عربی حکایت…

عربی حکایت…

دوستو، آج حج اکبر ہے، اللہ پاک سے دعا کریں کہ وطن عزیز کو ہر طرح کی مصیبتوں، پریشانیوں، آزمائشوں سے نجات عطا کرے۔۔ آج کے دن کے حوالے سے آپ کی خدمت میں عربی حکایت سے منقول ایک تحریر پیش خدمت ہے۔۔ یہ تحریر ہمارے پیارے دوست نے ہمیں واٹس ایپ کی تھی، اسے لکھنے والے کا نام معلوم نہیں۔۔لیکن اس تحریر نے دل کوچھولیا۔۔آپ بھی یقینی طور پر اسے پسند کریں گے۔۔

شام کے صدر حافظ الاسد کا زمانہ تھا، دارالحکومت دمشق کا معروف تاجر رات کے پچھلے پہر سڑکوں پہ ٹہل رہا تھا ،موسم خوشگوار ہونے کے باوجود اس کا دم گھٹا جارہا تھا،کیوں کہ ڈاکٹروں نے اسے آگاہ کردیا تھا کہ اس کے پاس صرف ہفتہ یا دس دن کا ٹائم ہے۔ دنیا کی ہر آسائش کے ہوتے ہوئے بے بسی کا یہ عالم تھا کہ ٹائم سے پہلے ہی سب کچھ ختم ہوتا محسوس ہورہا تھا،ڈاکٹر جواب دے چکے تھے،ایک ننھی سی امید تھی کہ شاید امریکا میں علاج ممکن ہے لیکن وہاں بھی کئی مہینے ٹیسٹ وغیرہ کرانے کے بعد سینئر ترین ڈاکٹر نے ایک دن آکرنرمی سے سمجھایا کہ آپ کے پا س زیادہ وقت نہیں،اس لئے مشورہ ہے کہ باقی کاقیمتی وقت اپنی فیملی کے ساتھ گزارو۔۔رات کے اس پہر بے خبری کے عالم میں نہ جانے کتنی دیر ٹہلتا رہا، اس کی سوچوں کا تسلسل تب ٹوٹا جب ٹہلتے ٹہلتے وہ ایک تنگ سے بے رونق پل پر پہنچ چکا تھا، سڑک پار دوسری طرف اسٹریٹ لائٹ کے نیچے ایک خاتون کھڑی کسی آدمی سے گفتگو کر رہی تھی۔تیس سال کے لگ بھگ خاتون کا انداز منت سماجت والا تھا جبکہ بندہ اوباش قسم کا تھا جو کہ اس کی بات نہیں مان رہا تھا اس کے چلنے کی رفتار خودبخود آہستہ ہوگئی، کانوں میں جب آواز پہنچنا شروع ہوئی تو خاتون کہہ رہی تھی خدا کیلئے مجھے اتنے پیسوں کی ضرورت ہے بچے بھوکے ہیں، میں تمہارے ساتھ چلنے کیلئے تیار ہوں، جبکہ وہ اوباش اس خاتون کی قیمت آدھی سے بھی کم دینا چاہ رہا تھا ۔۔ پھر وہ کندھے اچکاتا ہوا چل پڑا اور خاتون حسرت کی تصویر بنی کھڑی رہ گئی۔

وہ تھوڑا آگے جاکر مڑا، اور خاتون کی طرف چل دیا ،اسے نزدیک آتا دیکھ کر خاتون چوکنی ہوگئی امید بھری نظروں سے قریب آتے کو دیکھنے لگی، نزدیک پہنچنے سے پہلے خاتون آگے بڑھی، اس کا انداز ایسا تھا کہ جیسے اپنے آپ سے زبردستی کررہی ہو۔اس نے قریب پہنچ کر سلام کیا خاتون نے مصنوعی مسکراہٹ کیساتھ جواب دیا اور قریب ہوکر پوچھا کیا موڈ ہے؟وہ پیچھے ہٹا اور نرمی سے کہا۔۔نہیں ایسی کوئی بات نہیں، دراصل میں نے گذرتے ہوئے تمہاری اس آدمی کے ساتھ تھوڑی سی گفتگو سنی ہے مجھے بتاؤ میری بہن تمہارا کیا مسئلہ 

