ٹڈاپ میں کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ کے کارپوریٹ کلچر متعارف کرایاہے: ایس ایم منیر

کراچی: ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان(ٹڈاپ) کے چیف ایگزیکٹو ایس ایم منیر نے کہاہے کہ ٹڈاپ میں کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ کے کارپوریٹ کلچر متعارف کرادیا گیاہے جس سے ادارے کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے جب چارج سنبھالا تو ٹڈاپ میں 1300کروڑ روپے کی بے لگام کرپشن کی جاچکی تھی اور مختلف افسران اور وزرا کے خلاف 26ایف آر درز درج ہوچکی تھیں۔ ٹڈاپ کے دوسابق چیئرمین بھی 61ایف آئی آر ز میں نامزد تھے۔ اب ان کے خلاف مقدمات عدالتوں میں زیرسماعت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹڈاپ میں تاخیر سے دفتر آنے اور کام نہ کرنے کا کلچر پروان چڑھ چکاتھا۔ میں نے کراچی' لاہور اورفیصل آباد کے دفاتر میں بائیومیٹرک سسٹم پرحاضری کویقینی بنایا' اب تمام افسران اور اہلکار مقررہ وقت پر دفتر آتے ہیں کارپوریٹ کلچر کے نفاذ سے ٹڈاپ کی کارکردگی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چارج سنبھالنے کے دنوں میں ٹڈاپ میں فنڈز کی شدید قلت تھی۔ میں نے 118نمائشوں کاانعقاد کیا اور اب ٹڈاپ میں وا فر سرمایہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی تقریباً تمام اداروں کے فنڈز میں30فیصد کمی کردی تھی۔ ٹڈاپ کافنڈ2ارب روپے سے کم کرکے ایک ارب30کروڑ روپے کردیاگیاتھا جب میں سے 50فیصدافسران اور عملے کی تنخواہوں اور بقیہ 50فیصد رقم نمائشوں کے انعقاد اور بیرون ملک وفود کے اخراجات میں استعمال کی جاتی ہے کہ ایف آئی اے نے لٹیروں سے 25کروڑ روپے وصول کرکے ہمارے کام کوآسان بنایا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل سمیت کموڈ ٹیز کی قیمتیں گرنے سے پاکستان کی برآمدات میں کمی ہوئی جبکہ بھارتی برآمدات میں18فیصد ' چین کی برآمدات میں12فیصد' انڈونیشیا اور جاپان کی 14فیصد جبکہ ترکی برآمدات میں20فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں صفر ڈیوٹیز کی بنیاد پر بنگلہ دیش کی برآمدات میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ حکومت کو برآمد کنندگان کے سیلز ٹیکس کسٹمز ری بیٹ ریفنڈ کلیمز کے 300ارب روپے اداکرنے ہیں جن میں سے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی خصوصی کاوشوں کی بدولت گزشتہ دو ماہ میں برآمدکنندگان کو60ارب روپے ادا کئے جاچکے ہیں جبکہ جاری برآمدات کے باعث 30سے 40ارب روپے کے ریفنڈپھرواجب الادا ہوگئے ہیں۔

انہوں نے ملکی برآمدات میں اضافے کے وسیع امکانات ہیں بشرطیکہ حکومت پیداواری لاگت کم کراکے برآمدکنندگان کوحریف ممالک کی مسابقت کے قابل بناسکے۔ پاکستان کا مستقبل روشن ہے اور دڈنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ایشین ٹائیگر بننے سے نہیں روک سکتی۔

مصنف کے بارے میں