سرکاری ملازمین کی پنشن ختم کرنے کی تجویز پیش کردی گئی

سرکاری ملازمین کی پنشن ختم کرنے کی تجویز پیش کردی گئی
فائل فوٹو

اسلام آباد:حکومت نے بجلی گیس اور اشیائے ضروریہ کی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور مہنگائی کا بم گرانے کے بعد ایک بار پھر بجلیاں گرانے کی تیاری کرلی ہے اور سرکاری ملازمین کی پنشن ختم جبکہ ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سے کم کر کے 55 سال کرنے کی تجویز پیش کر دی گئی ہے۔


تفصیلات کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے مطالبے پر حکومت کی جانب سے قومی سطح پر اخراجات میں کمی کی نئی حکمت عملی پر غور شروع کر دیا گیا ہے جس کے تحت پنشن ختم کرنے اور ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد 60 سال سے کم کر کے 55 سال کرنے کی پالیسی زیر غور ہے۔

حکومت کی جانب سے تنخواہوں اور پنشن کا بوجھ کم کرنے کے لیے سول سروس ریفارمز لانے کی تیاری کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ قومی سطح پر اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔ حکمت عملی کے تحت مستقبل میں تمام پبلک سیکٹر کمپنیوں، کارپوریشنز اور مالیاتی اداروں میں نجی شعبے کی طرز پر بغیر پنشن کے کشش تنخواہ اور الاؤنسز پر نوکریاں دینے کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔

اس تجویز کے بارے میں آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اعلیٰ سطح پر تجویز کی منظوری سے وفاقی سیکرٹریز کی بڑی تعداد ریٹائر ہو جائے گی۔معاشی اور انتظامی اصلاحات کے ضمن میں یہ سب سے بڑی تجویز ہے جس پر عملدرآمد سے نہ صرف آئندہ 5 سال بلکہ مستقبل میں بھی تنخواہوں، مراعات اور پنشن کے بجٹ میں نمایاں کمی کی جاسکے گی۔

سول اور ملٹری پنشن کے سالانہ اخراجات گذشتہ سال 333.35 ارب تھے جو بڑھ کر 346 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ ملٹری پنشن 253 ارب روپے سے بڑھ کر 259.77 ارب اور سول پنشن 80.35 ارب روپے سے بڑھ کر 82.221 ارب روپے تک جا پہنچی۔ سول حکومت کے اخراجات کا حجم جو گذشتہ مالی سال کے اختتام پر 402.076 ارب تھا 463 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔ یہ تجویز چاروں صوبوں میں بھی رائج کرنے کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