ممنوعہ فنڈنگ کیس کے فیصلے کے بعد

ممنوعہ فنڈنگ کیس کے فیصلے کے بعد

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے ممنوعہ فنڈنگ کیس کے آٹھ سال پرانے مقدمے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ تین رکنی بینچ کے متفقہ فیصلے میں چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے کہا گیا کہ یہ بات ثابت ہو گئی کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔ فیصلے کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جائے کہ پارٹی کو ملنے والے فنڈز کیوں نہ ضبط کیے جائیں۔ اس فیصلے سے سیاسی جماعتوں میں بیرونِ ملک سے ملنے والی امداد کے معاملات میں مزید حساسیت پیدا ہونا قدرتی امر ہے اس طرح یہ امید بھی کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں سیاسی جماعتیں جوابدہی کے احساس کے ساتھ شفافیت کے لیے خود کو تیار کریں گی۔ پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ کے مقدمے نے دیگر سیاسی جماعتوں کو ملنے والے غیر ملکی عطیات کی نوعیت کے سوال بھی پیدا کر دیے ہیں نیز یہ کہ سیاسی جماعت کو دیگر ممالک میں رجسٹرڈ کاروباری اداروں کی جانب سے ملنے والی امداد کو کس تناظر میں لیا جائے۔ الیکشن ایکٹ 2017 اس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ کسی غیر ملکی حکومت کمپنی یا فرد سے ملنے والے فنڈز ممنوعہ فنڈز کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں مگر سیاسی جماعتوں میں کیا واقعی شفافیت کا یہ معیار برقرار رکھا جاتا ہے؟ یہ سوال بہرحال موجود ہے۔ توقع کی جانی چاہیے کہ پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کے فیصلے میں جو سقم واضح کیے گئے ہیں سیاسی جماعتیں ان معاملات میں قانون کی مکمل پیروی یقینی بنائیں گی۔ ایسا نہ ہونے کی سزا بھی قانون میں واضح کی گئی ہے جو کسی جماعت کی رجسٹریشن کی معطلی کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے۔ مگر کسی جماعت کے لیے سب سے بڑی سزا تو یہ ہے کہ وہ عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی مرتکب قرار پائے۔ مستحکم جمہوری معاشروں میں ایسا کرنے والی کسی بھی جماعت کا سیاسی مستقبل ختم ہو جاتا ہے۔ فارن فنڈنگ کے اس مقدمے میں فیصلے تک پہنچنے میں الیکشن کمیشن کو آٹھ برس کا غیر معمولی عرصہ کیوں لگا؟ یہ بذات خود ایک سوال ہے۔ کمیشن کے فیصلے میں جو کچھ واضح ہوا ہے ان پر اُٹھنے والے سوالات سے قطع نظر الیکشن کمیشن کو یہ بھی مد نظر رکھنا ہو گا کہ اگر آج یا آنے والے دور میں اسی نوعیت کا کوئی اور مقدمہ دائر ہو تو اس کے فیصلے کی نوبت آنے میں آٹھ سال نہ گزر جائیں۔ الیکشن کمیشن کی اتھارٹی ملک میں جمہوری نظام کا معیار قائم کرنے میں بنیادی حیثیت کی حامل ہے؛ چنانچہ شفافیت کا قیام الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ یہ فیصلہ ہمارے سیاسی نظام میں شفافیت قائم کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے یہ سوال بھی قابلِ غور ہے۔ پی ٹی آئی کے فیصلے کے بعد دیگر سیاسی جماعتوں کے مالیاتی لین دین کی چھان بین بھی ضرور ہونی چاہیے اور سیاسی جماعتوں کے مالیاتی حساب کتاب پر عمل یقینی بنانے کی روایت قائم کی جانی چاہیے کیونکہ شفافیت کے بغیر جمہوریت کا پھلنا پھولنا ممکن نہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی اور تحریک انصاف پر پابندی کیلئے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قانونی ٹیم کے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون نے اس حوالے سے شرکا کو بریفنگ دی۔ علاوہ ازیں عمران خان سمیت پی ٹی آئی قیادت کا نام ای سی ایل میں ڈالنے اور آپریشن کلین اَپ کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ وفاقی وزرا رانا ثناء اللہ اور مریم اورنگزیب نے بھی ایک پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کے حامیوں کو الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے احتجاج سے خبردار کرتے ہوئے یہ عندیہ دیا کہ کابینہ کے اجلاس میں بڑے اہم فیصلے ہونے جا رہے ہیں جن کی منظوری کے بعد حکومت پی ٹی آئی کے خلاف دیگر کارروائی کرے گی۔ ادھر پی ٹی آئی کے رہنما فواد چودھری نے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے حکومت بھیجنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک شدید معاشی دباؤ محسوس کر رہا ہے اور اس کے دیوالیہ ہونے کے خدشات معاشی تجزیہ کاروں کی زبان پر ہیں اہلِ حکومت و اپوزیشن کے تند و تلخ بیانات جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز بھی مخالفانہ اور سیاسی تناؤ کو بڑھاوا دینے والے بیانات پر مبنی پریس کانفرنسز کی ایک پوری سیریز ملاحظہ کی گئی جس میں حکومت اتحادی جماعتوں اور تحریک انصاف نے اپنا حصہ جثے سے بڑھ کر ڈالا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ سیاسی رہنماؤں کے بیانات اور میڈیا ٹاک کسی بھی ایسی مصالحت کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہی جو کسی حل پر منتج ہو۔ ہر کوئی سیاسی تلخی کو ہوا دیتا دکھائی دیا۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ سیاسی مخاصمت کے ماحول میں تند و تیز بیان بازی اور الزام تراشی کی بھرمار کسی بھی پُرامن حل کی طرف پیش رفت کی راہیں مسدود بنا دیتی ہے۔ نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا شاہ احمد نورانی اور قاضی حسین احمد جیسے وضعدار سیاست دان بھی ہماری سیاسی تاریخ کا حصہ رہے ہیں جو سیاسی اختلاف کو ایک حد سے بڑھنے نہیں دیتے تھے اور جلتی پر پانی ڈالتے تھے۔ آج جب ایک طرف ملک کے بیشتر علاقے سیلاب کی ناگہانی آفت کا سامنا کر رہے ہیں عوام ناقابلِ برداشت مہنگائی اور بجلی کی ناروا قیمتوں پر سراپا احتجاج ہیں اور ٹرانسپورٹرز اور تاجر ہڑتالوں کا اعلان کر رہے ہیں ہر طرف سیاسی شور و غوغا برپا ہے اور اتفاقِ رائے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی بلکہ سیاسی قیادت آپس کی رنجشوں کو بڑھاوا دینے میں مصروف ہے۔ یقینا چکی کے ان دونوں پاٹوں میں عوام ہی پس رہے ہیں جن کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ میں اس سے بھی سنگین اختلافی نقطہ ہائے نظر سامنے آتے رہے ہیں مگر سیاسی تدبر معاملہ فہمی اور حکمت و دانش سے بظاہر ناممکن نظر آنے والے حالات میں بھی گفت و شنید سے بحران سے نکلنے کا راستہ نکال لیا گیا مگر یہ مل بیٹھ کر غور کرنے اور رویوں میں لچک لانے کے سبب ہی ممکن ہو پایا۔ اس وقت جب معاشی سطح پر گزشتہ کئی ماہ سے چھایا جمود ٹوٹتا نظر آ رہا ہے اور روپے کی قدر مستحکم ہو رہی ہے خدشہ ہے کہ سیاسی تناؤ اس کے مثبت اثرات کو بھی زائل نہ کر دے۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس وقت ملک میں دیوالیہ پن کی جو تلوار سروں پر لٹک رہی ہے اس کی بیشتر ذمہ داری اس سیاسی بحران پر عائد ہوتی ہے جو سیاسی رہنماؤں کی توجہ دیگر اہم امور پر مبذول کرانے کی راہ میں حائل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی تناؤ اور انارکی کو ہوا دینے کے بجائے سیاسی جماعتیں ہوش کے ناخن لیں اور تنازعات کو باہمی افہام و تفہیم اور گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کی راہ نکالیں اور اپنی توانائیاں عوام کی مشکلات کے حل پر صرف کریں جو کب سے سیاسی قیادت کی نظر التفات کے منتظر ہیں۔

مصنف کے بارے میں