۔ کسی بھی تنازعے کی صورت میں جب انہیں الگ رکھے گئے وارہیڈز سے ملایا جارہا ہوگا، تو ان کی جگہوں کا پتہ لگانا آسان ہوجائے گا۔ اِس کے علاوہ، جیسا کہ حال ہی میں کوریا میں دیکھا گیا، میزائل لانچ کو سائبر حملوں اور دیگر تکنیکی ذرائع سے سبوتاڑ کیا جاسکتا ہے۔اِس اسٹریٹجک صورتحال میں پاکستان کے ایٹمی اثاثے ہی بیرونی خطرات اور دباو ہی خلاف پاکستان کی سب سے بڑی قوت ہیں۔

پاکستان کو اپنی ایٹمی صلاحیت کو قابلِ اعتبار بنائے رکھنے کے لیے کئی اقدامات کرنے چاہیے۔ پہلا، شمالی کوریا کی طرح آرٹلری اور تھوڑے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی ہندوستان کے کولڈ اسٹارٹ حملے کے خلاف مزاحمت کی پہلی صف کے طور پر تنصیب۔ اِس سے ہندوستانی حملہ ناکام ہوجائے گا اور ایٹمی حملے کی نوبت اوپر چلی جائے گی۔

دوسرا، پاکستان کو ایٹمی حملوں کی صلاحیت رکھنے والے طویل، درمیانے اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تعداد بڑھانی ہوگی تاکہ ہندوستان کے کسی بھی بیلسٹک میزائل سسٹم کا توڑ کیا جاسکے۔تیسرا، پاکستان کو اپنے میزائلوں پر ایٹمی وارہیڈز کی تنصیب کے لیے لگاتار ایٹمی مواد تیار کرتے رہنا ہوگا۔چوتھا، جوابی حملے کے لیے کم از کم کچھ میزائل ایٹمی وارہیڈز سے لیس کرکے ا±نہیں پوشیدہ رکھ کر تیار رکھنا ضروری ہے۔ اِس کے علاوہ آبدوزوں پر نصب بیلسٹک میزائل پاکستان کو دوسرا حملہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرسکتے ہیں۔

پانچواں، موثر فضائی دفاعی نظام اور محدود اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹمز کی تنصیب ضروری ہے تاکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کو محفوظ بنایا جاسکے۔

چھٹا، سائبر جنگ کے لیے حملے اور دفاع، دونوں کی صلاحیت پیدا کی جانی چاہیے۔ اِس سب کے علاوہ، پاکستان کو جلد سے جلد خبردار کرنے والے سسٹمز، جن میں سیٹلائٹس، طیارے اور ڈرونز شامل ہیں، حاصل کرنے چاہیے۔

اِس دوران پاکستان کو چین کے ایسے سسٹمز سے مدد لینی چاہیے۔آخر میں یہ کہ چین کی بری، بحری اور فضائی افواج کے ساتھ اسٹریٹجک اور روایتی مزاحمت کی صلاحیت بڑھانی چاہیے تاکہ کم وقت اور کم خرچ میں فوائد حاصل کیے جاسکیں۔ایک بار پاکستان اپنے ایٹمی اثاثوں کے مکمل طور پر قابلِ اعتبار ہونے کو واضح کردے گا،۔

تو جنوبی ایشیا میں قیامِ امن اور مسئلہ کشمیر کے حل کی اس کی کوششوں پر ہندوستان اور امریکا، دونوں ہی کی جانب سے مثبت ردِ عمل کی توقع ہے۔ اِس کے بعد پاکستان اپنے سماجی و اقتصادی مقاصد کو بیرونی جارحیت، مداخلت اور دباو¿ کے خوف کے بغیر حاصل کرسکے گا۔