یمن میں رواں سال میں 201 بچے ہلاک، 347 معذور ہوئے، اقوام متحدہ

یمن میں رواں سال میں 201 بچے ہلاک، 347 معذور ہوئے، اقوام متحدہ

صنعاء: اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یمن میں جاری جھڑپوں کی وجہ سے صرف رواں سال میں 201 بچے ہلاک اور 347 بچے معذور ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے لئے امدادی فنڈ یونیسیف کے یمن کے لئے نمائندہ خصوصی میرٹ کسل ریلانو نے اپنے سوشل میڈیا پیج سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یمن رواں سال کے آغاز سے لے کر اب تک جاری جھڑپوں میں 159 لڑکوں اور 49 لڑکیوں سمیت کل 201 بچے ہلاک کر دئیے گئے ہیں۔
جبکہ 234 لڑکوں اور 113 لڑکیوں سمیت کل 347 بچے معذور ہو گئے ہیں۔ریلانو نے 377 بچوں کو مسلح کئے جانے کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ 4 اگست کو سادا شہر میں کئے گئے حملے میں 2 لڑکوں اور 4 لڑکیوں سمیت کل 6 بچے ہلاک ہو گئے تھے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے کوآرڈینیٹر جیمی گولڈ رِک نے 6 اگست کو نشر کردہ بیان میں سادا میں فضائی حملوں کے نتیجے میں 12 شہریوں کے ہلاک ہونے اور 10 کے زخمی ہونے کا اعلان کیا تھا۔واضح رہے کہ یمن میں منتخب حکومت پر حملہ کرنے کے بعد حوثی ستمبر 2014 سے لے کر اب تک دارالحکومت صنعا سمیت بعض علاقوں کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں