اسلام آباد: پاکستان کے نجی ادارے نے جنوبی کوریا کی کار ساز کمپنی 'KIA' کے ساتھ مقامی طور پر کاروں کی اسمبلنگ کے آغاز کا مشترکہ منصوبہ بنالیا،لکی سیمنٹ نے جنوبی کوریا کی کمپنی کے ساتھ پاکستان میں پلانٹ لگانے کیلئے 12 ارب روپے کی شراکت داری کا منصوبہ بنایا ہے، کیا موٹرز کے آنے سے جاپانی کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کرنے کی حکومتی کوششوں کو تقویت ملے گی، نیشنل لاجسٹک سیل(این ایل سی)نے جرمن کمپنی کے ساتھ مل کر آٹو سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق لکی سیمنٹ نے جنوبی کوریا کی کمپنی کے ساتھ پاکستان میں 'کیا' گاڑیوں کا مینو فیکچرنگ پلانٹ لگانے کیلئے 12 ارب روپے کی شراکت داری کا منصوبہ بنایا ہے۔یونس برادرز گروپ کے ذیلی ادارے لکی سمینٹ نے ایک بیان میں کہا کہ 'کیا' گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ کیلئے انھوں نے ایک نئی کمپنی کے آغاز کا منصوبہ بنایا ہے۔تاہم اس بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس شراکت داری میں 'کیا' کمپنی کس قدر سرمایہ کاری کرنے جارہی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے نجی ادارے کے اس بیان کی تصدیق کیلئے فوری طور پر جنوبی کورین کمپنی کی انتظامیہ سے رابطہ نہیں ہوسکا۔خیال رہے کہ ماضی میں بھی کیا موٹرز نے پاکستان میں کاروں کی اسمبلنگ کے کام کا آغاز کیا تھا تاہم فروخت میں واضح کمی کے باعث اس کی مینوفیکچرنگ روک دی گئی تھی۔لکی سیمنٹ کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ نیا منصوبہ مارکیٹ میں لایا جائے گا اور فروخت بھی ہو گا، درآمدات و برآمدات کے علاوہ تمام اقسام کی کیا گاڑیاں، ان کے پارٹس اور پرزے بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔

واضح رہے کہ کیا موٹرز کے مقامی مارکیٹ میں دوبارہ داخل ہونے سے حکومت کی جانب سے کار بنانے والی جاپانی کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کو تقویت ملے گی۔گذشتہ ماہ فرانس کی کار ساز کمپنی رینالٹ نے پاکستان میں نئی فیکٹری میں سرمایہ کاری پر اتفاق کیا تھا اور اس حوالے سے حکام کا کہنا تھا کہ وہ دیگر کار ساز کمپنیوں سے بھی بات چیت کررہے ہیں۔حکومت کا ماننا ہے کہ مقابلے میں اضافے کے نتیجے میں پاکستان میں کاروں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں واضح کمی آئے گی اور مارچ میں درآمداتی ڈیوٹی میں بڑے اضافے سے مارکیٹ میں نئی کمپنیوں کو متعارف کرواتے ہوئے نئی آٹو پالیسی کا اعلان بھی متوقع ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ ایسی رپورٹس بھی منظر عام پر آئیں تھی کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے(سی پیک)کے باعث ملک میں مال بردار گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے نیشنل لاجسٹک سیل(این ایل سی)نے جرمن کمپنی کے ساتھ مل کر آٹو سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔اس حوالے سے این ایل سی نے ابتدائی طور پر 50 کروڑ سے 70 کروڑ روپے سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔پہلے مرحلے میں پاکستانی فوج کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ٹرک بنائے جائیں گے، دوسرے مرحلے میں اقتصادی راہداری کی طلب کو مد نظر رکھتے ہوئے مال بردار گاڑیاں بھی بنائی جائے گی۔

ابتدائی طور پر 700 سے 1000 گاڑیاں سالانہ بنائی جائے گی اور بعد ازاں ضرورت کے مطابق اس کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا۔

مصنف کے بارے میں