پاکستان کی فوڈ سکیورٹی اور برازیل

پاکستان کی فوڈ سکیورٹی اور برازیل

سچی بات یہ ہے کہ برازیل ایک ملک نہیں بلکہ پورا براعظم ہے۔ لاطینی امریکہ کا سب سے بڑا ملک۔ دنیا کی بڑی معیشتوں میں سے ایک۔ ہم برازیل کو صرف فٹ بال کے حوالے سے جانتے ہیں۔ یہ ہماری کم علمی یا نا اہلی کہ اس ملک کے بارے میں ہمارے پالیسی ساز ادارے زیادہ نہیں جانتے  اور اگر جانتے ہیں تو مجرمانہ غفلت کا شکار ہیں ۔ فٹ بال برازیل کی شناخت ہے لیکن اس سے بھی زیادہ ہمیں اس ملک سے یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ برازیل فوڈ سکیورٹی میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔ فوڈ سکیورٹی ملکی سلامتی کا سب سے اہم ستون ہے۔ دونوں ملکوں میں قدر مشترک ہے کہ دونو ںملک زرعی ہیں لیکن برازیل نے زراعت کے شعبے میں جو انقلاب برپا کیا ہے ہم اس سے کوسو ں دور ہیں۔اگر ہم میں کچھ نیا کرنے کی اہلیت موجود نہیں ہے تو جو کچھ نیا ہو رہا ہے اسے لینے میں کیا حرج ہے۔ ملک اس وقت آگے بڑھے گا جب خلوص نیت سے پالیسیاں ترتیب پائیں گی۔ ہر مسئلہ کاحل امریکہ اور یورپ نہیں ہے۔باقی دنیا بھی ہمارے لیے اتنی ہی اہم ہونا چاہیے اور جہاں سے جو علم ملے لینے میں بخل سے کام نہیں لینا چاہیے۔ 

برازیل دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ دنیا بھر سے لوگ برازیل کا رخ کر رہے ہیں اس لیے اسے کثیر الجہتی ثقافتوں کا ملک کہا جا سکتا ہے۔اس وقت برازیل کو ایک ابھرتی ہوئی طاقت سمجھا جا رہا ہے۔ اسے دنیا کی بریڈ باسکٹ بھی کہتے ہیں۔اس کی زمین اور موسم فصلو ںکی کاشت کے لیے بہت ہی موزوں تصور کیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایک بڑی آبادی اور رقبے کاملک ہونے کے باوجود یہ اناج میں خود کفیل ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس نے کاشت کاری کے جدید اصولوں کو اپناتے ہوئے اپنی فی ایکٹر پیداوار میں بہت زیادہ اضافہ کر لیا ہے۔ گزشتہ 150 برس سے برازیل سب سے زیادہ کافی پیدا کرنے والے ملک کے طور پر جانا جاتا ہے اور اس کی برآمدات کا اہم ستون ہے۔  اسلام آباد میں برازیل کے سفیر اولینتھو وی ایرا سے ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی تو کہنے لگے کہ پاکستان میں برازیل کو صرف ایک فٹ بال نیشن کے طور پر جانا جاتا ہے ہم پاکستان کے ساتھ مل کر زراعت میں کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ آپ کا ملک ایک زرعی ملک ہے تو ہماری تجربات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ ہم اپنی ٹیکنالوجی مفت میں دے دیں گے مگر بہت کم پیسو ںمیں ہم پاکستان کی فی ایکٹر پیداوار میں اضافہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آپ کی فصلوں اور پھلوں کی کاشت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ پاکستان کی حکومت اورسرمایہ کار زراعت پر توجہ دیں تو ناصرف ملک کی ضروریات کے لیے وافر مقدار میں اناج پیدا 

کیا جا سکتا ہے بلکہ اسے بین الاقوامی منڈیوں میں فروخت بھی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گنے کو صرف چینی پیداکرنے کے لیے کاشت کیا جاتا ہے لیکن گنے سے بائیو فیول بھی پیدا کیا جا سکتا ہے۔اب یہ آپ پر منحصرہے کہ آپ ہم سے کیا کچھ لینا چاہتے ہیں۔ برازیل کے پاس پاکستان کو آفرکرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ ایک بڑی مارکیٹ پاکستان کے صنعت کاروں کی منتظر ہے۔  ان کی گفتگو سن کر مجھے ایک مصرعہ یاد آنے لگا۔نرم دم گفتگو گرم دم جستجو۔ انہوں نے بتایا کہ برازیل کافی کے ساتھ کاٹن، سویابین ، اورنج جوس، گوشت، پولٹری اور چینی برآمد کرنے والا ملک ہے۔

برازیل کے سفیر نے بتایا کہ زراعت کو ہم اپنی ضروریات اور برآمدات کے طور پر نہیں لیتے بلکہ ہم  اسے اپنی معیشت میں سٹریٹیجک اہمیت کا حامل شعبہ جانتے ہیں۔دنیا میں سب سے زیادہ اورنج کی سپلائی برازیل کرتا ہے یعنی دنیا کا ایک تہائی اورنج برازیل سے ایکسپورٹ ہوتا ہے۔پاکستان کو ہم کاٹن اور سویابین ایکسپورٹ کر رہے ہیں۔برازیل کے سفیر نے کہا کہ پاکستان کا آم بہت لذیذ ہے اس کی پیداوار کو پانچ گنا تک بڑھایا جا سکتا ہے۔برازیل کو دنیا میں گوشت کی پروڈکشن کرنے والا دوسرا بڑا ملک جانا جاتا ہے۔ ایگرو انڈسٹری ملک کی معیشت کا 30فیصد ہے۔ سائنٹیفک اپروچ کے ساتھ پاکستان بھی اس شعبہ میں آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ برازیل کے سفیر جب گفتگو کر رہے تھے تو ان کے سٹاف نے ہمیں برازیلین کافی پیش کی۔ بلیک کافی کا ذائقہ منفر دتھا۔ میرا استفسار تھا کہ دونوں ملکو ںکے درمیان تجارت کا حجم بہت کم ہے تو انہو ںنے بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان 600ملین ڈالر کی تجارت ہوتی ہے جو بہت کم ہے اور اس میں بھی برازیل کی تجارت کا حصہ زیادہ ہے۔ ہم پاکستان کو سویابین تیل اور کاٹن برآمد کر رہے ہیں اور پاکستان سے کپڑے ، کھیلوں کا سامان اور سرجری کے آلات وغیرہ برآمد ہو رہے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ پاکستان کا صنعت کار صرف یورپ اور امریکہ پر دھیان دیتا ہے اور دنیا میں جو دوسری معیشتیں ہیں ان پر ان کی توجہ بہت کم ہے ورنہ کیا بات ہو سکتی ہے کہ پاکستان کا سرمایہ کار برازیل کی طرف توجہ نہ دے۔ برازیل کے ذریعے آپ پورے لاطینی امریکہ تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ میں نے کہا کہ رکاوٹیں کہاں ہیں؟  برازیل کے سفیر کہنے لگے کہ کووڈ کے بعد دنیا بہت زیادہ تبدیل ہو گی اور اسی طرح انڈسٹری بھی اپنے آپ کو بدلے گی۔ آپ دیکھ لیجیے گا کہ سرمایہ کار دنیا بھر سے خام مال خریدیں گے اور اسے اپنے ہاں مینوفیکچر کر کے فائدہ حاصل کریں گے اور پھر انہیں قوموں کو بیچیں گے جہاں سے خام مال خریدا ہے۔ دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تو کوالٹی سے کرنا ہو گا ۔ آپ کسی کو ایک بار خراب مال بیچ سکتے ہیں با ر با ر نہیں۔پاکستان اور برازیل کے درمیان تجارت نہ بڑھنے کی ایک بڑی وجہ کوالٹی کنٹرول کا نہ ہونا ہے۔ آپ کوالٹی پر توجہ دیں دنیا آپ پر توجہ دے گی۔ دنیا کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ جو شرٹ اس نے  پہنی ہے وہ پاکستان میں بنی ہے یا بنگلہ دیش میں، اسے غرض صرف اس بات سے ہے کہ وہ شرٹ کتنے کی ہے اور ا س کی کوالٹی کیا ہے؟ انہو ںنے بتایا کہ میں عمومی طور پر یہ بتا سکتا ہوں کہ پاکستان سے برازیل کو جب مال جاتا ہے تو پہلی ایک دو کھیپ ٹھیک ہوتی ہے اور اس کے بعد جو دکھایا جاتا ہے اس کے بالکل برعکس مال بھیجا جاتا ہے۔ جب کاروبار اس نفسیات کے ساتھ ہو رہا ہو تو وہ نہیں چلتا۔ پاکستان کے سرمایہ کار کو اس نفسیات کو تبدیل کرنا ہو گا۔ برازیل کے سفیر نے کہا کہ دنیا میں برازیل ایوی ایشن کے بانیوں میں سے ہے ہمارے لوگوں نے سب سے پہلے جہاز اڑایا تھا لیکن ایوی ایشن انڈسٹری پر ہم نے تیس سال پہلے کام شروع کیا اور آج ہم دنیا میں ائیر کرافٹ تیار کرنے والی سب سے بڑی انڈسٹریز میں سے ایک ہیں ۔ ہمارے تیار کردہ جہاز دنیا کے ہر کونے میں جا رہے ہیں۔ دنیا کی بڑی ائیر لائنز ہمارے جہازوں کو استعمال کر رہی ہیں۔ برازیل کے تیار کردہ مسافر طیارے امریکہ اور کینیڈا میں بہت مقبول ہیں۔ موٹرسازی کی صنعت، پٹرولیم اور پٹرولیم کی مصنوعات میں ہم نے بہت کام کیا ہے۔ تیل کے متبادل کے طور پر ہم نے ایتھانول کو متعارف کروایا آج برازیل میں ٹرانسپورٹ کا ایک بڑا حصہ ایتھانول پر چل رہا ہے۔ شوگر کین کو صرف چینی تک محدود نہ کر لیں، بائیو فیول کی طرف آئیں  اس سے چینی بھی ملے گی اور ٹرانسپورٹ کو چلانے کے لیے ایندھن بھی۔

