ایک بلین درخت لگ جائیں تو چھائوں ہماری طرف بھی آئے : طلال چوہدری


اسلام آباد : وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ ہم تقریروں میں درخت نہیں لگا رہے ہم عملی کام کرتے ہیں جنہوں نے بلین ٹری کا اعلان کیا تھا ان کا بلین سو کا ہے یا دو سو کا سمجھ نہیں آرہی ہے۔ ایک بلین درخت لگ جائیں تو چھاؤں ہماری طرف بھی آئے۔


قومی اسمبلی میں انہوں نے کہا کہ پولیس میں کسی بھی طریقے سے جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف صرف معطلی کا فیصلہ نہیں کیا جاتا بلکہ ان کو سزا بھی دی جاتی ہے پولیس کی پروموشن میں ٹریننگ دی جاتی ہے۔ سیف سٹی منصوبہ پچھلی حکومت ہمارے گلے میں پھنسا دیا تھا اس کی لاگت میں اضافہ ہوا۔ لاہور میں اس سے بہتر سیف سٹی منصوبہ لگایا گیا ہے۔ 80 فیصد اس منصوبے سے فائدہ لیا جارہا ہے اسلام آباد میں چڑھائی کرنے والوں کے خلاف صرف آنسو گیس نہیں اور بھی بہت کچھ استعمال کیا جائے گا جس پر اپوزیشن نے ایوان میں ہنگامہ کھڑا کردیا۔


طلال چوہدری نے کہا کہ سوموار کے روز وزیر داخلہ احسن اقبال خود آکر اس پر تفصیلی جواب دیں گے مگر اس ایوان میں ہونے والی قانون سازی پر کسی کی جرات نہیں ہوئی کہ وہ اس پر بات کریں۔ ایک پولیس اہلکار اسرار تنولی کی آنکھ ضائع ہوئی ہے ان کی طبی امداد کیلئے ڈاکٹرز کا بورڈ بنایا گیا ہے۔ طلال چوہدری کے بیان پر شیریں مزاری اور دیگر رہنما نے اسے بدتمیزی قرار دیا