بادشاہ اور گلوکار…؟؟؟

Raza Mughal, Pakistan, Lahore, Daily Nai Baat, e-paper

ایک گلوکارنے بادشاہ سلامت کے دربار میں اچھا گایا تو بادشاہ نے اشرفیوں کا ڈھیر لگا دیا اب گوئیے نے سوچا کہ وہ اور اچھا گائے گا توبادشاہ اسے محل عطا کر دے گا ہوا بھی اسی طرح پھر گلوکار نے سوچا کہ اوراچھا گائے تو اسے بادشاہت دے دی جائے گی اس نے پھر فن کا مظاہرہ کیا تو بادشاہ نے تخت دیدیا اس کے بعد گلوکار نے کہا بادشاہ سلامت اب میرے لئے کیا حکم ہے تو بادشاہ نے کہا کہ یارتو میرے کناں نوں خش کررہیا سی تے میں تیرے کناں نوں؟ ہمارے وزیر اعظم بھی یہی کچھ کر رہے ہیں کبھی وہ کہتے ہیں مہنگائی بہت ہے کبھی وہ کہتے ہیں پٹرول کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں کبھی فرماتے ہیں بجلی کے بلوں سے عوام پریشان ہیں کبھی وہ کہتے ہیں عوام کو خوشحال کرنا چاہتا ہوں لیکن سابقہ حکومتوں کی لوٹ مارکی وجہ سے مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ ہمیں خزانہ خالی ملا ،پھر کہتے ہیں کرونا آ گیا جس کی وجہ سے مہنگائی کرنا پڑی پھر کہتے ہیں پوری دنیا میں مہنگائی پاکستان سے زیادہ ہے چار سال ہونے کے قریب ہیں تبدیلی سرکار کو آئے ہوئے وہ نواز شریف اور 

شہباز شریف کیسوں سے باہر نہیں نکل سکے اور وہ وہ بیدارہوتے ہی رٹ لگاتے ہیں نواز شریف کو واپس آنا چاہیے نواز شریف کو واپس آنا ہو گا شہباز شریف ڈاکو ہے اس سے ہاتھ نہیں ملائوں گا اب موصوف سے کوئی پوچھے کہ وہ تو شیخ رشید کو کہتے تھے ان کو میں اپنا چپراسی نہیں رکھوں گا انہیں وزیر داخلہ بنا دیا ہے عمران خان تو کہتے تھے ایک کروڑ نوکریاں ملیں گی لوگ باہر سے آکرپاکستان میں ملازمتیں حاصل کریں گے لوگوں کو گھر بنا کر دیں گے کہاں ہیں سب وعدے؟ عوام کو یاد ہے دھرنا پارٹی نے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کا وعدہ بھی کیا تھا جو اب تک پورا نہ ہوا سو دنوں میں وعدے پورے کرنے کا دعویٰ کرنے والے وزیراعظم عمران خان کا اب کہنا ہے کہ نیا پاکستان بٹن دبانے سے نہیں بنے گا، گھسے پٹے نظاموں کو بدلنے میں وقت درکار ہوتا ہے،عوام صبر کریں وہ اب چین کی مثال دیتے نہیں تھکتے جہاں تعلیم،صحت فری ہے ایک کروڑ نوکریوں سے لے کر معاشی خوشحالی کے جو دعوے تحریکِ انصاف نے کیے تھے، آج تقریباً ساڑھے تین سال بعد ملک میں شرحِ بیروزگاری پر نظر ڈالیں تو صورتحال ان وعدوں سے یکسر مختلف نظر آتی ہے، سوشل میڈیا سے لے کر ٹاک شوز تک، اکثر لوگ یہی سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ حکومت میں آنے سے قبل نوکریاں دینے اور کاروبار کے مواقع فراہم کرنے کے جو وعدے کیے گئے ان کا کیا بنا؟ عمران خان کو بزرگ سیاستدان چودھری شجاعت حسین نے مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم کو آج کل نوازشریف کے آنے جانے کی فکر لگی ہے، میری ذاتی رائے یہ ہے چاہے کچھ بھی کر لیں نوازشریف واپس نہیں آئیں گے، ان کی پارٹی اور ورکر کہیں تو علیحدہ بات ہے، لیکن وہ لوگ جو خود وزیراعظم کے امیدوار ہیں وہ نوازشریف کی واپسی کا کہیں تو یہ نہایت مضحکہ خیز بات ہے،جتنے پیسوں کا الزام نوازشریف پر ہے اس سے زیادہ تو ان کے کیسوں کے چکر میں خرچ کر دئیے گئے ہیں، ان کی واپسی کیلئے گارنٹی کی بات کرتے ہیں لیکن یہ خیال رکھیں کہ زندگی موت کی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتا۔ اس کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے، نوازشریف کی واپسی سے باہر نکلیں اور عوامی ایشوز کے حل پر توجہ دیں،ملک میں مہنگائی مہنگائی کا شور تو ہر طرف ہے لیکن اس کے خاتمے کیلئے کوئی تجویز نہیں دیتا، وزیراعظم عمران خان مشیروں اور سیاسی ترجمانوں کی غلط ایڈوائس سے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں سے واپسی ناممکن ہے اور آگے گڑھے ہی گڑھے ہیں۔

مصنف کے بارے میں