کرلو جو کرنا ہے

کرلو جو کرنا ہے

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنی مدت پوری ہونے پر سبکدوش ہونے کی تصدیق کردی ہے۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلح افواج خود کو سیاست سے دور کر چکیں اور دور ہی رہنا چاہتی ہیں، ملک کی بیمار معیشت کو بحال کرنا معاشرے کے ہر طبقے کی ترجیح ہونی چاہیے،مضبوط معیشت کے بغیر قوم اپنے ٹارگٹ حاصل نہیں کر سکے گی، مضبوط معیشت کے بغیر سفارت کاری نہیں ہو سکتی۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسی روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ترلے کرنے کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی، سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کے ذریعے پیغام بھجوایا ہے۔آڈیو لیکس کے بعد عمران خان کی بیرونی سازش کا بھانڈا پھوٹ گیا، سائفر کی کاپی عمران خان نے خود گْم کر دی۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ عمران خان کو نومبر کے ہول پڑ رہے ہیں، اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سے نومبر بھی خیر خیریت سے گزر جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کے عہدے کے لیے 5 نام آتے ہیں، ان میں سے کسی کا بھی تقرر کیا جا سکتا ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ماضی میں یہ مثالیں موجود ہیں کہ الگ سے بھی کوئی تقرری کی جاتی رہی ہے، آرمی چیف کی تعیناتی کا عمل رواں ماہ کے آخر یا نومبر کے آغاز میں شروع ہو جائے گا۔ عمران خان نے جھوٹ بولا، پاکستان کی سکیورٹی پر کمپرومائز کیا۔ آرمی چیف کے اپنے بیان اور اسی حوالے سے وزیر دفاع کی گفتگو سے ایک بات بالکل واضح ہوگئی کہ جلد انتخابات والے مطالبے کی طرح نئے آرمی چیف کے لیے مشاورت یا اگلے عام انتخابات تک موجودہ آرمی چیف کو ہی برقرار رکھنے کا مطالبہ بھی مسترد کردیا گیا ۔ اقتدار سے سبکدوشی کے بعد عمران خان اور انکے ساتھی ہر روز دھمکیاں دیتے آرہے ہیں مگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے ۔ اس تازہ ترین پیش رفت کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ حکومت نے پی ٹی آئی اور اسکی قیادت کو یہ کہہ کر کھلا چھوڑ دیا ہے کہ’’ کرلو جو کرنا ہے ‘‘۔ جہاں تک فوج کا تعلق ہے آرمی چیف کے بیان کا یہ حصہ اہم ہے فوج نے خود کو سیاست سے دور رکھا ہے یعنی ادارے کی سطح پر طے کرلیا گیا کہ اب کسی لاڈلے کے لیے راہ ہموار نہیں کی جائے گی ۔ فوج اور خفیہ ایجنسیاں اپنے دائرہ کار کے اندر رہ کر فرائض سرانجام دیں گی۔ یقینی طور اس میں بھی ان حلقوں کے لیے پیغام ہے کہ وہ دھونس یا دھرنے کے ذریعے الٹانے کے خواب دیکھ رہی ہیں۔ اس تمام صورتحال سے شدید مایوسی کا شکار ہونے والی پی ٹی آئی کی قیادت کے پاس اب احتجاج کے سوا کوئی راستہ ہی نہیں رہا۔ عمران خان جگہ جگہ جاکر رابطے کرتے اور حلف لیتے پھر رہے ہیں مگر خود ان کی گفتگو سے بداعتمادی اور کنفیوژن جھلک رہی ہے ۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بعض مہربانوں کی ایما پر ’’ فیصلہ کن ‘‘ احتجاج کے لیے بنائے گئے دو منصوبے لیک ہوکر حکومت کے نوٹس میں آچکے ہیں۔پہلا پلان تو یہ تھا کہ اسلام آباد پر دھاوا بولنے سے پہلے ہی کے پی کے ہاؤس ، ایوان صدر ، کشمیر ہاؤس اوربعض دیگر عمارتوں میں چند ہزار بندے چھپا دئیے جائیں جو لانگ مارچ کے وفاقی دارالحکومت پہنچنے سے ایک دن پہلے ہی اچانک نمودار ہوکر تمام اہم ریاستی عمارتوں پر قبضہ کرلیں۔ اب پڑھنے والے 

بے شک اسے دیوانے کا خواب ہی سمجھیں مگر منصوبہ بندی ایسے ہی کی گئی تھی ۔ دوسرا پلان زیادہ توجہ سے بنایا گیا تھا جس میں ایک سرکاری ادارے کے چند ہزار ریٹائر اہلکاروں کی خدمات انہی کے تین سابق چیفس کی عملی مدد سے حاصل کی گئی تھیں تاکہ اچانک کارروائی کرکے وفاقی دارالحکومت سمیت پورا ملک بند کرکے حکومت کو مستعفی ہونے پر مجبور کردیا جائے ۔ سازش بے نقاب ہونے پر حاضر سروس والوں نے سخت ایکشن لے کر سارا بندوبست لپیٹ کر رکھ دیا ۔ یہ تاثر ہر گزرتے دن کے ساتھ پختہ ہوتا جارہا ہے کہ عدالتوں کے عجیب و غریب فیصلوں کے سبب پی ٹی آئی کو ملنے والی غیر معمولی رعایتوں کے سبب ملک میں افراتفری رکنے میں نہیں آرہی ۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ 25 مئی کو جب عمران خان ہر صورت اسلام آباد پر قبضہ کر کے حکومت الٹانا چاہتے تھے وہ ان کی سیاست ہی نہیں احتجاجی صلاحیت کے دعوئوں کے باطل ہونے کا دن ثابت ہوسکتا تھا ۔ پنجاب حکومت نے بغیر کسی لمبی چوڑی مشق یا تشدد کے بغیر ہی پورے صوبے میں چڑیا کو پر مارنے کی اجازت نہیں ۔ گرفتاری کے خوف سے بنی گالہ چھوڑ کر پشاور میں پناہ لینے والے عمران خان پورا زور لگا کر وہاں سے بھی لوگوں کی متاثر کن تعداد جمع کرنے میں ناکام رہے۔25 مئی کو اٹک پل عمران خان اور پی ٹی آئی کے سیاسی اور عوامی بھرم کے لیے’’ پل صراط ‘‘ بن چکا تھا ۔ وفاقی حکومت نے تمام شرکا کو وہیں روک کرکے آسانی سے منتشر کرنے کے لیے ضرورت سے بھی زیادہ اقدامات کررکھے تھے ۔ پی ٹی آئی کو اس پریشان کن صورتحال سے نکالنے کے لیے سپریم کورٹ حرکت میں آئی اور نئی مثال قائم کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو اسلام آباد داخل ہوکر نہ صرف جلسے کرنے کی اجازت دی بلکہ حکومت کو یہ ہدایت بھی کی کہ پانی کی فراہمی اور صفائی سمیت جلسے کے لیے ہر طرح کی سہولتیں فراہم کی جائیں ۔ وفاقی حکومت کے دفاع پر مامور فورس کے کمانڈر آئی جی اسلام آباد کو عدالت میں طلب کرکے بلاوجہ جھاڑ پلائی گئی ۔ عدالتی نوازشات کا یہ سلسلہ یہیں تک نہیں رکا بلکہ آج تک جاری ہے ۔ عمران کے خلاف جس طرح سے توہین عدالت کیس ختم کیا گیا وہ اس لیے بھی حیرت انگیز تھا کہ خود عدالت نے لیگل ایڈوائزر کا کردار ادا کیا۔ ایک سکرپٹ کے تحت اس خاتون جج کی عدالت میں جاکر معافی کے بجائے معذرت کا پیغام عملے کے ذریعے دیا کیونکہ جج صاحبہ اس روز چھٹی پر تھیں یا بھجوادی گئی تھیں ۔ اسی طرح فوج میں بغاوت پھیلانے کی منظم سازش کرنے والے شہباز گل کو جو ریلیف ملا اس نے پورے ملک کو حیران کردیا۔ اچھا ہوا وفاقی حکومت نے شہباز گل کی ضمانت منسوخ کرانے کے لیے سپریم کورٹ میںدرخواست دائر کردی لیکن سپریم کورٹ میں بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ کیس کس بنچ میں لگتا ہے ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہی اس سے پہلے توہین مسجد نبویؐ کا کیس بڑی سرعت سے نمٹا دیا گیا ۔ یہ بھی بالکل واضح کیس تھا شیخ رشید نے راولپنڈی میں بیٹھ کر پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ دیکھنا پاکستانی حکومتی وفد کے ساتھ حجاز مقدس میں کیا ہوتا ہے۔ اس ناپاک جسارت کے بعد شیخ رشید کے رکن قومی اسمبلی بھتیجے راشد شفیق نے مسجد نبویؐ کے باہر کھڑے ہوکر اس کی نہ صرف ذمہ داری قبول کی بلکہ کریڈٹ بھی لیا۔ معاملہ اتنا سنگین تھا کہ سعودی حکومت نے مرتکب افراد کا سراغ لگا کر گرفتاریاں کیں اور کڑی سزائیں دے کر جیلوں میں پھینک دیا۔ اسی اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹیریان وائٹ کیس ایک بار پھر دائر ہوچکا ہے ۔ دیکھیں اس پر کیا کارروائی ہوتی ہے ۔ اس سے پہلے یہی کیس اسی عدالت میں 2018 کے انتخابات سے پہلے دائر کیا گیا تو جج صاحب نے درخواست گزار سے کہا تھا دوبارہ ایسی درخواست دائر کی تو جرمانے کے ساتھ خارج کردیں گے ۔ سپریم کورٹ کے ہم خیال بنچ سے بھی دلچسپ ریمارکس اور فیصلے آتے رہتے ہیں ۔ مقتدر حلقوں کے قریبی اندرون و بیرون ملک وسیع جائیدادیں رکھنے فیصل واوڈا کی نااہلی کا کیس آیا تو چیف جسٹس صاحب نے تاحیات نااہلی کو ظالمانہ قانون قرار دے دیا ۔ موجودہ چیف جسٹس نے نواز شریف کے خلاف اپنے ہاتھوں سے 52 صفحات پر مشتمل فیصلہ لکھ کر منتخب ارکان کے لیے تا حیات نااہلی کی سزا ایجاد کی تھی ۔ ایسے تماشے صرف ہمارے ہاں ہی ممکن ہے ۔ جرنیلوں اور ججوں کے احتساب سے بالاتر ہونے کا جتنا نقصان پاکستان نے اٹھایا اسکا ہزارواں حصہ بھی کسی اور ملک میں ہوتا تو اس حوالے سے نئی قانون سازی ہو چکی ہوتی۔ بہر حال سیاست اور عوامی شعور اب جس سطح پر آگئے ہیں تو لگ رہا ہے کہ جج اور جنرل بے شک من مانیاں کرتے رہیں مگر اب سوالات کا سلسلہ رکنے والا نہیں ۔ صاف نظر آرہا ہے اس حوالے سے سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کی برداشت بھی جواب دیتی جارہی ہے ۔ ابھی تو اداروں میں بیٹھی شخصیات کے  فیصلوں پر تنقید  ہورہی ہے مگر اب  بات اس سے آگے بھی جاسکتی ہے ۔ اداروں کو اپنی ساکھ بچانے کے لیے اپنی حدود میں رہ کر آئین اور قانون کے تحت فیصلے کرنے ہونگے ۔ قانون کا سب پر یکساں اطلاق کرنا ہوگا ۔