نیب کا محکمہ خوراک پنجاب کے دفتر پر چھاپہ

نیب کا محکمہ خوراک پنجاب کے دفتر پر چھاپہ
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) اسلام آباد نے محکمہ خوراک پنجاب کے دفتر پر چھاپہ مار کر چینی کی برآمد کا ریکارڈ اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق چینی کی برآمد کے معاملے پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم انکوائری کر رہی ہے اور اس حوالے سے نیب نے محکمہ خوراک سے چینی کی 3 سالوں کی برآمدکاریکارڈطلب کیا تھا تاہم محکمہ خوراک نے سست روی سے کام لیا جس پر یہ کارروائی کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سکندر ایم خان کوبھی طلب کرچکی ہے اور وہ گزشتہ ماہ نیب اسلام آباد میں پیش ہوئے تھے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے سوا تین ارب روپے کے مالیاتی فراڈ پر جہانگیر ترین، ان کے بیٹے علی ترین، دو بیٹیوں، داماد اور فیملی کے دیگر افراد پر 2 مقدمات درج کر رکھے ہیں جبکہ جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کو 9 اپریل کو طلب کر رکھا ہے، علی ترین کو پیشی کے موقع پر پانچ سوالات کے جوابات ساتھ لانے کی ہدایت بھی کی ہے۔ 

ایف آئی اے نوٹس میں کہا گیا کہ علی ترین نے والد کیساتھ مل کر شیئر ہولڈرز کیساتھ فراڈ کیا، گنے کے کاروبار کو خود سے طے کردہ قیمت 4.85 ارب روپے میں بیچا اور اس ضمن میں ہونے والی ٹرانزکشن سے علی ترین کے خاندان کو شیئر ہولڈر کی قیمت پرفائدہ ہوا۔

علی ترین سے یہ سوال بھی کیا گیا ہے کہ جے کے ایف ایس ایل چینی کے کاروبار کو کیوں بیچا گیا؟ گنے کا کاروبار بیچنے کیلئے کیا کہیں بھی اشتہار دیا تھا؟ کتنے ممکنہ خریداروں نے کمپنی سے رابطہ کیا اور کیا قیمت لگائی؟ کمپنی ریکارڈ کے مطابق جے کے ایف ایس ایل کو 2013ءمیں 326 ملین کا نقصان ہوا لیکن اس کے باوجود گنے کا کاروبار کئی گناہ زیادہ قیمت پر جے ڈی ڈبلیو کو بیچا گیا۔