نور الحسن کا قتل یا طبی موت ،آرمی چیف کی ہدایت پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل

نور الحسن کا قتل یا طبی موت ،آرمی چیف کی ہدایت پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل
image by facebook

لاہور : صادق آباد کے رہائشی 330کلو وزنی نور الحسن شالیمار ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار گئے ، ان کے معالج ڈاکٹر معاذ کے مطابق ان کا آپریشن بالکل ٹھیک ہوا اور اعضا بھی درست کام کرر ہے تھے لیکن اللہ کی رضا کے سامنے کسی کی نہیں چلتی ہے ۔


تفصیلات کے مطابق صادق آباد کے 330کلو وزنی نور الحسن کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر ائیر ایمبولینس کے ذریعے لاہور منتقل کیا گیا تھا جہاں ڈاکٹر معاذ نے ان کا علاج شروع کیا ، ڈاکٹر معاذ کے مطابق مریض کا آپریشن بالکل ٹھیک ہوا تھا اور اس کے بعد ان کے تمام اعضا بالکل ٹھیک کام کر رہے تھے ، ایک سے دو برس میں ان کا دو سو سے زائد وزن کم ہو جانا تھا.

ڈاکٹر کے مطابق مریض حرکت قلب بند ہونے سے زندگی کا بازی ہار گیا ہے ، ڈاکٹر معاذ نے بتایا کہ لواحقین کی جانب سے پوسٹ مارٹم نہ کرانے کی وجہ سے حقیقی وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے لیکن غالب امکان یہی ہے کہ حرکت قلب بند ہوگئی تھی.

اس خبر کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ آئی سی یو میں ایک بچے کی فوتگی پر ان کے لواحقین نے آئی سی یو میں توڑ پھوڑ کی تھی جس سے خوفزدہ ہو کر آئی سی یو کا عملہ اور ڈاکٹر وہاں سے بھاگ نکلے جبکہ نورالحسن بھی اسی آئی سی یو میں زیر علاج تھا جب عملہ واپس پہنچا تو انھوں نے دیکھا کہ نور الحسن کی طبعیت بہت بگڑچکی ہے .

عملے نے جان بچانے کی کوشش کی لیکن جانبر نہیں ہو سکے ۔آرمی چیف کی ہدایت پر ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جوکہ ان دونوں اموات کی وجوہات کا تعین کرےگی  ، تحقیقات میں آئی سی یو کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو بھی زیر غور لایا جائے گا ۔