پستی کی بھی کوئی حد ہے؟

پستی کی بھی کوئی حد ہے؟

صوبہ بلوچستان ا س وقت سیلاب کی زد میں ہے۔ موسلادھار بارشوں نے بلوچ شہریوں کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس آفت کے باعث ہزاروں خاندان اپنے گھر بار سے محروم ہو چکے ہیں۔اب تک 176 شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔متاثرہ علاقوں میں مختلف سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اور تنظیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ تاہم راستے بند ہونے کی وجہ سے متاثرین تک کھانا اور دیگر اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں مشکل پیش آرہی ہے۔پچھلے کئی دن سے پاک فوج کے جوان بھی حسب روایت امدادی کارروائیوں میں جتے ہوئے ہیں۔ اس ہنگام ایک انتہائی دکھی کر دینے والا حا دثہ پیش آیا ۔ امدادی سرگرمیوں کی نگرانی میں مصروف عمل پاک فوج کا ایک ہیلی کاپٹر ضلع لسبیلہ میں حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا۔ ہیلی کاپٹر میں سوار کوئٹہ کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی سمیت چھ فوجی افسران اور جوان شہید ہو گئے۔ فوجی اہلکاروں کی شہادت پر ملک بھر میں دکھ اورکرب کی ایک لہر دوڑ گئی۔ ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والوں نے شہداء کیلئے دعائے مغفرت کی اور ان کی بلندی درجات کیلئے دعائیں کیں۔ لیکن ایک سیاسی جماعت کے سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے کچھ بدبختوں نے پاک فوج کے خلاف ایک مذموم سوشل میڈیا مہم شروع کر دی ۔ اس نفرت انگیز مہم میں پاک فوج اور شہداء کے بارے میں انتہائی نازیبا باتیں کی گئیں ۔ یہ گھٹیا سوشل میڈیا پروپیگنڈا کئی روز تک جاری رہا۔ اس دوران سیاسی جماعت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ان سوشل میڈیا ٹرولرز کے پشت پناہوں نے ان کی مذمت کی اورنہ ہی انہیں روکنے کی کوئی کوشش۔اس پروپیگنڈا مہم کی وجہ سے پاک فوج اور شہدا ء کے لواحقین کی بے حد دل آزاری ہوئی۔

اب تک جو اطلاعات سامنے آئی ہیں، ان سے واضح ہو گیا ہے کہ پاک فوج کے خلاف مہم چلانے والوں کا تعلق تحریک انصاف سے ہے۔  اخباری اطلاعات کے مطابق یہی وجہ ہے کہ جب صدر عارف علوی نے بطور سربراہ مملکت اور افواج کے سپریم کمانڈر ہیلی کاپٹر حادثہ کے شہداء کی نماز جنازہ میں شرکت کی خواہش ظاہر کی تو متعلقہ ادارے کی طرف سے انہیں شرکت سے روک دیا گیا۔ صدر علوی کو آگاہ کیا گیا کہ کہ تحریک انصاف ٹرولرز نے پاک فوج اور شہداء کے بارے میں جو زہریلا پروپیگنڈا کیا ہے اس سے شہیدوں کے لواحقین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ صدر کو مشورہ دیا گیا کہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلئے بہتر ہے کہ وہ نماز جنازہ میں شریک نہ ہوں۔  پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے بھی اس حوالے سے ایک مذمتی بیان جاری کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد مشکل اور تکلیف دہ  وقت میں پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی تھی لیکن کچھ بے حس حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر تکلیف دہ اور توہین آمیز مہم جوئی کی گئی، یہ رویہ قطعی نا قابل قبول اور شدید قابل مذمت ہے"۔