ہمارے ارباب اختیار کو برازیل کی طرف توجہ دینا ہو گی ۔ ایک بڑی مارکیٹ ہماری تھوڑی سی توجہ کی منتظر ہے۔لاپروائی اور بے اعتنائی کے رویے کو ترک کر کے برازیل کے سفیر کی باتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ فوڈ سکیورٹی ہمارا مسئلہ ہے ، ہم اپنی ضروریات کے لیے ناکافی اناج پیدا کر رہے ہیں اور پھر ہمارا اناج افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک جاتا ہے۔ اس خطے کی ضروریات کو صحیح طور پر پورا کرنے کے لیے وہ سب کچھ اپنا نا ہو گا جو وقت کی ضرورت ہے ۔ دوسری صورت میں یہی ہو گا کہ لوگ آٹے کے ایک تھیلے پر جھگڑ رہے ہوں گے اور یہ منظر ہم نے دیکھا ہے۔ خدا کرے کہ ایسے مناظر پھر دیکھنے کو نہ ملیں۔برازیل بھی مشکل حالات سے نکل کر آج ایک بڑی معیشت بننے میں کامیاب ہوا ہے ۔ ظاہر ہے راتوں رات انقلاب برپا نہیں ہوتا اس کے لیے مسلسل محنت درکار ہے اور اسی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے اور آخر میں یہ ایک شعر 

وہ اپنی خو نہ چھوڑیں ہم اپنی وضع کیوں بدلیں

سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو