یہ’’ سات دن کی پابندی‘‘ تو کوئی بات نہیں

یہ’’ سات دن کی پابندی‘‘ تو کوئی بات نہیں

  ایک سال نیو ٹی وی کیساتھ کام کرنے کا موقع ملا، میں نیو ٹی وی کے کئی کاموں کا ناقد رہا ہوں لیکن مجھے یہ کہنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کہ نیو ٹی وی پاکستان کا وہ واحد چینل ہے جہاں مالکان اپنے من پسند افراد کو نوازنے کیلئے آگے نہیں آتے ۔ میرے اس انکشاف پر کئی لوگ پریشان ہوں گے لیکن بات سچ ہے کہ چوہدری عبدالرحمٰن نے کبھی کسی اینکر کے ذریعے اپنے دوستوں کو نوازنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ نیو ٹی وی کی دوسری خوبی یہ ہے کہ تمام تر مالی پریشانیوں کے باوجود نیو نے حد درجہ کوشش کی ہے کہ نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ اپنے ساتھ شامل کیا جائے ،  تیسر ی خوبی یہ ہے کہ نیو ٹی وی کے اندر ماحول واقعی ایک فیملی کی طرح ہے۔ نیو کیساتھ ایک سال کے سفر کے دوران خواتین ورکرز کو ہراساں کرنے کا کوئی بھی کیس نظرسے نہیں گزرا۔ نیو ٹی وی نے تجربات بھی کیے ، جس سے سیکھنے کو بہت کچھ ملا۔یہی وجہ ہے کہ نیو کی بندش کیخلاف مظاہروں میں چینل کے نوجوان ورکرز کی کثیر تعداد جہاں دیکھنے کو ملی وہیں پر نیو ٹی وی ، نئی بات گروپ کے پرانے اور نئے چہروں کو خوبصورت اکٹھ ہوا۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے میڈیا میں حقیقی فیملی کلچر کے فروغ کیلئے نیو ٹی وی کی کوششیں لائق صد تحسین ہیں۔

ملک بھر میں جاری احتجاج سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ چیئرمین پیمرا ابصار عالم جتنا مرضی درباری ہونے کا ثبوت دے دیں اب کسی ادارے اور چینل کو بند کرنے کے پرانے تجربات کو دہرایا نہیں جاسکتا۔ پچھلے کچھ عرصہ سے خصوصاً جب سے پانامہ سکینڈل سامنے آیا ہے، ابصار عالم کو جیسے سوموٹو ایکشن لینے کے اختیارات حاصل ہوگئے ہوں۔آئے دن مختلف چینلز پر پابندیوں کی دھمکی، پروگراموں کی بندش اور لاکھوں کے جرمانوں کی ڈور یوں محسوس ہوتا ہے کہ پیمرا ہیڈکوارٹرز سے نہیں کہیں اور سے ہلائی جارہی ہو۔ یہ ڈور کہیں سے بھی ہلائی جائے سچ تو یہ ہے کہ سچ کا سفر روکا نہیں جاسکتا۔ پیمرا کی ڈور ہلانے والے جمہوری کہلاتے ہیں ، لیکن جمہوریت کی الف ب سے واقف نہیں ہیں۔ جمہوریت میں آزادی اظہار رائے کا گلا نہیں گھونٹا جاتا۔ جمہوریت جمہور سے ہے ، جمہو ر کی ترجمانی میڈیا چینلز کرتے ہیں، اور نیو ٹی وی ’’پاکستانیو کی آواز‘‘ بن کر سامنے آیا ہے، پیمرا کی ’’مجبوری‘‘ سمجھ میں آتی ہے، جمہوری کہلانے والوں کی جمہوریت کی سمجھ نہیں آرہی ۔ یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ نام نہاد جمہوری حکمران اپنے درباریوں کے ذریعے آزادی اظہار رائے کو کچل رہے ہیں۔

                                                                                                                                                     

 صرف نیو ٹی وی ہی نہیں۔ اب اگلی باری کس کی ہے؟ وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ صحافتی اداروں کو اگلی باری آنے سے قبل ہی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیرقانونی پابندیوں کیخلاف یک زبان ہونا ہوگا، اسی میں صحافت کی بقا ہے اور یہی ہم سب صحافیوں کی ذمہ داری بھی ہے۔ نیو ٹی وی کے صحافی دوستوں سے مسلسل رابطے میں رہتا ہوں، یہ بات تو ثابت ہوچکی ہے کہ ورکرز پرامید ہیں اور نئے عزم کیساتھ کام میں مصروف ہیں۔ امید کی شمعوں کو بجھایا نہیں جاسکا، مشکلات سچ کے راستے میں آتی ہیں لیکن سچ کے مسافر مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ ہر قسم کی رکاوٹوں ، پریشانیوں اور مصیبتوں کا سامنا کرتے ہیں، نیو ٹی وی نے یہ کردکھایا۔

گر آج اَوج پہ ہے طالعِ رقیب تو کیا

یہ’’ سات دن کی پابندی‘‘ تو کوئی بات نہیں

جو تجھ سے عہدِ وفا استوار رکھتے ہیں

علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں

امید ہے کہ پاکستانیو کی آواز سچائی کو لے کر شہر شہر گونجتی جائے گی، اور دنیا بھر میں پاکستان کا اصلی چہرہ دکھانے کا پاکستانیو کا سفر جاری رہے گا۔

نوٹ: ادارے کا بلاگرکی رائے سے متفق  ہونا ضروری نہیں

مصنف کے بارے میں

رضی طاہر

رضی طاہر سوشل ایکٹیوسٹ اور بلاگر ہیں