نئے وزیر نئے سیکرٹری

نئے وزیر نئے سیکرٹری

 چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل نے بھی آخر کار پنجاب جیسے صوبے کی سب سے بڑی افسری کو خیرباد کہہ دیا ہے،ایک اچھے اور نستعلیق افسر کا یوں جانا پنجاب کے لئے اچھی بات نہیں یہ وہ صوبہ ہے جہاں کوئی ایک بار آ جائے تو واپس جانے کو اس کا دل نہیں کرتا ، ایک سابق اور ہر د لعزیز چیف سیکرٹری پرویز مسعود کے بقول جمخانہ کلب ،ایچیسن کالج اور جی او آرز سرکاری افسروں کو لاہور سے باندھے رکھتے ہیں۔ کامران علی افضل کے بارے میں لکھنے کے لئے بہت کچھ ہے ،مگر پھر سہی ، انہوں نے کن حالات میں کس طرح تین وزرا ء اعلیٰ کے ساتھ کام کیا اور پنجاب میں نئی حکومت کے ساتھ کام جاری رکھنے کی باہمی رضامندی کے بعد اچانک یہ عہدہ کیوں چھوڑ دیا یہ ابھی تک ایک راز ہے،انہوں نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کرتے وقت اپنے قریبی رفقا ء اورسینئر ساتھیوں کو بھی اعتماد میں نہ لیا ،میں نے پنجاب میں ایک بڑے سیکرٹری سے اس بارے پوچھا ،کامران صاحب نے اچانک ایسا کیوں کیا ؟ تو ان کے لئے بھی یہ ایک سرپرائز اور الجھن تھی جیسا حفیظ ہوشیار پوری نے کہا تھا 

 دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی 

 اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے

نئے چیف سیکرٹری کے آنے تک انہیں کام کرتے رہنے کے لئے کہا گیا ہے۔نیا چیف سیکرٹری کون ہوگا َ؟ وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الہٰی کی پسند کا ہو گا اور یقینی طور پر عمران خان اس کی منظوری دیں گے،اس وقت ملک میں ایک بے یقینی کی کیفیت ہے پنجاب حکومت بھی گو مگوں کا شکار ہے کہ اس نے تین مہینے چلنا ہے یا اگلے سال تک، اس لئے چیف سیکرٹری کے عہدے پر کسی ایسے افسر کی تعیناتی کا رسک نہیں لیا جاسکتا جو پنجاب کا کم تجربہ رکھتا ہو ،وفاقی سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر ،وفاقی سیکرٹری کابینہ احمد نواز سکھیرا ،پنجاب کے سابق سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو بابر حیات تارڑ ایسے افسران ہیں جو نہ صرف پنجاب میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں بلکہ یہاں کی سیاست ،حدوداربعے ، حکمرانوں اور عوام کے مزاج کو بھی خوب سمجھتے ہیں۔پنجاب میں پچھلے چند سالوں میں بیوروکریسی کو جس طرح چلایا گیا وہ کوئی اچھا سائن نہیں ہے اس پر ایک تحقیقاتی مقالہ لکھا جانا چاہیے اور ان اسباب کا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ ایسا کیوں ہوا ؟ویسے ان حالات کے ذمہ دار سیاستدان اور افسران دونوں ہیں کسی ایک کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ حمزہ شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ کے مختصر دور میں پنجاب بیوروکریسی نے ریڈ لائن کراس کیں اور جس طرح چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا وہ باعث شرم ہے۔

 پنجاب میں مشاورت اور باہمی رضامندی سے پنجاب کابینہ کی تشکیل کا مرحلہ بھی طے پا گیا ہے ،گورنر بلیغ الرحمٰن نے نئی کابینہ سے حلف لیا بڑے پن کا مظاہرہ کیا اور ایک اچھی روایت قائم کی ان کی موجودگی میں آئی آئی پی ٹی آئی اور وزیر اعظم عمران خان کے نعرے بھی لگے جس پر بھی انہوں نے تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کیا اور زیر لب مسکراتے ہوئے تقریب کے اختتام پر رخصت ہوئے۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اس حوالے سے کابینہ کے جن ناموں کی منظوری دی اس میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔تقریب حلف میں موجود ،سابق وفاقی وزیر ،سابق انٹیلی جنس گرو اور اب بزرگ سیاستدان بریگیڈیر اعجاز شاہ اس حوالے سے بڑے خوش نظر آئے ان کا کہنا تھا کہ اب نوجوانوں کا وقت ہے اور عمران خان نے یہ بہت اچھا کیا ہے جو بڑی تعداد میں نوجوان وزیر بنائے ہیں۔فیصل آباد سے نوجوان وزیر مواصلات و تعمیرات علی افضل ساہی کے والد چودھری افضل ساہی بھی قبل ازیں اسی محکمے کے وزیر رہنے کے علاوہ پنجاب اسمبلی کے اچھے سپیکر رہے ہیں ، علی ساہی لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس امیر بھٹی کے داماد بھی ہیں، اسی طرح سرگودھا سے منیب چیمہ کے والد عامر سلطان چیمہ بھی کافی دفعہ صوبائی وزیر رہ چکے ہیں۔میاں اسلم اقبال لاہور میں پی ٹی آئی کا سمبل ہونے کے ساتھ ساتھ سب سے متحرک ،ملنسار اور محنتی وزیر ہیں،سردار آصف نکئی اپنے تجربے کی وجہ بے شمار دفعہ وزیر رہ چکے ہیں ان کے والد سردار عارف نکئی پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے ہیں ،حسین جہانیاں گردیزی دھیمے مزاج کے بڑا کام کرنے والے بہت تجربہ کار وزیر ہیں۔نوابزادہ منصور علی خان ،بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان کے بیٹے ہیں ان کے پاس دو دہائی قبل بھی مالیات کا ہی قلمدان تھا جو ایک بار پھر انہیں دیا گیا ہے۔ صحت کا قلمدان ایک بار پھر ڈاکٹر یاسمین راشد کے حوالے کیا گیا ہو جو کابینہ کی واحد خاتون وزیر ہیں ،خواتین کو آگے لانے کی دعویدار جماعت کی طرف سے صرف ایک خاتون کو نمائندگی دینے کا فیصلہ قابل تعریف نہیں ہے۔ 

عمران خان نے کابینہ کے نئے ارکان کو کرپشن،رشوت خوری،اختیارات سے تجاوز،بڑے مجرموں کی سرپرستی اور غریب ملزموں پر ظلم و تشدد کے خاتمے کے حوالے سے خصوصی ہدایات بھی دی ہیں ،اس حوالے سے انہوں نے نئے ہوم منسٹر پنجاب سردار ہاشم ڈوگر کو خصوصی ٹاسک سونپ دیا ہے، وہ بڑے محنتی اور دن رات کام کرنے والے سیاستدان ہیں انہیں فوج اور انٹیلی جنس اداروں میں کام کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے ،انہیں محکمہ پولیس سے کرپشن کے خاتمہ کیلئے خصوصی اختیارات بھی دئیے گئے ہیں،کرپشن کا خاتمہ تحریک انصاف کا بنیادی نعرہ اور منشور کا حصہ ہے،اس حوالے سے عمران خان نے اپنی سی کوشش بھی کی،مگر کرپشن کے کارٹلز نے ان کی ایک نہ چلنے دی نتیجے میں جس قدر کرپشن کیخلاف شور مچایا گیا اس میں اس قدر کامیابی نہ ملی،اس پر وہ نالاں دکھائی دئیے مگر کسی نے یہ سوچنے کی زحمت نہ کی کہ اس ناکامی کی وجہ کیا ہے؟ کیوں قانون بھی کرپٹ عناصر کے سامنے بے بس ہوجاتا ہے،ایسے ہی پولیس میں کرپشن کا بہت شور ہے،ہر حکمران نے پولیس کا قبلہ درست کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا مگر آج تک کسی کو کامیابی کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہوا ،اس ناکامی کی وجوہات پر بھی کسی نے دماغ سوزی نہ کی بس کرپشن،رشوت خوری،پولیس مظالم کی گردان کی گئی اور نتیجے میں معاملات سدھرنے کے بجائے بگڑتے چلے گئے۔

 یہ بات زبان زد عام ہے اور کوئی خفیہ راز نہیں کہ محکمہ پولیس میں کرپشن ہی کرپشن ہے ،جو پولیس اہلکار یا نچلے درجے کا افسر لاکھوں روپے رشوت دیکر بھرتی یا تعینات ہو گا وہ لاکھوں کمائے گا اسے غرض نہیں ہو گی کہ جائز کما رہا ہے یا ناجائز،اسے وہ لاکھوں دکھائی دیں گے جو اس نے بھرتی اور پوسٹنگ کے وقت زمین جائیداد بیچ کر دئیے ،یہ چلن صرف پولیس کے محکمے کا نہیں،کسٹمز،ایف بی آر، ایکسائز، ایف آئی اے اور تمام تعمیراتی اداروں میں بھرتیاں سفارش یا رشوت سے ہوتی ہیں اور ہر بھرتی ہونے والے کا مشن پیسہ کمانا ہوتا ہے کم وقت کم محنت سے زیادہ سے زیادہ پیسہ کماناملک قوم قانون آئین انصاف عدل پر حاوی ہو جاتا ہے،وقت آ گیا ہے اس روش کا خاتمہ کیا جائے۔

مصنف کے بارے میں