حکومت اور فوج خطے میں امن کیلیے بھارت سے بات چیت کے خواہشمند ہیں، فواد چوہدری

حکومت اور فوج خطے میں امن کیلیے بھارت سے بات چیت کے خواہشمند ہیں، فواد چوہدری

فوٹو فائل

اسلام آباد:  وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت اور فوج خطے میں امن کے لیے بھارت سے بات چیت کرنے کی خواہشمند ہیں۔

بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت اور فوج دونوں ہی خطے میں امن کے لیے بھارت سے بات چیت کرنے کی خواہشمند ہیں اور عمران خان نے مذاکرات کے حوالے سے کئی اشارے دیئے گئے لیکن ابھی تک ان کا مثبت جواب نہیں ملا۔وزیراطلاعات نے کہا کہ بھارت کا مسئلہ یہ ہے کہ نریندرا مودی نے جس طرح پاکستان مخالفت پراپنی انتخابی مہم چلائی ہے اب بی جے پی اس سوچ میں پھنسی ہوئی ہے کہ کہیں پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے سے ان کے ووٹرزپرکوئی فرق نہ پڑ جائے۔

فواد چوہدری نے ایک سوال کے جواب میں کہا پی ٹی آئی کی بھارت کے حوالے سے پالیسی اور گذشتہ حکومت کی پالیسی میں سب سے بڑا فرق یہ ہے، اس میں تمام ادارے ایک پیچ اور ایک سوچ پر جمع ہیں، یہ نواز شریف کی خارجہ پالیسی نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا ماضی میں امریکہ اور مغرب کو یہ شکایت بھی کہ سیاسی قیادت ایک بات کرتی ہے اور عسکری قیادت دوسری، لیکن اب یہ شکایت دور ہو گئی ہے، اداروں کے ساتھ ہیں اور ادارے ان کے ساتھ ہیں۔

افغانستان میں امن کے حوالے سے وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ عمران خان کسی بھی دوسرے وزیراعظم کی نسبت افغانستان اورپشتون کلچر کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اور ان کی مقبولیت بھی کافی مدد گارہوسکتی ہے۔ وزیراعظم سمجھتے ہیں کہ افغان مسئلے کا حل فوجی نہیں سیاسی ہونا چاہیے اوراب امریکا میں بھی یہ سوچ پیدا ہوئی ہے۔ جو مفید ثابت ہوگی۔


سکھ یاتریوں کی سہولت کے حوالے سے وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان جلد ہی بھارتی سکھ یاتریوں کے لیے کرتار پور بارڈر کھول دے گا ۔ جہاں سے یاتری ویزے کے بغیر نارووال میں واقع گرودوارہ دربار صاحب کی یاترا کرسکیں گے۔