قابل اعتراض مواد کی حامل 9 لاکھ 41 ہزار ویب سائٹس بلاک

قابل اعتراض مواد کی حامل 9 لاکھ 41 ہزار ویب سائٹس بلاک
image by facebook

اسلام آباد:پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کا بڑا اقدام ، قابل اعتراض مواد کی حامل 9 لاکھ 41 ہزار ویب سائٹس کو بلاک کر دیا ، ان میں سے 8 لاکھ 30 ہزار فحش ویب سائٹس کو بلاک کیا گیا ہے۔


اس کے علاوہ ان 50 ہزار ویب سائٹس کو بلاک کیا گیا ہے جن میں عدلیہ مخالف مواد پایا جاتا ہے، جبکہ مذہب مخالف مواد رکھنے والی 50 ہزار ویب سائٹس کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ پی ٹی اے نے ریاست کے خلاف مواد رکھنے والی گیارہ ہزار ویب سائٹس کو بھی بلاک کیا ہے۔

الیکٹرونک کرائم ایکٹ کی شق 37 کے تحت پی ٹی اے کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ سماجی اور مذہبی معیار پر پوری نہ اترنے والی ویب سائٹس کو بلاک کر دے۔

یاد رہے پی ٹی اے کے چیئرمین عامر عظیم باجوہ نے گزشتہ ماہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس کو بریفینگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ  پاکستان میں فحش مواد پر مبنی 8لاکھ ویب سائٹس بلاک کی ہیں جن میں سے 2ہزار384 ویب سائٹس چائلڈ پرونوگرافی سے متعلق تھیں۔

انہوں نے کہا کہ  وی پی این اور پروکسیز کے ذریعے فحش مواد دیکھا جارہا ہے ،پی ٹی اے نے 11ہزار پراکسیز بھی بلاک کردی ہیں۔ پاکستان اس سلسلے میں انٹر پول سے بھی  مسلسل رابطے میں ہے۔چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ پاکستان میں فحش مواد اپلوڈ ہونے کےشواہد نہیں ملے ، وی پی این کی مانیٹرنگ کے لئے پی ٹی اے نیا طریقہ کار لانے کی کوشش کررہا ہے ۔

عامر عظیم باجوہ نے کہا کہ پی ٹی اے نے فحش مواد کی مانیٹرنگ سے متعلق گوگل سے رائے مانگی تھی، گوگل نے پاکستان کے تمام ذرائع چیک کئے ہیں اور پاکستان میں فحش مواد کی مانیٹرنگ کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ پاکستان کو جواب ملا کہ پی ٹی اے کی مانیٹرنگ سخت ہے۔

چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ گوگل نےفحش مواد کی روک تھام پرپاکستان اور خاص طور پر پی ٹی اے کی  حوصلہ افزائی کی ہے،اب اس ٹرینڈ میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ پی ٹی اے فحش مواد سے متعلق یو آر ایل کی کوئی درخواست رد نہیں کرتا۔ عوام درخواست مت دیں صرف یو آر ایل دے دیں سائٹ بلاک ہوجائے گی۔

موبائل فون رجسٹریشن سے متعلق کمیٹی کو آگاہ کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ 12 لاکھ موبائل فون رجسٹریشن کے بعد پی ٹی اے سسٹم میں آگئے ہیں۔ مارکیٹ میں  موجود88 لاکھ فونز ابھی بھی پی ٹی اے کے سسٹم میں نہیں ہیں۔