پاکستانی ایٹمی پروگرام کی جاسوسی میں بھارتی کردار بے نقاب،اہم انکشافات

 پاکستانی ایٹمی پروگرام کی جاسوسی میں بھارتی کردار بے نقاب،اہم انکشافات

نئی دہلی: جنوبی ایشا میں ایٹمی اسلحے کی دوڑ نے علاقے کے امن کوسخت خطرے میں ڈال دیا ہے، پاکستان اور بھارت اپنے خزانے کا بڑا حصہ ایٹمی پروگرام پر خرچ کر رہے ہیں۔ بھارت کو پاکستان اور چین کے ایٹمی اسلحے کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔یہ سوال انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان نے کس طرح ایٹمی پروگرام کو اپنی اسٹرٹیجک طاقت بنایا۔آج بھی پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کی ایٹمی پروگرام کی جاسوسی کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

بھارتی خفیہ ایجنسی کے کچھ خفیہ کاغذات منظر عام پر آئے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کس طرح1970کی دہائی سے 1990 کی دہائی تک پاکستان کے ایٹمی پرگرام کی جاسوسی کی، 1990 کی دہائی میں ہی بھارت اور پاکستان باقاعدہ د نیا کی چھٹی اور ساتو یں ایٹمی قوت بن گئے۔1998کے ایٹمی دھماکوں کے بعد بھارتی خفیہ ایجنسی پاکستان کے میزائل شاہین2 کی جاسوسی میں لگ گئی وہ اس میزائل کی سپلائی چین کاپتا لگوانا چاہتے تھے۔

یہ جوائنٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی مشترکہ رپورٹ ہے جس کا عنوان نے کہ ”پاکستان کی ایٹم بم بنانے کی مہارت“ اس رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ پلوٹینیم239اور یورنیم235 کی کشید کرنے کی مہارت نہ ہونے کی وجہ سے پاکستاں اگلے چار سالوں تک ایٹم بم نہیں بنا سکتا۔

اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ کراچی نیوکلئیر پاور پلانٹ میں فنی خرابی ہے جس کی وجہ سے پلانٹ سے خطرناک کیمیکل کا اخراج وہ رہا ہے۔1975میں کراچی پاور پلانٹ کو 6دفعہ بند ہونا پڑا پھر اس خرابی کو دور کرنے کے لیے کینیڈا کے ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں۔

1976میں سفارتی ذرائع سے پتا چلا کہ کچھ چینی ماہرین اس مقصد کے لیے پاکستان میں موجود ہیں۔ ہنگری کے سفارت کار نے بھارتی سفارت کار کو خبر دی کہ کراچی کے ایٹمی پاور ہاوس میں چینی ماہرین کینیڈا کے پرزاجات کو کراچی پلانٹ میں نصب کر رہے ہیں۔ پاکستان کینیڈا کی طرف سے فراہم کردہ تکنیکی معلومات کو چین کو بھی فراہم کر رہا تھا۔

پھر 1977میں بھارتی ایجنسی را نے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی جس میں ضیاالحق کے کزن عبد الوحید کا ذکر کیا گیا کہ وہ بون جرمنی کے ایک شہر سے ایٹمی پرزہ جات خرید رہے ہیں۔ اس سے پہلے پاکستان مغربی یورپ سے 11ملین ڈالر پلوٹینیم ٹیکنا لوجی کے حصول پر خرچ کر چکا ہے۔

1981میں اسلام آباد میں بھارتی سفارت کانے نے نئی دہلی کو اطلاع دی کہ پاکستان اس سال ایٹمی تجربہ کرنے کی پوزیشن میں آچکا ہے۔ بھارتی سفارت خانے نے مزید بتایا کہ ضیاالحق ہر صورت ایٹمی تجربہ کرنا چاہتے ہیں۔ ایک اور ہندوستانی سفارت کار اورنیشنل سیکورٹی نے بتایا کہ کہوٹا،اسلام آباد اور سہالہ ایٹمی پروگرام کا ٹرائی اینگل ہے اور کہوٹا کی حفاظت کے لیے فضائی مزائل سسٹم نصب کر دیا گیا ہے۔

ہندوستانی ماہرین نے نوٹ کیا کہ پاکستان سندھ،بلوچستان اور خیبرپختوخواہ میں زیرزمین ایٹمی دھماکہ کر سکتا ہے۔ اس دور میں سویت یونین کے سیٹلایٹ نے راس کو پہاڑی رینج میں کچھ غیر معمولی نقل و حرکت کو نوٹ کیا۔

ایک ذرائع میں انکشاف کیا گیا کہ بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی نے بتایا کہ ہم ڈاکڑ قدیر خان کی نقل و حرکت پر نگا ہ رکھتے ہیں ہمیں معلوم ہے کہ وہ کہا جاتا ہے اور اور شمالی کوریا جانے کا کیا مقصد تھا اور چین میں انکی موجودگی کے بارے میں بھی ہم جانتے ہیں۔

بھارت سے لیک ہونے والے ان رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ بھارت کس طرح پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر نظر رکھے ہوئے تھا اور کن کن ذرائع کو استعمال کر رہا تھا۔