سپریم کورٹ نے 54 ارب کا قرضہ معاف کرانے والی کمپنیوں سے حساب مانگ لیا ؟

سپریم کورٹ نے 54 ارب کا قرضہ معاف کرانے والی کمپنیوں سے حساب مانگ لیا ؟
فوٹو بشکریہ فیس بک

 اسلام آباد: عدالت عظمی نے 54 ارب روپے کا قرضہ معاف کرانے والی 222 کمپنیوں سے ایک ہفتے میں تفصیلی جواب طلب کرلیا۔


چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل پر مشتمل تین رکنی بینچ نے قرضہ معافی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قوم کے 54 ارب روپے کھانے کے باوجود کمپنیاں تاحال کام کر رہی ہیں، انہوں نے پیسے بھی ہضم کرلیے لیکن لینڈ کروزر اور کاروبار چل رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر قوم کے پیسے واپس نہ کیے تو معاملہ نیب کے حوالے کردیں گے اور قرض نادہندگان کی جائیدادیں بھی ضبط کردی جائیں گی۔ دوران سماعت فریقین کے وکلا کی جانب سے کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی، جس پر چیف جسٹس نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اس اہم کیس کو ملتوی نہیں کرسکتا، روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت ہوگی۔

فاضل عدالت میں وکلا کی جانب سے استدعا کی گئی کی سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ( ایس ای سی پی ) کے ذریعے کمپنی کو نوٹسز دیئے جائیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پبلک نوٹس کردیا ہے، اگر کوئی نہیں آتا تو اپنی ذمہ داری پر مت آئے، جو کمپنیاں نہیں آئیں گی ان کے خلاف یکطرفہ کارروائی ہوگی۔ بعد ازاں عدالت نے 222 کمپنیوں سے ایک ہفتے میں جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 19 جون تک ملتوی کردی۔

یہ خبر بھی پڑھیں: ہماری سرحدوں کے قریب ہی دہشتگردوں کو تربیت فراہم کی گئی: جنرل زبیر محمود حیات

  

یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ سماعت میں عدالت نے تمام کمپنیوں کو عدالت میں پیشی کے لیے نوٹس جاری کیے تھے۔ جسٹس ریٹائرڈ جمشید کمیشن نے خلاف ضابطہ قرضے معاف کرانے والی 222 کمپنیوں کے خلاف مزید کارروائی کی سفارش کی تھی۔ کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ222 کمپنیوں نے 18 اعشاریہ 717 ارب کا قرضہ لیا اور قرضے کی رقم کا 8 اعشاریہ 949 ارب روپے واپس کیے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں