نواز شریف کی ریلی روکنے کی درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے درخواستگزار عثمان سعید بسرا کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواستگزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نا اہلی کے بعد نوازشریف نے احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مسلم لیگ ن کی احتجاجی ریلی کا مطلب سپریم کورٹ فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔ نواز شریف کی احتجاجی تحریک سے پی ٹی آئی کے ورکر بھی آمنے سامنے ہو سکتے ہیں۔

درخواست میں ن لیگ، نواز شریف، وزارت داخلہ، ڈی سی اسلام آباد، چیف سیکرٹری پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو مناسب وقت پر سنایا جائے گا۔

 

واضح رہے سابق وزیراعظم نواز شریف بدھ کو جی ٹی روڈ مشن پر نکلیں گے۔ نواز شریف کا کارواں پنجاب ہاؤس سے پہلے ڈی چوک جائے گا۔ پھر بلیو ایریا کی جانب بڑھے گا۔ کارواں فیض آباد سے ہوتا ہوا مری روڈ سے راولپنڈی میں داخل ہو گا۔ روات اور مختلف شہروں سے نواز شریف قافلے سمیت بذریعہ جی ٹی روڈ لاہور پہنچیں گے۔ وہ داتا دربار پر حاضری بھی دیں گے۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں