سیاسی عدم استحکام اور زراعت کا بحران

سیاسی عدم استحکام اور زراعت کا بحران

ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اسی عد م استحکا م کی وجہ سے گزشتہ چند روز سے ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر ایک بار پھر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

اب تک کی صورتِ حا ل کے مطابق ڈالر ایک سو اٹھا سی رو پے پہ ٹہل رہا ہے۔ دوسری جانب ملک میں کھاد کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے کے باعث گندم کی پیداوار میں انیس لاکھ ٹن کمی کا امکان ہے۔ رواں برس ملک میں گندم کی پیداوار کا ہدف دو کروڑ 89 لاکھ میٹرک ٹن لگایا گیا تھا، تاہم نئے اعداد و شمار کے مطابق اب گندم کی پیداوار ہدف سے 2.5 فیصد کم ہوکر دو کروڑ 68 لاکھ میٹرک ٹن کے آس پاس رہنے کا امکان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گندم کی پیداوار میں کمی کی وجہ کاشتکاروں کی کھاد کی رسائی میں مشکلات اور ناموافق موسمی حالات ہیں۔ گزرے برس سے اب تک کھادوں کی قیمتوں میں مسلسل فیصد اضافہ زرعی معیشت کا دعویٰ رکھنے والے ملک کے لیے غیرمعمولی تشویش کا موجب ہے۔ ایک اور خبر میں مختلف اقسام کی کھادوں کی قیمتوں میں ایک سال کے دوران ہونے والے اضافے کا جائزہ پیش کیا گیا ہے جو کہ ایک سو بیس فیصد کے قریب بنتا ہے۔ جس کے مطابق ڈے اے پی، نائٹر وفاس، امونیم نائٹریٹ اور یوریا کی قیمتوں میں بھی قریب دگنا اضافہ ہوا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ دگنا قیمتوں پر بھی اکثر کھادیں مارکیٹ میں دستیاب نہیں اور کاشتکار مسلسل ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کی دہائی دے رہے ہیں۔ حکومت نے کھاد کا بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی تھی مگر اس کا اثر کیا ہوا؟ کاشتکار بدستور کھاد کی بلیک مارکیٹنگ کی دہائی دیتے نظر آتے ہیں۔ صرف دگنا قیمتوں کا مسئلہ ہی نہیں کھادوں کی دستیابی کے شدید بحران کا بھی سامنا ہے۔ اصولی طور پر صوبائی حکومتوں کو اس صورتِ حال میں مداخلت کرنی چاہیے مگر صوبائی حکومتیں اس معاملے میں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔عرصہ دراز سے ہم سب یہ پڑھتے آرہے تھے کہ پاکستان کی معیشت کا زیادہ تر دارومدار زراعت پر ہے کیونکہ پاکستان کی جی ڈی پی میں اس شعبے کا تقریباً 30 فیصد اور لیبر فورس میں 40 سے 45 فیصد حصہ تھا۔ پاکستان کی کل برآمدات کا 50 فیصد سے زائد حصہ اسی زرعی شعبے کا مرہونِ منت تھا اور ہم زرعی شعبے کی برآمدات سے اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بھی کمارہے تھے لیکن ہماری ناقص منصوبہ بندی اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہمارا سب سے اہم شعبہ زراعت بحران کا شکار ہے بلکہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ زراعت جسے ہم اپنی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہیں، وہ ہڈی جگہ جگہ سے ٹوٹ بھی چکی ہے اور شکستہ بھی ہوچکی ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہر آنے والی حکومت نے عوام کو سرسبز انقلاب اور خود کفالت کے سہانے خواب دکھائے لیکن عملاً زراعت کی ترقی کے لیے زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ بھی نہیں کیا۔ حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے آج زراعت اور کاشتکار بحران کا سامنا کررہے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ہمارے دیہی عوام 16 ویں صدی جیسی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمارے صاحبان اقتدار یہ بات اپنے پلے باندھ لیں کہ جب تک دیہات اور کسان کے مسائل حل نہیں ہوں گے زرعی خود کفالت ایک ڈرائونے خواب سے بڑھ کر او رکچھ نہیں۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں رہنے والی تقریباً 65 فیصد آبادی جو زراعت اور لائیو سٹاک سے وابستہ ہے اس کے مسائل حل کیے بغیر زرعی ترقی ممکن ہی نہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ حکومت پاکستان کے جاری کردہ اکنامک سروے کے مطابق اب زراعت کا جی ڈی پی میں حصہ کم ہوکر 19.2 فیصد اور لیبر فورس بھی کم ہوکر 38.5 فیصد ہوچکی ہے۔ اسی سروے کے مطابق ہماری زراعت نے مقررہ ہدف 2.8 کے مقابلے میں 2.77 فیصد حاصل کیا ہے اور دعویٰ کیاجارہا ہے کہ پاکستان نے گندم، دھان، گنے، مکئی کی پہلے سے زیادہ پیداوار حاصل کی اور خاص طور پر کپاس کی پیداوار میں بھی اضافہ ظاہر کیا گیا ہے۔ عوام آٹا،چینی، گندم اور کپاس کے سابقہ بحرانوں اور قلت کے تناظر میں نتائج خود ہی اخذ کرسکتے ہیں۔ہمارا زرعی شعبہ نہ صرف خوراک اور ملک کے سب سے بڑے برآمدی شعبے کے لیے خام مال کی پیداواری کا بنیادی ذریعہ ہے بلکہ روزگار کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہے۔ خوراک کی پیداوار، برآمدی صنعت کے لیے خام مال کی فراہمی اور روزگار کی سب سے بڑی مارکیٹ، یہ تین بنیادی اسباب زرعی شعبے کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں۔ مگر زرعی شعبہ کبھی اس قدر حکومتی ترجیح حاصل نہیں کر پایا جس کا یہ حق دار ہے۔ اس کے نتائج خوراک کے بحران، ٹیکسٹائل کی صنعت کے لیے کپاس کی درآمد اور افرادی قوت کی گائوں اور قصبوں سے بڑے شہروں کی جانب نقل مکانی کی 

