مالی خسارہ، پی آئی اے کا امریکا کیلئے پروازیں بند کرنے کا فیصلہ

مالی خسارہ، پی آئی اے کا امریکا کیلئے پروازیں بند کرنے کا فیصلہ

کراچی: میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی ایئر لائن پی آئی اے نے مالی خسارے کے باعث امریکا کے لیے 31 اکتوبر سے پروازیں بند کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا۔ امریکا کے لیے پروازیں چلانے پر پی آئی اے کو سالانہ ایک ارب 25 کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے مگر دہری شہریت کے حامل سیاستدان اور بیورو کریٹ یہ پروازیں بند کرنے میں رکاوٹ ہیں۔ ایئر لائن حکام کے مطابق پی آئی اے ریزرویشن سسٹم میں 31 اکتوبر کے بعد امریکا کے لیے بکنگ نہیں کی جا رہی۔


پی آئی اے 1961 سے امریکا کے لیے بغیر کسی تعطل کے مسلسل پروازیں آپریٹ کر رہی ہے جب کہ ایئر لائن کی جانب سے نیو یارک سمیت 4 امریکی شہروں کے لیے ہفتہ وار 5 پروازیں چلائی جا رہی تھیں۔ دوسری جانب امریکا کے لیے پروازیں بند کرنے کے فیصلے پر پی آئی اے انتظامیہ کنفیوژن کا شکار ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے سیاسی اور سفارتی اثرات اپنی جگہ لیکن پی آئی اے انتظامیہ کو دہری شہریت کے حامل سیاست دانوں، اعلیٰ سرکاری حکام اور خود اپنے پائیلٹس کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

پی آئی اے کی امریکا کے لیے براہ راست پروازوں سے دہری شہریت کے حامل پاکستانی سیاست دانوں اور اعلیٰ سرکاری حکام کو بہت سہولت اور رعایتیں دی جاتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ماضی میں امریکا کے لیے پروازیں بند کرنے کی کوشش اسی لیے ناکام ہوتی رہی ہے۔

اب پی آئی اے انتظامیہ کا منصوبہ ہے کہ یہ پروازیں بند کر کے امریکی ایئر لائن سے کوڈ شئیرنگ کی جائے جس کے بعد پاکستان سے امریکا جانے والے مسافروں کو لندن پہنچایا جائے جہاں سے امریکی ایئرلائن انہیں امریکا کے مختلف شہروں تک لے جائے۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ کوڈ شئیرنگ معاہدے سے پی آئی اے کے خسارے میں کمی اور آمدنی میں اضافہ ہوگا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں