بھارتی ریاست تامل ناڈو کے سابق وزیر اعلی کو جلایا نہیں دفنایا جائے گا

بھارتی ریاست تامل ناڈو کے سابق وزیر اعلی کو جلایا نہیں دفنایا جائے گا

نئی دہلی: جنوبی بھارت کے معروف رہنما اور ریاست تامل ناڈو کے سابق وزیر اعلی ایم کرونا ندھی کا منگل کی شام 94 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا ، انہیں ان کے مذہبی عقیدے کے برخلاف جلانے کی بجائے دفنایا جائے گا۔


بھارتی میڈیا کے مطابق تامل ناڈو کے سابق وزیر اعلی ایم کرونا ندھی کی پارٹی ڈی ایم کے چاہتی ہے کہ ان کے لیڈر کروناندھی کو بھی وہیں جگہ ملے جہاں جے للیتا کو دفن کیا گیا ہے۔کروناندھی جنوب کی سیاست میں قدآور رہنما تسلیم کیے جاتے ہیں اور گذشتہ چھ دہائیوں میں وہ پانچ بار ریاست کے وزیر اعلی رہے ہیں۔ انہیں فلم کے اسکرپٹ رائٹر کے طور پر شہرت حاصل ہوئی اور اس کے ذریعے ابتدا میں انہوں نے دراوڑ تحریک کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کا کام کیا۔

واضح رہے بھارت کی جنوبی ریاست تامل ناڈو کی مقبول رہنما جے للیتا کو بھی ان کے عقیدے کے برخلاف جلانے کے بجائے دفنایا گیا تھا۔جے للیتاکو کسی دیوی کی طرح ان سے عقیدت رکھی جاتی تھی اور آج بھی ان کے عقیدت مند بڑی تعداد میں موجود ہیں۔جے للیتا کی موت کے بعد ان کے جسد خاکی کو جب قبر میں اتارا جا رہا تھا تو بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ ہندو رسم و روایت کے مطابق موت کے بعد انہیں نذر آتش کیوں نہیں کیا گیا اور اب یہی سوال ایک بار پھر لوگوں کے ذہن میں اٹھ رہا ہے کہ کروناندھی کو کیوں نذر آتش نہیں کیا جا رہا ہے۔

ریاست میں برہمنی نظام کے خلاف بغاوت کے روپ میں ڈراوڑ جہدوجہد شروع ہوئی تھی اور جب اس تحریک نے زور پکڑ لیا تو وہاں بہت سارے مندر توڑے گئے تھے، مورتیوں کو ہٹا دیا گیا تھا اور برہمنی نظام کی مخالفت میں بہت سے رسم و رواج کو بھی توڑا گیا۔لوگوں کی زندگی میں خدا کی جگہ خالی ہو گئی جس کے سبب وہاں کے لیڈروں اور اداکاروں اور اداکاراوں کے مندر نظر آتے ہیں کیونکہ کوئی تو ہو جو اس خالی جگہ کو پر کر سکے۔

تامل ناڈو میں جے للیتا کے چاہنے والے اب بھی انہیں ایک دیوی کی طرح پوجتے ہیں کیانکہ وہ ایک لمبے عرصے سیتامل ناڈو کی سیاست پر چھائی ہوئی تھیں۔کرونا ندھی ہوں اور جے للیتا دونوں اس تحریک سے وابستہ رہے ہیں۔ جے للیتا نے اپنے سیاسی گرو اور اپنے زمانے کے معروف تامل اداکار ایم جی آر کی موت کے بعد پارٹی کی کمان سنبھالی تھی۔

ایم جی آر کو بھی ان کی موت کے بعد دفن کیا گیا تھا اور ان کی قبر کے پاس ہی دراوڑ تحریک کے بڑے رہنما اور ڈی ایم کے پارٹی کے بانی اننادورے کی بھی قبر ہے۔