پاک فوج کے ترجمان نے بالکل درست فرمایا ۔ ملک و قوم کیلئے اپنی جانوں کی قربانی دینے والوں کے خلاف یہ رویہ واقعتا نا قابل برداشت ہے۔ فوجی اہلکاروں کی شہادت پر غلیظ پروپیگنڈہ کرنا پستی اور بے حسی کی انتہا ہے۔یہ بات درست ہے کہ ماضی میں ہمارے کچھ فوجی جرنیل ملکی سیاست میں ملوث رہے ہیں۔ ملک میں برسوںآمروں کی حکومتیں بھی قائم رہیں۔ یقینافوج یا اس کے افسران کے اس عمل کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ اس پہلو کو ہدف تنقید بنانا قابل جواز سہی، لیکن اس سے ہٹ کر پاکستانی عوام افواج پاکستان سے بے حد محبت کرتے ہیں۔ ہماری فوج ہمارا فخر ہیں۔ یہ ملک کی سلامتی اور استحکام کی ضامن ہے۔ پاکستانی عوام ملک اور قوم کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی بہت تعظیم کرتے ہیں۔ پاک فوج اور شہداء سے ہمارے دلی جذبات اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ فوج سے متعلق ملی نغمہ اور ترانہ سن کر ہماری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔سوشل میڈیا ٹرولرز نے افواج اور شہداء کے بارے میں جو منفی باتیں کی ہیں ان سے صرف فوجی خاندانوں اور شہداء کے لواحقین کی ہی دل آزاری نہیں ہوئی، بلکہ ساری قوم کا دل دکھا ہے۔

 قابل افسوس امر ہے کہ گزشتہ چند برس سے ہمارے ہاں ہر چھوٹے بڑے معاملے کو سیاست اور ذاتی پسند نا پسند کی عینک سے دیکھنے کی روایت عام ہو چلی ہے۔ کل تک تحریک انصاف اور اس کے حامی فوج کے گن گایا کرتے تھے۔لیکن جب سے عمران خان کی حکومت رخصت ہوئی ہے، سوشل میڈیا ٹرولرز نے نفرت انگیز پروپیگنڈا کی انتہا کر رکھی ہے۔ اس امر کی تفہیم (اور تحسین) ضروری ہے کہ فوج نے اگر سیاسی معاملات کے ضمن میں غیر جانبدار کردار اختیار کیا ہے تو اسے سراہا جائے۔ قومی اداروں کو سیاسی یا ذاتی تنازعات کی زد میں لانا قومی مفاد کے منافی ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے سپورٹر یا چاہنے والے ایسا کرتے ہیں تو ان کی مذمت ہونی چاہیے۔ 

سیاست کی غلاظت کو قومی اداروں کے ماتھے پر تھوپنا کسی طور مناسب نہیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں قانون کی عملداری نہایت کمزور ہے۔ مثال کے طور پر دنیا بھر میں ہتک عزت کا قانون نہایت قوی ہے۔کوئی شخص کسی کے خلاف جھوٹی بات کہہ کر یا الزام لگا کر بچ نہیں سکتا۔اس کے بر عکس ہمارے ہاں ہتک عزت کے قانون کی کوئی اہمیت نہیں ۔ کسی کی بھی پگڑی اچھال دو۔ کسی کا بھی گریبان پھاڑ دو۔ کسی پر جھوٹا الزام لگا دو۔کوئی پوچھنے والا نہیں۔ قانون کی اس کمزوری نے بہت سوں کا حوصلہ بلند کر رکھا ہے۔ ہمارے ہاں  ٹی ۔وی ٹاک شوز نے بھی الزام تراشی کی روایت کو فروغ دیا ہے۔ سوشل میڈیا نے تو خیر ہر حد ہی پار کر لی ہے۔ کوئی بھی شخص سوشل میڈیا پر کچھ بھی لکھ ، بول دیتا ہے۔ 

نہایت ضروری ہے کہ جن سیاسی جماعتوں نے اپنے سوشل میڈیا ونگز کو قومی اداروںکی ٹرولنگ کیلئے کھلا چھوڑ رکھا ہے، وہ انہیں نکیل ڈالنے کا اہتمام کریں۔ اگر یہ جماعتیں ایسا نہیں کرتیں تو حکومت اور متعلقہ اداروں کا فرض ہے کہ وہ پوری قوت سے بروئے کار آئیں اور ایسوں کو قانون کی گرفت میں لانے کا اہتمام کریں۔

مصنف کے بارے میں