لاہور:پاکستانیوکیلئے خوشخبری۔۔! حق اور سچ کی آواز نیونیوز 7روزہ بندش کے بعد بحال،پاکستانیوکو بہت بہت مبارک ہو۔ پاکستانیو کی آواز نیو نیوز پھرآ گیاہے۔7روزہ پابندی کے بعد نیونیوز کی نشریات ناظرین اب کیبل پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔چیئرمین پیمرا کی جانب سے نیو ٹی وی کا لائسنس7 روز کیلئے معطل کردیا گیا تھا جس کے بعد یکم دسمبر 2016 سے لیکر8 دسمبر دن 12 بجے تک نیو نیوز کی نشریات کیبل پر جبری بند رہیں ۔

یہ سات روزکراچی تاخیبرصحافتی تنظیموں،اساتذہ، طلبا، مزدوریونینوں، سیاسی و مذہبی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے افراد چیئرمین پیمرا کے غیرقانونی حکم کے خلاف سراپا احتجاج بنے رہے اورنیو کی فوری بحالی کا مطالبہ کرکیا۔ملک بھر کے عوام نے  نیونیوز کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ۔حق اور سچ کی بات کرنے والوں کے حوصلے بلند، نیو نےپاکستانیو کی آواز بلند کی اور کرتا رہے گا۔

یہ آواز ہے حق کی جو نہ دب سکتی ہے نہ رک سکتی ہے ،،ہم دکھاتے رہیں گے وہ جو معاشرے کی پکار ہے،ٹیم نیو کا پاکستانیو کی پہلے سے زیادہ دبنگ آواز بننے کا عزم لیکر ایک بار پھر میدان عمل میں نکل آیا ہے۔ نیونیوز کی آواز بننے پر ،نیو ٹیم اور انتظامیہ پاکستانیو کی شکر گزارہے۔نیو کی نشریات بحال ہونے کے بعد نیو کے کارکنوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، تمام کارکن پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے اور نیو کے حق  میں دعائیں کرتے رہے۔

چیئرمین نئی بات میڈیا نیٹ ورک پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمٰن نے نیو کی نشریات بحال ہونے پر کہا کہ ہم غلطیوں سے سیکھتے ہیں ، ہم معزز عدالیہ سے معذرت خواہ ہیں۔ حکومتی غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کرنا ہی ہماری ذمہ داری ہے۔جب کسی بھی وزیر  کیخلاف کوئی خبر چلتی تھی تو مجھے فون آتے تھے کہ آپ اپنا ہاتھ ہولا رکھیں ،انہوں نے کہا کہ نیوکی حق اور سچ کی آواز کو دبانے کی کوشش کئی مرتبہ کی گئی لیکن ہم معاشرے کے ولنز کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔اس موقع پر انکا مزید کہناتھا کہ  تمام چینلز نے ہمارے چینل کی بندش کی خبر چلائی صرف  ایک چینل کے مالکان نے ہمارا ساتھ نہیں دیا۔ سول سوسائیٹی ، وکلا ، ٹیچرز نے ہمارا ساتھ دیا جن کا ہم شکریہ ادا کرتے ہیں۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیونیوز نصراللہ ملک نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں پر ماضی میں بھی ایسی پابندیاں لگتی رہی ہیں ،نیو نیوز ایک چینل نہیں مشن کا نام ہے، انہوں نے کہا کہ  ہم عدلیہ کا احترام کرتے تھے کرتے رہیں گے۔نیو نیوز صحافت کی حقیقی ترجمانی کرنے والا واحد چینل ہے۔ہمارے چینل کی بقا خود ریاست کے لیئے ضروری ہے۔انہوں نے کہ ہم پگڑی اچھالنے والے ہیں اور نہ بلیک میلر ۔روزنامہ نئی بات کے گروپ ایڈیٹر پروفیسر عطا الرحمٰن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تو عدلیہ کی تحریک میں حکومت وقت کیخلاف ملکر آواز بھی بلند کی تھی ، ہمیں عدلیہ کی تحریک میں شامل ہونے پر گورنر پنجاب کی جانب سے وارننگ بھی جاری ہوئی۔  پروگرام ایٹ کیو کے میزبان احمد قریشی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سے نادانستہ کوئی بھی غلطی ہوئی تو میں معافی چاہتاہوں ،عدلیہ کا احترام پاکستانیت کا اہم جزو ہے۔ انہوں نے کہا چئیرمین نیوٹی وی نیٹ ورک نے اس موقع پر جو بہادری کا مظاہرہ کیا اور وہ اپنے عزم پر ڈٹے رہے۔یہ چینل ایک مشن کیساتھ چل رہا ہے۔

مصنف کے بارے میں