صورت میں واضح ہیں۔ ان نتائج میں ہر ایک کی بھاری قیمت ادا کی جاتی ہے مگر زرعی شعبے کی حقیقی ترقی کے لیے ضروری اقدامات کے ذریعے اس کا ازالہ نہیں کیا جاتا۔ موجودہ حکومت اس معاملے میں ماضی سے بڑی مثالیں فراہم کررہی ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران اربوں ڈالر صرف اناج کی درآمد پر خرچ کیے گئے۔ چینی کی درآمد پر جو اخراجات ہوئے وہ اس سے الگ ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو گزشتہ مالی سال کے دوران اشیائے خوراک کی درآمد پر آٹھ ارب 34 کروڑ ڈالر خرچ کیے گئے۔ یہ اخراجات ایک برس پہلے کے مقابلے 54 فیصد زیادہ تھے۔ چینی، گندم، پام آئل اور دالیں خوراک کے شعبے کی بنیادی درآمدات تھیں اور اس اضافے کی بنیادی وجہ ملک میں پیداواری بحران تھا۔ کیا ہم خوراک کی ضروریات اسی طرح درآمدات سے پوری کریں یا ملکی زراعت کو ترقی دے کر خوراک کی درآمد پر اٹھنے والے اخراجات کو کم کریں گے؟ درآمدات سے خورا ک کی مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور عوام میں تشویش بڑھے گی۔ گزشتہ پندرہ برس کے دوران لاکھوں ایکڑ زرخیز زرعی رقبے پر جو بے ہنگم رہائشی سکیمیں بنی ہیں اور مسلسل بن رہی ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ہماری زرخیز زرعی اراضی پر ان رہائشی سکیموں کے بننے کی وجہ سے ہی پاکستان کی مجموعی زرعی پیداوار میں کمی ہورہی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے 17.60 ملین ہیکٹر رقبے کو جسے مختلف وجوہ کی بنا پر خالی چھوڑا ہوا ہے اس پر کاشتکاری کے لیے عملاً کوئی قدم نہیں اُٹھایا۔ ہمارے زرعی تعلیم و تحقیق کے اداروں اور محکمہ زراعت کے عملہ نے جدید ٹیکنالوجی کو کاشتکاروں تک پہنچانے میں کوتاہی کی ہے۔ دوسری طرف ہمارے زرعی سائنسدان زیادہ پیداوار دینے والے بیج جو بیماریوں کے خلاف زبردست قوتِ مدافعت رکھتے ہوں، تیار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہماری زراعت پر اس سے بھی بڑھ کر ایک ظلم یہ ہوا کہ کسانوں کو مہنگے داموں، ناقص اور ملاوٹ شدہ بیج، کھاد، زرعی ادویات، ڈیزل مل رہا ہے۔ بجلی، آب پاشی کے لیے پانی اور زرعی آلات مہنگے دستیاب ہیں۔ نہری پانی بشمول چھوٹی نہریں اور کھالے بھل اور گھاس پھوس سے اٹے پڑے ہیں۔ ہماری زیادہ تر اراضی ناہموار ہے۔ ان مندرجہ بالا مسائل کی وجہ سے زراعت کو مناسب پانی نہیں ملتا۔ ہمارے کاشتکاروں کو کسی نے نہیں بتایا کہ آب پاشی کے لیے پانی کی کمی کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ زمین اور پانی کا تجزیہ کیوں ضروری ہے؟ فصلوں کی کٹائی کے وقت پیداوار کو ضائع ہونے سے کس طرح بچانا ہے؟ زرعی پیداوار کو سٹور کیسے کرنا ہے؟ کاشتکار کی پیداوار کم ہوجائے تو بھی عذاب، پیداوار زیادہ ہوجائے تو پھر بھی وہ اس کی فروخت کے لیے آڑھتیوں کے مکمل رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ ہمارے محنتی کسانوں کے ساتھ یہ ظلم، زیادتی اور ناانصافی صرف اس لیے ہورہی ہے کہ زراعت اب ہماری ترجیح ہی نہیں رہی۔یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں زراعت کو سرمائے کی کمی کا سامنا ہے مگر صرف سرمایہ کچھ نہیں کرسکتا جب تک حکومت کی جانب سے اس شعبے کی بہتری کے لیے جامع حکمت عملی اور منصوبہ بندی نہیں کی جاتی۔

مصنف کے بارے میں