ہے؟اس طرح پوچھنا تھا کہ خاتون جو مضبوط دکھائی دینے کی کوشش کر رہی تھی یکدم روہانسی ہوگئی بولی، بھائی قسم ہے اس ذات کی جو ہماری گفتگو سن رہا ہے میں اس قسم کی عورت نہیں جو اس وقت گھر سے نکل کر سڑک پہ کسی کا انتظار کرے ۔مگر میں بہت مجبوری کے عالم میں اس وقت اس جگہ پہ ہوں۔ تاجر کو لگا کسی نے اس کا دل مٹھی میں لے لیا ہو۔ اس نے مزید نرمی سے کہا ،دلوں کا حال تو اللہ جانتا ہی ہے بہن مجھے بتاؤ کیا بات ہے؟ بولی ،میں ایک بیوہ عورت ہوں میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ،شوہر کو فوت ہوئے سال ہونے کو ہے شروع میں تو پڑوسی رشتے دار کچھ مدد کردیتے تھے پھر آہستہ آہستہ سب نے ہاتھ کھینچ لیا گھر میں راشن نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔مالک مکان کا صبر بھی ختم ہوگیا، اس نے کل شام تک آخری مہلت دی ہے اگر کرایہ نہ دیا تو سامان سمیت گھر سے نکال دے گا،میرے پاس اب اور کوئی چارہ نہیں رہا سوائے کہ اپنے آپ کو۔۔یہ کہتے ہوئے اس کی آواز بیٹھ گئی، اس نے بھی جلدی سے دوسری طرف مڑکر بہانے سے اپنے آنسو صاف کیئے پھر مڑکر جلدی سے بولا، بس بس ٹھیک ہے بہن کوئی بات نہیں اور اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈالے تو پتہ چلا کہ جیبوں میں جو رقم ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ جس عالم میں وہ نکلا تھا اسے تو ہوش ہی نہیں تھا۔ اس نے خاتون سے کہا، فی الحال یہ رکھو اور مجھے اپنا ایڈریس بتاؤ، فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، اپنے گھر جاؤ ان شاء اللہ سب ٹھیک ہو جائیگا، خاتون بے یقینی کے انداز میں اس کی طرف دیکھ رہی تھی جیسے سوچ رہی ہو کہ اس پر بھروسہ کرے کہ نا کرے۔اس نے پھر سے یقین دہانی کرائی کہ، تم جاؤ اور ایڈریس بتا دو،خاتون نے ایڈریس بتایا اور ایک طرف کو چل پڑی۔۔

تھوڑی دیر تک خاتون کو جاتادیکھنے کے بعد وہ مڑا اور واپسی کی طرف تیزی سے قدم اٹھانے لگا گھر پہنچ کر اس نے کافی مقدار میں نقدی لی اور ڈرائیور کو بڑی وین نکالنے کو کہا، پھر خود ڈرائیو کرتے ہوئے شہر کے چوبیس گھنٹے کھلے رہنے والے ا سٹور سے راشن کی بڑی مقدار وین میں بھری اور خاتون کے بتائے ہوئے ایڈریس پہ پہنچ کرسارا راشن اس کے گھر اتارا، باقی کی رقم خاتون کو دی اور کہا، صبح مالک مکان سے وہ خود بات کرکے کرائے کا معاملہ نمٹا دیگا اور ہر مہینے مخصوص رقم آپ تک پہنچا دی جائے گی۔ یہ کہہ کر جلدی سے بناکچھ کہے سنے واپس مڑگیا، خاتون بت بنی بے یقینی کے عالم میں کھڑی آنسوؤں بھری نگاہوں سے دیکھتی رہ گئی اور وہ وین سمیت نظروں سے اوجھل ہوگیا۔تاجرکی کیفیت اب کافی مختلف تھی اس کے انگ انگ میں خوشی پھوٹ رہی تھی کچھ گھنٹوں پہلے جواس کی حالت تھی وہ یکسر بدل گئی تھی، اب اسے ہفتہ دس دن گزارنے کی جو فکر تھی وہ تھوڑی کم ہوگئی تھی۔ ہفتہ دس دنوں کا خیال آتے ہی اس نے کاغذ قلم لیکر خاتون کا ایڈریس لکھ کر وصیت لکھی کہ ہر ماہ باقاعدگی سے 4 لوگوں کے معقول سے بڑھ کر خرچے کی رقم اس ایڈریس پہ بھجوائی جائے اور وہ کاغذ لفافے میں بند کرکے تجوری میں رکھ دیا اب اسے لگ رہا تھا کہ اپنے آخری سفر کیلئے تیار ہے۔ پھر ہفتہ گزر گیا اور دس دن گزر گئے پھر مزید دس اور پورے پندرہ دن گزر گئے گھر والوں کے کہنے کے باوجود وہ ہسپتال نہیں گیا اور پھر پورا مہینہ گزرگیا اور اگلے مہینے کی رقم بھی اس نے فوراً بھجوا دی۔پھر پتہ بھی نہیں چلا پورا سال گزرگیا۔ پورے بیس بیس سال گزرجانے کے بعد ایک رات وہ معمول کے مطابق تہجد کے لئے اٹھا،وضو کرکے تہجد شروع کی اور سجدے میں ہی خالق حقیقی سے جاملا۔

یہ سچا واقعہ یہاں ختم نہیں ہوتا اصل خلاصہ تو اب آنا ہے۔گھر والے جب صبح اٹھے تو اس کو سجدے کی حالت میں مردہ پایا، افسوس کے ساتھ ساتھ گھر والوں کو اس بات کی خوشی بھی تھی کہ مبارک موت ہوئی ہے، تکفین و تدفین کے بعد اولاد کا تجوری اور وصیت کھولنے کا وقت آیا تو وہ بند لفافہ بھی نکل آیا جو بیس سال پہلے کی تاریخ کا ان کے والد کے ہاتھ کا لکھا تھا اور اس کا مطلب تھا اس لکھے گئے ایڈریس پہ20سال سے رقم دی جاتی رہی ہے لفافہ پڑھنے کے بعد انکو پتہ چلا کہ والد صاحب کو فوت ہوئے سات دن ہوگئے ہیں جو کہ تکفین و تدفین اور رشتے دار لوگوں کے ملنے ملانے میں نکل گئے اور وصیت کے مطابق رقم کی ادائیگی سات دن لیٹ ہوگئی ہے۔رقم لیکر وہ لوگ اس ایڈریس پر پہنچے ،دروازہ کھٹکھٹانے پر خاتون باہر آئی ،سلام دعا کے بعد تاجر کے بڑے لڑکے نے خاتون سے مؤدب انداز میں کہا کہ، ہم آپ کو والد صاحب کی طرف سے جو ماہانہ مخصوص رقم ہے وہ دینے آئے ہیں اور معذرت چاہتے ہیں کہ رقم کی ادائیگی سات دن لیٹ ہوگئی وہ اصل میں۔۔۔خاتون نے لڑکے کی بات کاٹتے ہوئے جلدی سے کہا۔۔ ارے نہیں نہیں ،کوئی بات نہیں آپ کے والد صاحب کے ہم پر بہت احسانات ہیں آپ لوگ میری طرف سے والد صاحب کو بہت بہت شکریہ بولئیے گا اور انہیں بتائیے گا کہ ہم ہمیشہ انہیں دعاؤں میں یاد رکھتے ہیں اور رکھیں گے اور میری طرف سے انہیں بتائیے گا کہ اب رقم بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بیٹا حیرانگی سے بولا کیوں؟ اب کیوں نہیں ہے ضرورت رقم کی؟۔خاتون نے خوشی کے آنسوؤں میں ملی آواز میں جواب دیا۔۔ اللہ کے فضل سے مہینہ پہلے میرے بڑے بیٹے کی ملازمت لگی تھی اور سات دن پہلے ہی بیٹے کو اس کی پہلی تنخواہ ملی ہے۔خاتون روانی میں پتہ نہیں کیا کیا بولے چلے جا رہی تھی جب کہ لڑکوں کے کانوں میں خاتون کا یہی جملہ اٹک کر رہ گیا۔۔ ’’سات دن پہلے ہی میرے بیٹے کو اس کی پہلی تنخواہ ملی ہے‘‘۔

مصنف کے بارے میں