مہنگائی لا قانونیت کے اسباب اور روک تھام

مہنگائی لا قانونیت کے اسباب اور روک تھام

ہائیکورٹ نے عمران خان کو پارٹی سربراہی سے ہٹانے کی کاروائی روک دی۔بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ عمران خان کو عہدے سے ہٹانے کی کاروائی غیر قانونی ہوگی۔آج کی یہ خبر پڑھ کر مجھے دکھ کم اور ہنسی زیادہ آئی کیونکہ ایسی خبریں ہمیں ورثے میں ملی ہیں اور اس سسٹم کو آخر کون بدلے گا؟یہ سوال آج بم بن کے میرے دماغ میں کوندا۔بات صرف میں عمران خان کی نہیں کروں گی بلکہ ہر پاکستانی کے لیے کروں گی چاہے وہ عام آدمی ہو یا کسی بھی ادارے کا سرکاری ملازم سب کے لیے قانون ایک سا ہونا چاہیے۔مگر یہاں تو ایسا وقت بھی ہم نے دیکھا ہے کہ الیکشن لڑنے والا جیل میں ہوتا ہے اور وہ الیکشن لڑ رہا ہوتا ہے مزے کی بات یہ کہ وہ جیت بھی جاتا ہے۔
کیس اتنے سنگین ہوں اور اُن پہ اتنی چھوٹ بات تو سمجھ آتی ہے۔آج تک مکمل تحقیق کے بعد بھی فارن فنڈنگ کیس میں ہی عمران خان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔آخر کب تک امیر کے لیے اور مضبوط بندے کے لیے قانون الگ اور غریب کے لیے الگ۔یہی عمران خان ہی کہا کرتے تھے کہ ہمیں دو نہیں ایک پاکستان چاہیے تو پھر آج کیوں خود کو عبوری ضمانتوں کی آڑ میں چھپایا جا رہا ہے۔
ایک بار ہمارے نبی حضرت محمدؐ صحابہ کرام کے ساتھ بیٹھے عدل کے بارے میں فرما رہے تھے کہ وہ قومیں تباہ ہو جاتیں ہیں ہیں جہاں طاقتور کے لیے قانون مختلف اور کمزور کے لیے مختلف ہوگا۔ہر قوم کی تباہی کا کوئی نہ کوئی سبب رہا ہے ہماری یوں نا انصافی اور منافقت ہی کہیں ہماری تباہی کا سبب نہ بن جائے۔
ویسے تو ہماری ریاست کے تمام ادارے اہم ہیں جن کا ذکر میں نے اپنے گز شتہ کالمز میں بھی کیا کہ ہماری ریاست پانچ ستونوں پہ کھڑی ہے۔1بیوروکریٹس،2فوج،3عدلیہ،4پارلیمنٹ،5صحافت۔
اگر دو باتوں پہ عمل ہو جائے تو ہم بہت حد تک بہتر ہو سکتے ہیں۔
نمبر 1اگر ہمارے ادارے آئین کے تحت اپنی اپنی ذمہ داری نبھا لیں تو بہت حد تک معاملات سمٹ جاتے ہیں کیونکہ ہمارے ادارے اس وقت غیر سیاسی نہیں ہیں جن کی وجہ سے ہمیں بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔تمام اداروں کو غیر سیاسی رہنا چاہیے۔
نمبر 2اگر ہم ملک میں قانو ن کی بالا دستی 
چاہتے ہیں تو اگر دو ادارے سختی سے غیر سیاسی پرفارم کرنا شروع کر دیں تو آج اس بگڑے نظام کو ہم بہت بہتر کرسکتے ہیں وہ ہماری عدلیہ،اور ہماری فوج
یہ بات میں اس لیے کہہ رہی ہوں کہ اگر یہ ادارے میرٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں گے تو کوئی بھی اپنے عہدے اور اپنے نام کے پیچھے نہیں چھپے گا پھر ہی طاقتور اور کمزور کے لیے ایک سا قانون ہوگا تو نظام میں خودبخود شفافیت آئے گی کوئی خود کو بالا تر یا کمتر تصور نہیں کرے گا۔
ہر گزرے دن کے ساتھ پاکستان کے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جا رہے ہیں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور بنیادی اشیائے خوردو نوش عوام کی قوت خرید سے باہر نکل چُکی ہیں لوگ فاقہ کشی پہ مجبور ہو چُکے ہیں۔اس وقت بنیادی ضروریات زند گی آٹا،گھی،چینی،ہی عام آدمی کی قوت خرید سے باہرجا چُکی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اس وقت مہنگائی عروج پر ہے،جب ہم نے حکومت سنبھالی تو انتہائی مخدوش حالات تھے۔یہ بات بھی شہباز شریف صاحب کی درست ہے مان لیا،مگر کیا ہمارے ملک میں کبھی روایات میں تبدیلی نہیں آئے گی کیا ہر آنے والی نئی حکومت پچھلی گورنمنٹ کا رونا روتی رہے گی آخر کسی کو تو بہتری کے لیے پہلا قدم اُٹھانا ہو گا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم بہتری کی طرف کیسے جائیں؟ کیونکہ حکومت ابھی عوام کی مشکلات کو سمجھنے سے قاصر ہے۔یہ بات میں اس لیے کہہ رہی ہوں کہ خواجہ آصف نے جو پلان اپنی پریس کانفر نس میں دئیے وہ نہایت ہی بچگانہ تھے۔بات ہو رہی تھی انرجی کرائسس کی کہ کیسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔تو پلان دیا،رات 8بجے مارکیٹیں بند کی جانی چائیے اور اگلی بات جو کہی وہ تو نہایت ہی عجیب و غریب کی کہ جن ممالک میں 8بجے دکانیں بند ہوتیں ہیں وہاں بچے کم پیدا ہوتے ہیں۔
کیا ان کو احساس ہے کہ دو وقت کی روٹی جب میسر نہ آئے اور کمانے والا صبح سے رات تک کے لیے جائے اور رات کو وہ مزدوری نہ ملنے پہ لیٹ رات گئے بچوں سے ڈر سے اپنے ہی گھر میں منہ چھپا کر آئے وہ سسکیاں اور آہیں کبھی محسوس تو کریں جو اتنے اہم عہدوں پہ بیٹھ کے قوم کے ساتھ مذاق کر رہے ہوتے ہیں وہ ایک ملک کو چلانے کے لیے حکمرانی کرنے آئے ہیں کسی سٹیج ڈرامہ پہ پرفارم نہیں کر رہے ہوتے تھوڑے ہوش کے ناخن لیں۔
اگر ہم اس وقت مسابقتی کمیشن کی مہنگائی کے حوالے سے رپورٹ کو پیش نظر رکھیں تو اُس میں 10بنیادی اشیائے خور و نوش، جو اوسط گھرانے کے اخراجات کا 63فیصد بنتی ہے،کی قیمتوں میں اضافے کو اجناس کی کھیتوں سے منڈیوں اور دکانوں تک فروخت کے نظام میں رکاوٹوں،ناجائز منافع خوری، اور ٹرانسپورٹیشن کے بڑھتے اخراجات اور بلا جواز کرایوں میں اضافہ بتایا گیا ہے ایک پہلو یہ جس پہ بات کر کے یہ بری الزمہ ہو جاتے ہیں اب سوال یہ ہے؟ کہ ان معاملات کو کنٹرول میں لانا کیا حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔اگر ہم2021اور2022کا موازنہ کریں تو مالی سال 2022میں 35%اضافہ ہوا ہے۔
اگر موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جائے کہ محض پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایان کمی کرنے اور انتظامی غفلت اور مارکیٹ پر اپنی رٹ مضبوط کرنے سے حکومت مہنگائی کی شرح کو نصف کر سکتی ہے تو یہ بات غلط نہ ہو گی۔کیونکہ اس وقت عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں گزشتہ ایک سال کی نچلی ترین سطح پہ ہیں مگر ہماری ملکی سطح پہ اس وقت بھی پیٹرولیم مصنوعات کی ان قیمتوں سے 50سے60فیصد تک پہلے ہی سے اضافہ کیا جا چُکا ہے۔ لیوی کی مد سے ہی قیمتوں مین حیرت انگیز اضافہ ہے جن کو حکومتی سطح پہ ریوائز کرنا چاہیے اگر اس وقت 3چیزوں کو فوری طور پہ کنٹرول کیا جائے تو بہت حد تک قیمتیں نیچے لائی جا سکتی ہے اور عام آدمی پہ جو مہنگائی کی مد میں ایک بوجھ ڈالا گیا ہے وہ قدرے کم ہو جائے گا۔
ایک۔فوری طور پہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی لائی جائے اور اُن پہ بے جا ٹیکس جو لاگو کیے گئے ہیں اُن کو ختم کیا جائے۔
دوسرا۔ فوری طور پہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈان کیا جائے اس سے جب وافر اشیا منڈیوں میں میسر ہوں گی تو قیمتوں میں کمی آئے گیتیسرا۔ان قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے بعد جو دکاندار خود سے ہی قیمتوں میں اضافہ کرکے بیچ رہے ہیں اُن کے بلا تقسیم خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
ان پہ بھی عمل کر لیا جائے تو مہنگائی کا گراف جو اس وقت بلند ترین ہے اُس میں کمی متوقع ہے۔ان پہلوؤں پہ عمل پیرا ہونا حکومتی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے اور سختی سے عمل پیرا ہو کر ہی حالات کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