اے وطن مٹی تھے، تیرے لیے پھرمٹی ہو گئے

دہشتگردوں نے ایک مرتبہ پھرزندہ دلوں کے شہر لاہور میں اپنی ناپاک سازش کے تحت مردم شماری کرنے والے عملے اور عسکری اداروں کے اہلکاروں کو پیچھے سے وار کر کے عوام میں خوف کی فضا پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی۔ جس میں شاید وہ ہمارے چند بہادر جوانوں کو شہید کر کے اپنے ناپاک عزائم میں تو کامیاب ہو گئے مگر وہ عوام میں خوف پیداکرنے کے  منصوبے میں ناکام رہے۔ دھماکے کے چند لمحوں بعد ہی ملک بھر میں مردم شماری کے عملے کی جانب سے مزید مستعدی سے اپنے فرائض سرانجام دینے کے عزم سے  دہشتگردوں اور انکے سہولت کاروں کو واضح پیغام مل گیا ہے کہ ہم سب ایک ہیں اور  پاکستان کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے تمام  ادارے ایک صحفے پر متحد ہیں۔

گو دہشتگردی کا سامنا پاکستان سمیت دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک کو بھی ہے اور پاکستان میں تو معاملات یہ ہیں کہ مرنے والے بھی مسلمان اور مارنے والے بھی اپنے آپ کو کلمہ گو کہتے ہیں۔اصل میں یہ جنگ تو تب ہی شروع ہو گئی تھی جب  امام عالی مقام حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا اور اس وقت بھی کربلا میں یزیدی کلمہ گو تھے مگر جو بیج انہوں نے اس وقت بویا مسلمان آج تک اسی نظریے اور ظلم کا سامنا کرتے آ رہے ہیں ۔حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور انکے رفقاء کو شہید کرنے والے اپنے آپ کو حق پر قرار دیتے تھے۔

اورآج بھی نہتے شہریوں اور وطن کی حفاظت کرنے والے اداروں کے افسران اور اہلکاروں کو ہلاک کرنےوالے سفاک دہشتگرد اپنے آپ کو حق پر کھڑے ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ حسین رضی اللہ عنہ کا نام قیامت تک زندہ ہے اوررہے گا جبکہ  جنہوں نے ظلم و بربریت کی یہ فصل اگائی انکو کوئی جانتا بھی نہیں اور جو بھی انکا نام لیتا ہے تو وہ بغیر سوچے انہیں جہنمی قرار دے دیتا ہے اور یہی حقیقت ہے کہ ظلم کرنے والے کا نا یہ جہان ہے اور نا ہی وہ جہان ہے ۔اور  نا ہی ایسے سفارک درندے مر کر سکون پا سکیں گے۔ مٹی کا یہ انسان زمین پر اکڑ کر تو چلتا ہے مگر وہ اپنی تخلیق اور مٹی سے رشتے کو بھول کر ناجانے کن گمان میں ہے جیسے وہ اس فانی جہان میں ہمیشہ رہنے کا پروانہ لے کر آیا تھا۔درحقیقت ہمیں اس مصیبت کا مقابلہ مل کر کرنا ہو گا اور مٹی کے گروندوں کو توڑ کر اپنی حقیقت پر غور کرنا ہو گا۔جہاں تک شدت پسندی کی بات ہے اسکو ختم کرنے کےلیے ہمیں اپنے گھر سے ابتدا کرنی ہو گی۔

پیار محبت کا سبق جب اپنے آنگن سے نکلے گا تو پھر اس کے نتائج بہت مثبت اوردیرپا آئیں گے۔ معاشرے سے عدم برداشت اور ناانصافی  کو ختم کرنے کےلیے منبرو مینار  سے آواز بلند کرنی ہو گی۔ مساوی نظام تعلیم اور مساوی حقوق کےلیے ہر طبقے کو آواز بلند کرنی ہو گی۔معاشرے میں  شعور اور آگاہی کےلیے حکومت وقت کو خصوصی  مہم چلانی ہو گی۔کاش کہ ہمارے منتخب نمائندے ٹی وی سکرینوں پر اپنے لیڈروں کے دفاع کی بجائے اتنا وقت معاشرے میں موجود ناسوروں کو ختم کرنے پر صرف کریں تو وہ وقت دور نہیں جب ہماری قوم مزید ابھر کر سامنے آئےگی اور دشمن کے ان بزدلانہ واروں کو ناکام بنائے گی۔ مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہاں معاملات کو کسی سانحے کے ہونے پر ہی سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے اور پھر اگلے سانحے کے ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے جیسے کہ نیشنل ایکشن پلان کا مرتب ہونا اورپھر کسی بڑے واقعے کے بعد اس پر کچھ ایام کےلیے عمل درآمد اور پھر خاموشی۔

ناجانے ہم کس کو دھوکا دے رہے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ وقت  تیز رفتاری سے گزر رہا ہے اور گویا ایسے جیسے کہ سمندر کے کنارے پر پڑی ریت پاوں کے نیچے سے کھسک رہی ہو مگر ہمیں ہوش تبھی آتا ہے جب وہ ریت مکمل طور پر نیچے سے نکل جاتی ہے اور انسان  ایسے  اس گرداب میں پھنستا ہے کہ پھر لا حاصل ہاتھ پاوں مارتا ہے۔ دشمن چاہے چھوٹا ہو یا پھر بڑا اسکا مقابلہ تبھی ہو سکتا ہے جب ہم متحد ہو کر اسکا سر کچل دیں۔ گویا ملک دشمنوں نے ایک مرتبہ پھر پاک مٹی کےبہادر جوانوں کو بزدلانہ وار کرکے گھائل کیا مگر وہ بھول گئے کہ یہ قوم اس ارض پاک کی حفاظت کےلیے اپنا سب کچھ قربان کر سکتی ہے۔

میری یہ ذات بھی مٹی، میری اوقات بھی مٹی

میں مٹی تھا،میں مٹی ہوں، مجھے مٹی ہی رہنے دو۔

مصنف کے بارے میں

عاصم نصیر

عاصم نصیرنیوٹی وی کے نمائندہ خصوصی ہیں