اے ڈی خواجہ آئی جی سندھ برقرار، عہدے سے ہٹانے کا حکم معطل

اے ڈی خواجہ آئی جی سندھ برقرار، عہدے سے ہٹانے کا حکم معطل

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو عہدے پر برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔ سندھ ہائیکورٹ نے 30 مئی کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ آئی جی سندھ کو تین سال کی مدت سے پہلے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ پولیس آرڈر 2002ء کی منسوخی کو درست قرار دیتے ہوئے کہا گیا قانون سازی ارکان اسمبلی کا حق ہے لیکن پولیس ایکٹ بھی آئی جی کو مکمل اختیارات دیتا ہے۔


سندھ ہائیکورٹ نے اے ڈی خواجہ کو عہدے پر برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ پولیس افسران کی تقرری اور تبادلوں کا اختیار صرف آئی جی کے پاس ہے۔ لہذا سندھ پولیس میں سات جولائی 2017ء کے بعد ہونے والے تقرریاں اور تبادلے غیر قانونی قرار دیئے جاتے ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ نے سندھ اور وفاقی حکومتوں کو پولیس سےمتعلق مزید قانون سازی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت آئی جی سندھ کی تقرری، اختیارات سے متعلق رولز بنائے۔

واضح رہے کہ آئی جی سندھ اور حکومت سندھ میں کئی ماہ سے سرد جنگ جاری ہے۔ حکومت سندھ نے آئی جی پولیس اے ڈی خواجہ کی خدمات وفاق کے حوالے کر دی تھیں تاہم معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں جانے کے بعد عدالت نے صوبائی حکومت کا نوٹی فکیشن معطل کر دیا تھا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں