اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن

اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن

ملک بھر میں یہ بحث پھر سے جاری ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ نے اپوزیشن جماعتوں کو ایک بار پھر استعمال کرکے دھکے کھانے کے لئے چھوڑ دیا ۔ آگے چلنے سے پہلے لاہور شہر کا ایک سچا واقعہ پیش خدمت ہے ۔ دو اخباروں کے مالکان کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی ۔ ایک اخبار نیا نکلا تھا مگر اسکی مقبولیت اور اشاعت بہت زیادہ تھی ۔ دوسرا اخبار سرکولیشن کے حوالے سے نارمل تھا مگر اسکی ’’دہشت ‘‘بہت زیادہ تھی پورے شہر کے نامی گرامی لوگ بھی ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں ان کے متعلق کوئی الٹ پلٹ خبر شائع نہ ہوجائے ۔ مالکان کے درمیان تنازع پیدا ہوا تو جارحانہ پالیسی والے اخبار نے دوسرے اخبار کے مالک کے خلاف ایک مقدمہ بھی درج کرادیا ۔ ساتھ ہی کردار کشی والی خبروں کی بھرمار کردی ۔نئے اور مقبول اخبار کے مالک کو تشویش ہوئی ۔ ایک روز دفتر میں شہر کے بڑے اور مہنگی فیسوں والے وکلا کو بلا کر قانونی مشاورت شروع کردی ۔ اسی دوران اس اخبار مالک کا ایک ’’ذہین ‘‘ دوست بھی آگیا ۔ معاملے کے عدالتی حل کے طریق کار پر گفتگو کے بعد جب وکلا کی ٹیم روانہ ہوگئی تو دوست نے کہا یہ آپ کیا کررہے ہیں ؟ مالک نے جواباً کہا تو پھر اور کیا کروں ۔ دوست نے جواب دیا یہ صرف قانون کا معاملہ نہیں ۔ دوسرا اخبار مالک دادا گیری کرتے ہوئے آپ پر مقدمے بنوا رہا ہے اور جھوٹی خبریں شائع کررہا ہے ۔ عدالت میں جانے کا اس وقت تک کوئی فائدہ ہی نہیں جب تک آپ اسکو اسی کی زبان میں جواب نہیں دیتے ۔ دوست کی بات سمجھ میں آئی تو اخبار کے مالک نے اپنے عملے کو طلب کرکے ہر اخباری و غیر اخباری حملے کا فوری جواب دینے کی ہدایت کردی ۔ اسی روز عمل شروع ہوا تو ساری لڑائی صرف تین دن میں سمٹ گئی ۔ حملہ آور اخبار مالک شہر کے صحافیوں کو بیچ میں ڈال کر مقدمہ واپس لینے سمیت تمام شرائط تسلیم کرنے پر مجبور ہوگیا۔ذرا تصور کریں کہ اگر وہ جوابی حملے کرنے کے بجائے صرف قانونی کارروائی تک محدود رہتا تو عین ممکن تھا کہ جیل یاترا بھی کرنا پڑ جاتی ۔ قومی اسمبلی میں اتوار کو جو کچھ ہوا وہ کوئی سرپرائز ہے نہ آئینی یا قانونی معاملہ ، پچھلے پونے چار سال سے خود سٹے آرڈر پر بیٹھے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے آئین پاکستان کو توڑتے ہوئے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کے بجائے ایک رات کے وزیر قانون فواد چودھری کی قرارداد پر تحریک مسترد کرتے ہوئے اجلاس بھی منسوخ کردیا ۔ اسی دوران وزیر اعظم عمران خان نے پہلے سے ریکارڈ شدہ ایک خطاب پی ٹی وی پر چلا کر قومی اسمبلی توڑنے کی سفارش کردی۔ پہلے سے تیار بیٹھے صدر عارف علوی نے فورا ًتعمیل بھی کردی ۔ یہ سارا کام مکمل طور پر ماورائے آئین تھا ۔ ایسا کرتے ہی حکومتی طبلچیوں نے شور مچانا شروع کردیا کہ دیکھا اپوزیشن کے ساتھ کیسا ہاتھ کیا۔ چالاکی کیسی ؟ سادہ سی بات ہے کہ اس روز ووٹنگ میں وزیر اعظم عمران خان کی چھٹی ہونا تھی ۔ انہوں نے میدان میں مقابلہ کرنے کے بجائے فرار ہونے کو ترجیح دی۔ پھر جب کوئی آئین اور قانون کو ہی توڑنے پر اتر آئے تو نارمل انداز میں اس سے نمٹا ہی نہیں جاسکتا ۔ متاثرہ فریق کو بھی دائرے سے باہر آکر وار کرنا پڑتا ہے ۔ ہمارے یہاں اسی لئے غیر جمہوری سیٹ اپ ٹھیک ٹھاک وقت نکال جاتے ہیں کہ تمام متاثرین کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ جمہوری حدود میں رہ کر حل تلاش کریں ۔ اب جب صدر ، وزیر اعظم اور ڈپٹی سپیکر نے آئین ہی توڑ دیا ہے تو پھر پہلے اس کا حساب ہونا چاہئے باقی سب بعد کی باتیں ہیں ۔ اپوزیشن کو اتنی حیرانی حکومت کی آئین شکنی پر نہیں ہوئی جتنی اسی روز سپریم کورٹ کی جانب سے ازخود نوٹس لئے جانے کے باوجود کسی واضح آرڈر جاری نہ ہونے پر ہوئی ۔ ان سطور کے تحریر کئے جانے تک سپریم کورٹ کے اسی روئیے کے سبب اب پنجاب اسمبلی میں بھی قانون شکنی والے اقدامات شروع ہوگئے ہیں ۔ حکومتی امیدوار 

چودھری پرویز الٰہی نے یقینی شکست سے بچنے کے لئے نہ صرف بدھ کو ہونے والا صوبائی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کردیا بلکہ اپوزیشن ارکان کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے لئے 40 ارکان پر ہنگامہ آرائی کا الزام لگا کر ان کی رکنیت معطل کرنے کا منصوبہ بھی بنا لیا اور بدھ کے روز اجلاس کا انعقاد رکوانے کے لئے اسمبلی کی بلڈنگ کو سیل کردیا ۔ اسی دوران وزیر اعظم عمران خان نے تین ماہ میں اگلے عام انتخابات کرانے کے لئے سابق متنازع چیف جسٹس گلزار کا نام نگران وزیر اعظم کے لئے پیش کردیا ہے ۔ دراصل یہ سارا منصوبہ پہلے ہی تیار کرلیا گیا تھا ۔ اس بات کے مصدقہ شواہد موجود ہیں کہ واردات سے ایک روز قبل اس سازش کے ماسٹر مائنڈ اٹارنی جنرل خالد جاوید نے سپریم کورٹ جاکر چیف جسٹس سے تفصیلی ملاقات بھی کی تھی ۔ یوں اس وقت سارا ملک غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے ۔ یہ سوالات ہورہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا اس تمام معاملے میں کیا کردار ہے۔ کچھ چیزیں تو آنے والے دنوں میں واضح ہوں گی مگر چند واقعات ایسے ہیں جو سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں ۔ مثلاً چودھری پرویز الٰہی کا عین وقت پر متحدہ اپوزیشن کو دغا دے کر عمران خان سے جا ملنا ، ریاستی نگرانی میں چلنے والے سوشل میڈیا اور اسٹیبلشمنٹ کے آرگن سمجھے جانے والے نجی ٹی وی چینل پر اعلیٰ مقتدر شخصیات کی کردار کشی مہم اور اس پر ادارے کا کوئی ردعمل نہ دینا۔یہ کمزوری تو ہو نہیں سکتی کیونکہ جو ٹائوٹ اینکر اور یو ٹیوبر اعلیٰ ترین افسروں کی کردار کشی کررہے ہیں وہ نچلے رینک کے اہلکار کی ہلکی سی سرزنش کی مار ہیں ۔ تو کیا ایسا کرنے کی اجازت نیوٹرل ہونے کا تاثر پھیلانے کے لئے دی گئی ۔ ریٹائرڈ فوجی افسر بھی گروہ کی صورت میں پی ٹی آئی کی حمایت کررہے ہیں ۔ افسوس کی بات ہے مگر کیا کریں 1960-70 کی دہائیوں کی طرح آج بھی کسی جنرل رانی کے موڈ سے اندازہ لگانا پڑ رہا ہے کہ طاقتور حلقے کیا سوچ رہے ہیں ۔ ففتھ جنریشن وار کی سٹار مجاہدہ وینا ملک کی سوشل میڈیا پر پھر اچانک یہ کہہ کر انٹری کہ’’ آپکی بہن واپس آگئی ہے انصافیو اب آپ نے گھبرانا نہیں ‘‘ چونکا دینے والی ہے ۔ اگرچہ ایک انٹرویو میں اداکارہ وینا ملک یہ کہہ چکی ہیں کہ ان کا ٹویٹر کوئی اور ہینڈل کرتا ہے ویسے سب کو پتہ ہے کہ انکا اکائونٹ کن محافظین کے ہاتھوں میں ہے ۔ اسکے ساتھ ہی شوبز شخصیات اور کھلاڑیوں کو ایک بار پھر سے کپتان کی حمایت میں متحرک کردیا گیا ۔ باور کیا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ خود بخود نہیں ہوسکتا ۔ سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ جس خط کو بنیاد بنا کر یہ غیر آئینی کارروائی کی گئی ہے اس کو سچ مان لیا جائے قومی اسمبلی کے 197 ارکان اور پوری اپوزیشن غدار ہے ۔یہ سب پر واضح ہوچکا کہ عمران خان بہت پہلے ہی قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت کھو چکے اس کے باوجود انہیں سرکاری وسائل کے بھرپور استعمال ، دوسروں پر دشنام طرازی ، لوگوں کو تشدد پر اکسانے اور نام نہاد خط کی بنیاد پر امریکا مخالف بیانیہ پیش کرنے کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے ۔ اب معاملہ یہ نہیں کہ قومی اسمبلی توڑ دی گئی ہے بلکہ سنگین مقدمہ یہ ہے کہ جان بوجھ کر آئین شکنی کی گئی ہے۔ قانونی ماہرین کی اتفاق رائے ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاس ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دینے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ۔ دیکھنا اب یہ ہے کہ ایسا فیصلہ آنے کی صورت میں تمام غیر آئینی عمل ریورس کیا جاتا ہے ۔ یا نظریہ ضرورت کو زندہ کرتے ہوئے رولنگ کالعدم قرار دے کر یہ فیصلہ دیا جاتا ہے کہ نئے انتخابات کی جانب بڑھا جائے ۔ اگر ایسا کوئی فیصلہ آیا تو اس کا ایک ہی مطلب ہوگا کہ تحریک عدم اعتماد کی آئینی شق غیر موثر کردی گئی ۔ آئندہ جو بھی وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ بنے گا ۔ اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کی صورت میں اپنی ہی پارٹی کے سپیکر کو کہہ کر پوری اسمبلی کی چھٹی کرادیا کرے گا۔ ملک میں بہت سے تماشے ہوچکے ۔ عمران خان نے اس دوران اپنے حامیوں کو سڑکوں پر آنے کی کال دی مگر کچھ مقامات پر چند درجن خواتین وحضرات باہر آئے۔ موجودہ حالات میں متحدہ اپوزیشن نے احتجاج کی کال دے دی تو سب جام ہو جائے گا ۔ یہ بھی خوش فہمی ہے کہ عمران خان اینٹی امریکا بیانیہ لے کر عوام میں جائیں گے تو دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہوں گے مگر ایک منصوبے کے تحت مخصوص حلقوں کے ذریعے اس تاثر کو پھیلایا جارہا ہے ۔ حالانکہ انتخابی عمل سے پہلے متحدہ اپوزیشن پی ٹی آئی حکومت کے احتساب کا مطالبہ کرے گی ۔ عمران خان کو گائیڈ لائن دینے والے حلقے خواہ کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں ان معاملات سے آسانی سے جان نہیں چھڑا سکتے ۔ اگر پوری اسٹیبلشمنٹ یا اسکے چند عناصر یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس بار بھی اپوزیشن کو چکر دے کر استعمال کر کے فارغ کردیا جائے گا تو یہ شایداندازے کی غلطی ہوگی ۔اپوزیشن جماعتوں کو علم ہے کہ اس مرتبہ پیچھے ہٹے تو کھائی میں جا گریں گے۔ احتجاجی سیاست آگے بڑھی تو ایک سے زیادہ استعفوں کے مطالبات بھی سامنے آسکتے ہیں ۔ویسے اب تک کے نتائج کا جائزہ لیں تو دس سال تک عمران خان کو وزیر اعظم رکھ کر ہائی برڈ نظام چلانے کا منصوبہ صرف ساڑھے تین سال میں ہی پٹ چکا ، اب بظاہر کسی کو توسیع ملنے کا امکان ہے نہ ہی کسی ‘‘ مشہور ‘‘ افسر کے شہسوار بننے کا کوئی چانس ، یہ کس کی کامیابی ہے؟ اپوزیشن انصاف کے اداروں کی جانب دیکھنے کے بجائے یہ سوچ کر اپنی حکمت عملی بنائے کہ ایک فریق نے آئین توڑ ڈالا ، اب کسی مخصوص دائرے کے اندر رہ کر مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا ، کہاوت ہے ‘‘ سوال جس زبان میں کیا جائے ، جواب بھی اسی زبان میں دینا چاہے ‘‘۔

نوٹ : یہ سطور تحریرکئے جانے تک سپریم کورٹ کی جانب سے اس کیس کے متعلق کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا تھا۔

مصنف کے بارے میں