رشوت وصولی کے الزامات، نیتن یاہو کیخلاف عوامی نفرت میں اضافہ ہونے لگا

مقبوضہ بیت المقدس :اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے گرد مبینہ بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کا دائرہ جیسے جیسے تنگ ہوتا جا رہا ہے، عوامی حلقوں میں بھی ان کے خلاف نفرت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ رائے عامہ کے ایک تازہ جائزے میں کہا گیا ہے کہ 66 فی صد یہودی آباد کاروں نے رشوت وصولی اور کرپشن کے دوسرے الزامات کی بناءپر وزیراعظم نیتن یاھو سے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

عبرانی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رائے عامہ کے جائزے میں 751 یہودیوں اور 151 عرب اقلیت کی رائے معلوم کی گئی۔وزیرِ اعظم نیتن یاہو تین مرتبہ پولیس کی تفتیش کا سامنا کر چکے ہیں۔چوتھی مرتبہ وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھالنے والے نیتن یاہو نے کہاتھا کہ انہوں نے کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا۔

نامہ نگاروں کے مطابق آری ہیرو کا پراسیکیوٹر کےساتھ معاہدہ بدعنوانی سے متعلق تحقیقات میں اہم پیش رفت ہے۔ اس مقدمے کو اسرائیلی میڈیا میں روزانہ کی بنیادوں پر کوریج دی جاتی ہے۔

سروے رپورٹ کے مطابق صرف 21 فیصد رائے دہندگان نے نیتن یاھو کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر قائم رہنے کی حمایت کی ہے۔ 13 فیصد نے کوئی جواب نہیں دیا۔سروے میں لیکوڈ کے سابق رہنما جدعون ساعر کی حمایت میں 23 فیصد کے مقابلے میں وزیر تعلیم نفتالی بینٹ کی حمایت میں 11 فی صد رائے دہندگان کی حمایت حاصل ہے۔